Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلو اکانومی پاکستان کے معاشی استحکام کی نئی امیدطالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زوربلو اکانومی پاکستان کے معاشی استحکام کی نئی امیدطالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زور

افغانستان، آزادی و ملی ارمانوں کی تکمیل سے کب بہرور ھوگا ؟؟؟

افغانستان،
آزادی و ملی ارمانوں کی
تکمیل سے کب بہرور ھوگا ؟؟؟
،،یوم استقلال،،
طالبان کے امارت اسلامیہ کے
پس منظر میں
افغان یوم آزادی پر
خصوصی تحریر وتجزیہ،،،

عبدالمتین اخونزادہ،
ملجس فکر و دانش،،
پاک افغان ایران
اقبال
ڈائیلاگ ریسرچ
اینڈ ڈیولپمنٹ فورم
(unreath17@gmail.com)

اگست کا مہینہ،
برصغیر و افغانستان میں
تاریخی اہمیت کا حامل مہینہ ہے
19 اگست 1919ء کو
برطانیہ/ انگلستان کی
نیم غلامی سے افغانستان کے
جرات مند اور فہمیدہ بادشاہ
خان امان اللہ خان نے
خود مختاری کا اعلان کیا اور
اسی دن کو افغانستان کی
قومی آزادی کے طور پر
منانے کی روایت ڈالی، اور اب
پندرہ اگست کو طالبان کے فتح کے بعد
یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے ـ
چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو
مملکت خداداد پاکستان کی آزادی کا اعلان ستائیس رمضان المبارک کو ہوا اور
پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کو
ہندوستان کے آزادی کے
اعلان کے طور پر
مناتے ہیں ایران اور چائنا
دونوں نظریاتی ممالک ہیں،،
یہ انقلابات اور ترقی کے دن مناتے ہیں ،،،
ترکی،
کمال اتاترک کے
دور آمریت و فسطائیت سے نکل کر
آزاد جمہوری و اخوانی انقلاب کی راہ پر گامزن ہے ،،
بنگلہ دیش کی
یوم آزادی 16 دسمبر کو منائی جاتی ہے،
جب پاکستان میں بنگالی عوام سے نا انصافی اور جدائی پر ماتم کیا جاتا ہے ،،،
اگرچہ اگست میں بے شمار واقعات ہوئے ہیں مگر 08 اگست 2016ء کا دن
کوئٹہ کی حالیہ تاریخ میں
ایک المناک سیاہ دن ہے ،جب
کوئٹہ کی وکلاء قیادت کو
ایک منصوبے کے تحت
سول ہسپتال کوئٹہ میں
تختہ مشق بنا ئے گئے ،،
پشتون قوم پرست،
12 اگست کو بابڑہ کے
شہدا کے نام پر یوم سیاہ مناتے ہیں،،
بلوچ قوم پرست ،
محب وطن پاکستانی نواب و رہنما
نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کا دن
26 اگست کو مناتے ہیں،،،
اگرچہ 26 اگست 1941ءکو
تقسیم برصغیر سے پہلے
مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی تھی ،
اور اگست ہی میں
جمال عبد الناصر نے مصر میں
فرعونی و فوجی آمریت نے
اسلام کے بطل حریت اور
قرآن حکیم کے عظیم مفسر و شارح
اور جمہوری آزادیوں کے علمبردار
سید قطب شہید کو پھانسی دی گئی،،
اگست کے ان تمام واقعات میں سے
سردست ھم افغانستان کے
جمہوری آزادی اور خپلواکی پر نظر ڈالتے ہیں-

افغانستان حریت و قبائیلت کا مرکز رہا اور تاریخ کے تمام ادوار میں قابض و ظالم قوتوں کا مقابلہ کرکے اپنی خپلواکی او آزادی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں ،،،
انگریزوں کی برصغیر پر
قبضے و بادشاہی کے دوران بھی
افغانستان عملاً آزاد رہا،،اگرچہ
انگریز استعمار نے قبضہ گری کے
تمام حربے استعمال کئے
تاریخ شاہد ہے کہ افغانوں نے
ہمیشہ حریت کو ترجیح دے کر
اپنے مادر وطن کے تحفظ کا حق ادا کیا ہے ،،،
ماضی کی
طویل تاریخ اور افسانوی کردار کے
بیان کے بجائے ہم بیسویں اور
اکیسویں صدی کے افغانستان کا
جائزہ لیتے ہیں ،،
جب علمی نظریات کی پختگی
اور
ٹیکنالوجی و سائنسی علوم نے
اقوام عالم کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا،
تب افغانوں کے لئے
ممکن نہ رہا کہ وہ
اپنے حریت افغانی اور
قبائلیت کوہستانی سے
آزاد اور بدلتے ہوئے دنیا کی تبدیلیوں میں پراگندگی و نظریاتی لڑائیوں سے بچ نہ پائےـ

اسلامی دنیا کے جمود اور
وقت و حالات کے بدلتے ہوئے
ضروریات کے مطابق فطری و الہامی ہدایت ،تعلیمات اور وحی الہی کی
تشریحات نہ ہونے کے باعث مسلم امہ،،
اقوام عالم کے صف میں نظریاتی و فکری ضعف کا شکار رہا اور بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں نظریاتی اور فکری مباحث میں اپنا وزن کھو بیٹھے،،
اس اہم تر
علمی و نظریاتی نقصان سے
سب سے زیادہ افغانستان کا
قبائلی و دیہی معاشرہ متاثر رہا ،،،
معاشروں میں افراط و تفریط کا
تناسب اپنے ممکنہ و مناسب حد سے
بڑھ جائیں تب المناکی اور
خطرناک نتائج مرتب ھوتے ہیں،
انیسویں صدی کے اواخر اور
بیسویں صدی کے اوائل و اواخر کا
مطالعہ کیا جائے تو افغانستان کے
دیہی و شہری آبادیوں میں
نظریاتی و سماجی بعد پیدا ہو چکا تھا-
دیہی معاشرے اپنے سادہ و پختہ نظریات و قبائلیت پر مضبوطی سے جمے رہیں اور
شہری آبادیاں دنیا عالم کے نظریاتی مباحث اور تبدیلیوں سے متاثر ہو کر
ذہنی و فکری انقلاب کی نقیب ٹھہرے،،

افغان دانشوروں نے
تاریخ کے اس نازک ادوار میں
اپنے معاشروں کی گہرائی سے
آزادانہ تجزیہ کرنے اور حالات کی
نزاکتوں کے پیش نظر نسخہ ءشفاء و دوا تجویز کرنے کے بجائے باہم الجھ گئے –
یوں ہم دیکھتے ہیں اور
تاریخ اس کا بے رحم تجزیہ کرتی ہے،
کہ افغانستان میں
سرخ نظریات کی پرچار سے لے کر
عملاً افغان ثور انقلاب اور
روسی افواج کی مداخلت کا دورانیہ
افغان معاشرے کے انتہا پسندانہ ادوار میں شمار ہوتا ہے جب نظریاتی حملہ آوروں نے دونوں اطراف سے روایتی قبائلی معاشرے کو تہہ و بالا کرنے میں عملی و روایتی پختگی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انتہاپسندانہ اقدامات اٹھائیں یوں افغان معاشرہ واضح طور پر
دو متضاد اور انتہائی انتہاپسندانہ رویوں میں منقسم ہو کر جلنے اور مرنے پر آمادہ ہو گیا اور 1970 سے لے کر
2020 50 سال یعنی
پوری نصف صدی بارود کی آگ میں
دونوں نظریات کے حامل گروہوں نے
اپنے آپ کو جلانے پر آمادہ کیے ہوئے ہیں ،،
اگرچہ نصف صدی بلکہ
پوری ایک صدی انیس سو انیس
سے لےکر 2019 ء2020 ء تک
افغانستان، برطانیہ، مقبوضہ ہندوستان ،سوویت یونین، روس, امریکا ،پاکستان و ایران اور سعودی عرب و ترکی سمیت چائنا, نیٹو و ایساف کے ممالک اور دنیا جہان کے تمام ممالک نے اپنے اپنے نظریاتی ،فوجی، معاشی اور ثقافتی مفادات و ترجیحات کے خاطر کھلم کھلا اور بھرپور مداخلت جاری رکھی ہے اور آج بھی
افغانستان کے مظلوم ،محکوم اور
دربدر خاک بسر عوام ،نوجوان ،
مرد و خواتین اور بچے اور بوڑھے
فریاد کناں ہےکہ آخر کار دنیا عالم نے
ہمارے گھرو مسکن کو اپنے
نظریاتی و فوجی اور معاشی و ثقافتی مفادات کے حصول کا مرکز کیوں بنایا ہیں؟؟؟

افغانستان کے
پر افتخار تاریخ کے
المناک داستانوں میں سے
دو حصے اہم تر ہیں،،
ایک کا تعلق
خود افغانوں اور افغان معاشرے سے ہے،
جبکہ دوسرے حصے کا تعلق
دنیا عالم کے اقوام ونظریات سے ہیں-
افغانوں کو
طویل جنگ آزادی اور
خانہ جنگیوں کے بعد
سمجھنا ہو گا کہ
انھیں حالات اور واقعات کا
ادراک کرتے ہوئے بدلتے ہوئے دنیا سے
ہم آہنگ ہونے اور سیکھنے کی ضرورت ہے،
یہ وہی نقطہ ءذرین ہے جب
مفکر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے
انیس سو سینتیس 1937ء میں
دورہ کابل کے موقع پر
اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے
فرمایا تھا کہ
افغانستان کو ایک ایسے مرد حر کی
ضرورت ہے جو انہیں قبائلئت سے
نکال کر علمی دنیا سے ہم آہنگ کر سکیں -،

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے
فرمایا کہ
میں ایک نکتہ اور بھی
کہنا چاہتا ہوں کہ مولیسنی نے
ایک اچھا نظریہ قائم کیا کہ
اٹلی کو چاہیے کہ اپنی نجات حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ پتی کو پیدا کریں جو اس ملک کے گریبان کو اینگلوسیکسن اقوام کے قرض سے نجات دلا سکے یا کسی نئے کولمبس کو پیدا کرے جو ایک نئے براعظم کا پتہ لگائے،،
اگر آپ مجھ سے
دریافت کریں تو میں
کہوں گا کہ
افغانستان کو ایک ایسے
مرد کی ضرورت ہے جو اس ملک کو
قبائلی زندگی سے نکال کر
وحدت ملی کی زندگی سے آشنا کر سکیں –

تاریخ کے المناک حقائق،
نظریاتی مباحث اور افغانستان کے
حالیہ ایک صدی کے فکری کشمکش
و نصف صدی کے زور دار جھگڑوں میں سے سب سے اہم اس وقت
ایک اجتماعی قیادت و شعور کی
بیداری و تشکیل ہے جو افغانوں کو
تاریخ کی سحر،
نظریات کے بے جاء اسیری
اور خود قبائلی سخت گیر ی سے
نکال کر آزاد علمی دنیا کی روش سے
آشنا کر سکیں،،

21 ویں صدی کا
اکیسویں سال 2021ء،
جہاں عالم انسانیت کے لئے
کروانا جیسے موذی و خطرناک
وائرس کی وبا لے کر آئی ہے وہی
یہ سال افغانوں کے لئے
امن و آشتی کا مبہم شمع اور
مغموم پیغام لے کر آئے ہیں جسے اب
افغانوں نے اپنی خداداد بصیرت اور
اعلی ظرفی کے ساتھ پورے روشن
چراغ میں بدلنا ہے ،،

افغان قیادت کے
تمام دھڑوں اور بطور خاص
طالبان کے اپنے نظریات کے ساتھ
اس وقت ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے،
کہ وہ دانش و بصیرت کا
مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخ کے
اس نازک گھڑی میں اپنا کردار
درج ذیل پانچ نکاتی
فریم ورک کی روشنی میں ادا کریں ـ
,01:؛
افغانوں کا سب سے
اہم مسئلہ ہمیشہ بیرونی قوتوں سے
لڑائی اور مذاکرات نہیں رہے بلکہ
بین الاافغانی مذاکرات رہے ہیں ،،،
افغانوں کی آپس میں
اعتماد اور سمجھداری کے
مظاہرہ کے لئے بھر پور توانائی
پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ
ایک دوسرے پر اعتماد اور
اطمینان کے پیشِ نظر وقت کا
مزید ضیاع نہ ہو اور بے سہارہ ولاتعلق
افغانوں کا مزید سرخ خون نہ بہیں ـ
اگرچہ قریب کے سالوں میں
افغان حکومت اور حزب اسلامی افغانستان کے جرات مندانہ قیادت نے بین الاافغانی مذاکرات میں کامیاب پیش رفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قابل قبول اور قابل احترام معاہدہ کیا تھا جس پر آج بھی گلے شکوے کے باوجود طالبان قیادت و امارات کو قائم رہنا چاہیے ـ

طالبان،اس وقت مشکل اپنے مشکل ترین دور سے گذر رہے ہیں پاکستان کے ساتھ تعلقات ختم ہو کر رہ گئے ہیں دوبارہ نئے سرے سے افغانستان میں لڑائیوں اور بغاوتوں کی خبریں گردش میں ہیں
اس پورے پس منظر میں
طالبان کو اپنے صلاحیتوں کے
امتحان کے پیشِ نظر
بھر پور شرکت اور توانائی کے حامل
مزاکرات اور مستحکم و مضبوط
حکومت کی تشکیل و تعمیر نو کے لئے
اپنے ممکنہ خود مختار حیثیت کے تعین،
ملت کی خپلواکی او آزادی برقرار رکھنے
کے لئے نئے منظر تشکیل دینے ھونگے،،
02ـ::
سب سے
اہم ترین نکتہ
اعتماد سازی کا ہے،
ایک ایسے فریم ورک اور
غالب کی تشکیل،جس کے
حدود کار میں
تمام بنیادی فریقین
اپنے قوم و وطن کے لئے
سلامتی اور استحکام کے
دروازے کھول سکیں –
03:؛
افغانوں کے اندر
باصلاحیت افراد اور
اھل علم و ہنر کی کمی نہیں ہیں،
اس وقت افغانستان سے
باہر افغان قیادت اور ہنر مندوں و دانش علمی و تحقیقی کی ایک بڑی تعداد موجود ہیں-
ان نازک لمحات میں
ان کے خدمات حاصل کرنے چاہئیں تاکہ
ممکنہ طور پر غلطیاں کم از کم رہیں
اور ایران کی طرح سیاست و حکومت
اور معشیت و ثقافتی ورثے سب کو
یکساں ترقی دیا جائے ـ@@

04؛:
پاکستان اور افغانستان کے درمیان
غلط فہمیاں اور بے اعتمادی کی
ایک بڑی وجہ
دونوں فریقوں کے درمیان
تاریخ کے تناظر میں
بدلتے ہوئے دنیا کے
حالات و واقعات کا ادراک نہ کرنا ہیں،،
تاریخ کے اس نازک موڑ پر
دونوں ممالک کے اھل دانش کو
اپنے حصے کا فرض ادا کرنے کی
جستجو میں کوتاہی نہیں برتی چاھئے،،
05′”:
افغانستان اور پاکستان
دونوں ممالک کے سیاستدانوں
اور حکمرانوں کے ساتھ ملٹری
اور سول بیورو کریسی کو
یہ تلخ حقیقت واضح طور پر
سمجھنے کی ضرورت ہے کہ
جب ہمسائے بھتر کردار ادا کرنے میں
ناکام ھوتے ھیں تو
انٹرنیشنل اسٹملیشمنٹ
اپنے کردار
اور کھیل کھیلنے کے لئے
آسانیاں محسوس کرتی ہیں ،
خدشہ ہے کہ
افغانستان آزادی اور
طالب علموں کے اقتدار کے نام پر
ایک نئے پراکسی وار اور
اندرونی خانہ جنگی کی طرف
بدبختی سے نہ بڑھیں
اس لئے خدارا دونوں ممالک کے
درمیان تاریخی حقائق کی
روشنی میں اعتماد سازی کے لئے
آسانیاں پیدا کی جائے،،##

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *