Banner
Daily Sahafat Quetta
October 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ہم ترقی کے مخالف نہیں، پہلے موجودہ نہر کو محفوظ بنایا جائے، پہاڑپور کے کسانوحید منظر کی ذوالفقار علی سے ملاقات، پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن میں شمولیت کی دعوتعوام کو ریلیف اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومتی ترجیح ہے، چوہدری نعیم کریمکشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، راجپوت محب مہم پاکستانایس پی انویسٹی گیشن مردان ماریہ مصطفیٰ کی دی پاکستان پریمیئر کالج میں تقریب میں شرکتڈپٹی کمشنر گوہر علی خان کی نگرانی میں بٹگرام بازار میں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاریکندھ کوٹ میں یومِ سیاہ کشمیر پر ریلی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مسرور احمد بجارانی کی قیادتکان مہترزئی کے انٹر کالج میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب، طلباء کی پُرجوش تقاریرمسلم باغ میں یومِ سیاہ کشمیر پر ریلی، اسسٹنٹ کمشنر ماجد سلیم سمیت شہریوں کی شرکتایس ای صادق علی بگٹی کی مسلم باغ آمد، واپڈا ہائیڈرو یونین کے عہدیداروں سے ملاقاتہم ترقی کے مخالف نہیں، پہلے موجودہ نہر کو محفوظ بنایا جائے، پہاڑپور کے کسانوحید منظر کی ذوالفقار علی سے ملاقات، پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن میں شمولیت کی دعوتعوام کو ریلیف اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومتی ترجیح ہے، چوہدری نعیم کریمکشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، راجپوت محب مہم پاکستانایس پی انویسٹی گیشن مردان ماریہ مصطفیٰ کی دی پاکستان پریمیئر کالج میں تقریب میں شرکتڈپٹی کمشنر گوہر علی خان کی نگرانی میں بٹگرام بازار میں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاریکندھ کوٹ میں یومِ سیاہ کشمیر پر ریلی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مسرور احمد بجارانی کی قیادتکان مہترزئی کے انٹر کالج میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب، طلباء کی پُرجوش تقاریرمسلم باغ میں یومِ سیاہ کشمیر پر ریلی، اسسٹنٹ کمشنر ماجد سلیم سمیت شہریوں کی شرکتایس ای صادق علی بگٹی کی مسلم باغ آمد، واپڈا ہائیڈرو یونین کے عہدیداروں سے ملاقات

سینیٹ کمیٹی کی وفاقی حکومت کو 2 ہفتوں کے اندر 2 درجن وزارتیں و محکمے بند کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: 18ویں ترمیم پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے والی سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ دو ہفتوں کے اندر تقریباً 2 درجن وزارتیں اور محکمے بند کیے جائیں یا انہیں صوبوں کے حوالے کیا جائے۔

کمیٹی نے وفاقی حکومت کو مشترکہ مفادات کونسل کی ازسرنو تشکیل، ایک درجن اداروں کی منتقلی اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس کی صدارت سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کی۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی دائرہ اختیار کے معاملات وفاق کے پاس نہیں رہنے چاہئیں، جبکہ غیر ضروری وزارتوں اور اداروں کے باعث سرکاری اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کمیٹی نے صحت، تعلیم، فوڈ سیکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، ہاؤسنگ، ریلوے، پٹرولیم، صنعت، منصوبہ بندی سمیت متعدد شعبوں سے متعلق وزارتوں اور اداروں کی منتقلی یا خاتمے کی سفارش کی۔

سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کے مطابق وفاقی اخراجات میں کمی اور آئینی اختیارات کی درست تقسیم کے لیے نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیبنٹ ڈویژن 15 روز بعد عملدرآمد رپورٹ پیش کرے۔

کمیٹی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور صوبوں کی رضامندی کے بغیر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

کمیٹی کے مطابق بجلی، گیس، پٹرولیم اور دیگر اہم شعبوں کی نگرانی میں مشترکہ مفادات کونسل کو مؤثر کردار دیا جانا چاہیے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ان سفارشات پر وفاقی حکومت کی جانب سے مزاحمت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *