Banner
Daily Sahafat Quetta
August 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان کے نامور باکسر عبدالغنی مینگل کی اچانک وفات افسوسناک ہے، سردار منظور احمد کاکڑبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدیسید نصرت آغا کے انتقال پر سردار منظور احمد خان کاکڑ کا اظہار تعزیتبلوچستان کے نامور باکسر عبدالغنی مینگل کی اچانک وفات افسوسناک ہے، سردار منظور احمد کاکڑبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدیسید نصرت آغا کے انتقال پر سردار منظور احمد خان کاکڑ کا اظہار تعزیت

طاقت کا ہتھکنڈہ، جَبر اور ہراس کا طلسم

احمدخان اچکزئی

طاقت کا ہتھکنڈہ، جَبر اور ہراس کا طلسم

محترم قارئین، میرے خیال میں لوگوں کو قابو میں رکھنے کے دو طریقے ہیں۔ سب سے پہلے، لوگوں کو ڈرانا، اور دوسرا، ان کے حوصلے پست کرنا۔ ایک غیر تعلیم یافتہ، صحت مند اور پر اعتماد قوم پر حکومت کرنا مشکل ہوتا ہے اور میرے خیال میں کچھ لوگوں کی سوچ میں یہ عنصر پایا جاتا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ لوگ تعلیم یافتہ، صحت مند اور پر اعتماد ہوں، کیونکہ وہ قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ دنیا کی آبادی کا سرفہرست 1 فیصد حصہ دنیا کی 80 فیصد دولت کا مالک ہے۔ یہ ناقابل یقین ہے کہ لوگ اسے برداشت کرتے ہیں۔ لیکن وہ غریب ہیں، ان کے حوصلے پست ہیں، وہ خوفزدہ ہیں، اور اس لیے وہ یہ سوچتے ہیں کہ شاید سب سے محفوظ کام یہ ہے کہ احکامات مانے جائیں اور اچھے کی امید رکھی جائے।یہ مقالہ انسانی معاشروں پر مسلط اس نامرئی پنجرے کا احاطہ کرتا ہے جسے طاقتور طبقات نے صدیوں کی محنت سے تعمیر کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی حکمران طبقے کو اپنی کرسی لرزتی محسوس ہوئی، اس نے ہمیشہ دو ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے، خوف اور ذہنی شکست خوردگی۔ خوف ایک ایسا جذباتی زہر ہے جو انسان کی قوتِ فیصلہ کو مفلوج کر دیتا ہے۔ جب ایک فرد، ایک گروہ یا ایک پوری قوم کو مستقبل کے نامعلوم اندیشوں، بیرونی جارحیت یا اندرونی خلفشار کا ڈر دکھایا جاتا ہے، تو وہ اپنی آزادی کی قیمت پر تحفظ خریدنے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں حکمران طبقہ اپنے پنجے گاڑتا ہے، دوسری جانب، حوصلہ شکنی کا عمل اس سے بھی زیادہ مہلک ہے۔ یہ خاموشی سے انسانی ذہن کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب لوگوں کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ ان کی محنت رائیگاں ہے، ان کی آوازیں بے اثر ہیں، اور نظام کو بدلنا ناممکن ہے، تو وہ خود بخود اپنی جدوجہد ترک کر دیتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے جسے سیکھی ہوئی بے بسی کہا جا سکتا ہے۔ جب کوئی قوم تعلیم کی روشنی سے محروم کر دی جاتی ہے، تو وہ اپنے حقوق کی شناخت کھو دیتی ہے۔ تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں، یہ اپنی حیثیت کو پہچاننے کا نام ہے۔ ایک باخبر اور تعلیم یافتہ فرد سے جھوٹ بولنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے طاقت کے مراکز ہمیشہ ایسے تعلیمی نظام کے خواہاں ہوتے ہیں جو تنقیدی سوچ کے بجائے اطاعت گزار سپاہی پیدا کرے۔دنیا میں دولت کی یہ غیر مساوی تقسیم کہ 1 فیصد لوگ 80 فیصد وسائل پر قابض ہیں، محض ایک معاشی حادثہ نہیں ہے۔ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ یہ نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ دولت اوپر کی طرف سفر کرتی ہے جبکہ ذمہ داریاں نیچے کی طرف منتقل ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت کہ لوگ اس تضاد کو برداشت کر رہے ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ کنٹرول کا طریقہ کار کس قدر گہرا ہے۔ لوگ اسے برداشت نہیں کرتے کیونکہ وہ اسے جائز سمجھتے ہیں، بلکہ وہ اس لیے برداشت کرتے ہیں کیونکہ ان کی ہمت ٹوٹ چکی ہے۔خوفزدہ انسان اپنے گھر کی دیواروں سے باہر دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔ حوصلہ ہار چکا شخص اپنی زنجیروں کی آواز سننا بند کر دیتا ہے۔ جب کسی معاشرے کی اکثریت بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو، تو اسے جمہوریت یا انصاف جیسے تصورات سے کوئی سروکار نہیں رہتا۔ وہ صرف اگلے دن کا رزق اور اگلے لمحے کا سکون چاہتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس میں طاقت کے ایوان اپنے محل تعمیر کرتے ہیں۔
حقیقی تبدیلی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب خوف کی زنجیریں ٹوٹ جائیں اور حوصلے دوبارہ زندہ ہوں۔ تاریخ کے تمام بڑے انقلابات اسی وقت برپا ہوئے جب لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ احکامات ماننا اور اچھے کی امید رکھنا اصل میں غلامی کا دوسرا نام ہے۔ جب ایک معاشرہ یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ ڈرنے کے بجائے سوال کرنا سیکھے گا اور ناامیدی کے بجائے اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہوگا، تبھی یہ فرسودہ نظام اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ طاقتور کبھی بھی لوگوں کو بااختیار بنانا نہیں چاہتے کیونکہ ایک باشعور قوم، حکمرانوں کی بادشاہت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے۔
اس لیے، سوال یہ نہیں ہے کہ ہمیں کون کنٹرول کر رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے کنٹرول ہونا کیوں قبول کر لیا ہے؟ جس دن ہم نے اپنی تعلیم کو اپنی آزادی کا ذریعہ بنایا، اپنی صحت اور اعتماد کو اپنے حقوق کی ضمانت سمجھا، اسی دن دنیا میں تبدیلی کا سورج طلوع ہوگا۔ طاقت کا یہ طلسم تب تک برقرار رہے گا جب تک ہم اسے اپنی خاموشی سے تقویت دیتے رہیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *