Banner
Daily Sahafat Quetta
September 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نوشکی، خاران کراس کے قریب گاڑی نہ روکنے پر مبینہ فائرنگمارچ 2027 میں بلوچستان کے 5 سینیٹرز سمیت بڑی تعداد میں سینیٹرز ریٹائر ہوں گےمتحدہ عرب امارات میں رمضان کے پہلے روزے کی متوقع تاریخ سامنے آگئیخواتین اور ہنرمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری،50 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کا بڑا اعلانمہرگڑھ پر ڈرون حملہ قابلِ مذمت ہے، اسلم رئیسانینوڈیرو میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے نوجوان رحمان علی جاں بحقسحرش قمر کی کامیابی خدمت اور وفاداری کا ثمر ہے،حسیب شیخبلوچستان کان حادثے میں جاں بحق 2 مزدوروں کے خاندانوں کو 10،10 لاکھ روپے امدادجے یو آئی ضلع کوئٹہ کا تنظیمی اجلاس 3 ستمبر کو طلب، عوامی مسائل اور آئندہ لائحہ عمل پر غور ہوگا،عبدالرحمن رفیقکوئٹہ میں ریلوے کے ملازمین اسٹیشن کا سامان کباڑی میں بیچتے ہوئے پکڑے گئےنوشکی، خاران کراس کے قریب گاڑی نہ روکنے پر مبینہ فائرنگمارچ 2027 میں بلوچستان کے 5 سینیٹرز سمیت بڑی تعداد میں سینیٹرز ریٹائر ہوں گےمتحدہ عرب امارات میں رمضان کے پہلے روزے کی متوقع تاریخ سامنے آگئیخواتین اور ہنرمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری،50 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کا بڑا اعلانمہرگڑھ پر ڈرون حملہ قابلِ مذمت ہے، اسلم رئیسانینوڈیرو میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے نوجوان رحمان علی جاں بحقسحرش قمر کی کامیابی خدمت اور وفاداری کا ثمر ہے،حسیب شیخبلوچستان کان حادثے میں جاں بحق 2 مزدوروں کے خاندانوں کو 10،10 لاکھ روپے امدادجے یو آئی ضلع کوئٹہ کا تنظیمی اجلاس 3 ستمبر کو طلب، عوامی مسائل اور آئندہ لائحہ عمل پر غور ہوگا،عبدالرحمن رفیقکوئٹہ میں ریلوے کے ملازمین اسٹیشن کا سامان کباڑی میں بیچتے ہوئے پکڑے گئے

بلوچستان میں ایک لاکھ 19 ہزار سے زائد اہل خاندان رہائشی امداد سے محروم

عالمی بینک نے وفاقی اور بلوچستان حکومت کو بھیجے گئے ایک تفصیلی مراسلے میں خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں رہائشی امداد محدود کیے جانے کے نتیجے میں 119,049 تصدیق شدہ اور اہل خاندان مالی معاونت سے محروم رہ گئے ہیں، جس سے ان کی پہلے سے موجود معاشی کمزوریاں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔عالمی بینک کے مطابق اہل مستحقین میں 84 فیصد انتہائی غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں 28 فیصد خاندانوں کی ماہانہ آمدن 30 ڈالر سے کم، جبکہ مزید 26 فیصد کی آمدن 31 سے 70 ڈالر ماہانہ کے درمیان ہے۔ ان خاندانوں میں 39 فیصد کرایہ دار، 37 فیصد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور 8 فیصد چھوٹے کسان شامل ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ان طبقات کے پاس محدود بچت، رسمی قرضوں تک کم رسائی اور پیداواری اثاثے نہ ہونے کے باعث اچانک آنے والے معاشی یا قدرتی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے۔عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بلورما امگاآبازار نے وفاقی وزارت اقتصادی امور، وزارت منصوبہ بندی اور بلوچستان کے چیف سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں کہا کہ 22 جون 2026 تک رہائشی امداد کو پہلے مرحلے کے 62,966 مستحقین تک محدود کرنے اور سبسڈی کی مدد 97 ہزار خاندانوں تک رکھنے کے فیصلے کے بعد بڑی تعداد میں تصدیق شدہ اہل خاندانوں کے لیے مالی معاونت کا کوئی بندوبست نہیں رہا۔مراسلے کے مطابق فیصلے کو عالمی بینک کے ساتھ مشترکہ ابلاغی حکمت عملی طے ہونے سے قبل عوام کے سامنے لانے سے بھی خطرات پیدا ہوئے ہیں، کیونکہ وہ خاندان جن کی تصدیق مکمل ہو چکی اور جنہوں نے منصوبے سے متعلق ضروری دستاویزات پر دستخط کیے تھے، اب بھی امداد ملنے کی توقع کر سکتے ہیں۔عالمی بینک نے بتایا کہ مقررہ آخری تاریخ تک منصوبے کے انتظامی نظام میں 66,120 شکایات درج ہو چکی تھیں۔ بینک نے تجویز دی کہ ہر شکایت کنندہ سے انفرادی طور پر رابطہ کرکے اسے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے اور اطلاع پہنچنے کا ثبوت بھی حاصل کیا جائے۔مراسلے میں کہا گیا کہ رہائشی امداد سے محرومی کے نتیجے میں کم آمدن والے خاندان خوراک، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کے بجائے عارضی رہائش کی مسلسل مرمت پر اپنی آمدن خرچ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ بعض خاندان حالات سے نمٹنے کے لیے قرض لینے یا اپنے پیداواری اثاثے فروخت کرنے پر بھی مجبور ہو سکتے ہیں۔عالمی بینک نے خبردار کیا کہ مضبوط اور قدرتی آفات سے محفوظ گھر دوبارہ تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ خاندان غیر محفوظ رہائش گاہوں میں رہنے پر مجبور ہوں گے، جس سے مستقبل میں سیلاب، طوفان، زلزلوں اور شدید گرمی کی لہروں کے اثرات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔مراسلے میں مزید کہا گیا کہ تصدیق شدہ اور اہل مستحقین کو امداد سے نکالنے سے شکایات، عدم مساوات اور ناانصافی کے احساسات جنم لے سکتے ہیں، جس سے حکومتی اداروں اور ترقیاتی پروگراموں پر عوامی اعتماد مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی بینک نے رہائشی امداد کے منصوبے کی تکمیل کے دوران قانونی، انتظامی اور ساکھ سے متعلق خطرات کم کرنے کے لیے شفاف اور قابلِ اعتماد شکایات کے ازالے کے نظام کو ضروری قرار دیا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *