Banner
Daily Sahafat Quetta
August 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جرم کا تعین شواہد اور تحقیقات سے ہوتا ہے حکومتی بیانات یا مفروضوں سے نہیں، مولانا عبدالرحمن رفیقبلوچستان کے نامور باکسر عبدالغنی مینگل کی اچانک وفات افسوسناک ہے، سردار منظور احمد کاکڑبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدیجرم کا تعین شواہد اور تحقیقات سے ہوتا ہے حکومتی بیانات یا مفروضوں سے نہیں، مولانا عبدالرحمن رفیقبلوچستان کے نامور باکسر عبدالغنی مینگل کی اچانک وفات افسوسناک ہے، سردار منظور احمد کاکڑبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدی

پاکستان میں ایوریج کم، زرعی ان پٹ مہنگے: کسان آخر جائے تو جائے کہاں؟

تحریر یاسر دانیال صابری
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہماری معیشت، روزگار، خوراک اور دیہی زندگی کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ لاکھوں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ کھیتی باڑی سے اپنا روزگار کماتے ہیں، لیکن افسوس کہ آج یہی کسان شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ایک طرف فصلوں کی پیداوار یعنی ایوریج کئی ترقی یافتہ زرعی ممالک کے مقابلے میں کم ہے اور دوسری طرف بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی، پانی، مشینری اور مزدوری سمیت تقریباً تمام زرعی ان پٹس مسلسل مہنگے ہو رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسان زیادہ محنت اور زیادہ سرمایہ لگانے کے باوجود پہلے جیسی آمدن حاصل نہیں کر پا رہا۔پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کسان کو مہنگی کھاد یا مہنگا بیج مل رہا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان پٹس مہنگے اور آؤٹ پٹ کم ہیں۔ یعنی کسان کی لاگت بڑھ رہی ہے لیکن فی ایکڑ پیداوار اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ یہی فرق پاکستانی زراعت کو بحران کی طرف لے جا رہا ہے۔اگر ایک کسان ایک ایکڑ زمین پر گندم، مکئی، چاول، کپاس یا کوئی دوسری فصل کاشت کرتا ہے تو اسے بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی، ڈیزل، ٹریکٹر، مزدوری اور فصل کی کٹائی تک کئی مرحلوں میں اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ لیکن جب فصل تیار ہوتی ہے تو اکثر اسے اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملتی۔ بیچ میں آڑھتی، ذخیرہ اندوزی، ٹرانسپورٹ اور مارکیٹ کا نظام اپنا حصہ لے لیتا ہے، جبکہ اصل محنت کرنے والا کسان سب سے آخر میں کھڑا نظر آتا ہے۔صورتحال کسان کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے۔
دنیا کے کئی ممالک نے زراعت کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر بیج، آبپاشی کے جدید نظام، تحقیق، مشینی کاشت اور کسانوں کی تربیت کے ذریعے تبدیل کیا ہے۔ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کم رقبے سے زیادہ پیداوار حاصل ہو سکے۔ پاکستان میں بھی اگر زرعی تحقیق، معیاری بیج، جدید آبپاشی اور جدید مشینری پر سنجیدگی سے سرمایہ کاری کی جائے تو پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ یہ سوال ضرور پوچھنا ہوگا کہ پاکستان میں کسان کو مہنگا ان پٹ کیوں ملتا ہے؟ معیاری بیج کی قیمت اتنی زیادہ کیوں ہے؟ کھاد کی قیمت عام کسان کی پہنچ سے باہر کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ زرعی ادویات کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ ڈیزل اور بجلی کے اخراجات کسان کی کمر کیوں توڑ رہے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب کسان اتنی مہنگی لاگت سے فصل تیار کرتا ہے تو اسے اس کی مناسب قیمت کیوں نہیں ملتی یہ صرف کسان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پاکستان کی غذائی سلامتی کا مسئلہ ہے۔اگر کسان مسلسل نقصان میں رہے گا تو نئی نسل زراعت سے دور ہو جائے گی۔ زمینیں ٹھیکے پر دی جائیں گی، کاشت کا رقبہ کم ہوگا، خوراک کی پیداوار متاثر ہوگی اور مستقبل میں پاکستان کو مزید زرعی اجناس درآمد کرنا پڑ سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملکی خزانے پر بھی دباؤ بڑھے گا اور عام شہری کے لیے آٹا، چاول، سبزیاں، دالیں اور دیگر اشیائے خورونوش مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔حکومت کو صرف کسان کو وقتی سبسڈی دینے کے بجائے زرعی پیداوار بڑھانے کی قومی پالیسی بنانی چاہیے۔ سب سے پہلے ملک بھر میں فصل وار فی ایکڑ پیداوار کا جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ہماری پیداوار عالمی معیار سے کہاں کم ہے۔ پھر ہر فصل کے لیے الگ حکمت عملی بنائی جائے۔معیاری اور کم قیمت بیج کی فراہمی، مٹی کی جانچ، جدید آبپاشی، ڈرِپ اور اسپرنکلر سسٹم، کسانوں کی تربیت، زرعی مشینری کی آسان فراہمی، جدید زرعی تحقیق اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق نئی اقسام کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ کسان کو منڈی میں تحفظ دینا بھی ضروری ہے۔ فصل کی پیداوار بڑھانے کے بعد اگر کسان کو مناسب قیمت نہیں ملے گی تو پوری محنت بے فائدہ ہو جائے گی۔ حکومت کو ایسی مارکیٹ پالیسی بنانا ہوگی جس میں کسان کو اس کی پیداوار کی مناسب قیمت ملے اور صارف کو بھی غیرضروری مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پاکستان میں ایک عجیب تضاد موجود ہے۔ کسان مہنگے داموں ان پٹس خریدتا ہے، فصل اگاتا ہے، موسمی خطرات برداشت کرتا ہے، پانی اور بجلی کے مسائل کا سامنا کرتا ہے، لیکن فصل تیار ہونے کے بعد قیمت کے تعین میں اس کا کردار انتہائی محدود ہوتا ہے۔ یہ نظام تبدیل کرنا ہوگا۔ہمیں کسان کو صرف سبسڈی کا محتاج بنانے کے بجائے اسے پیداوار بڑھانے اور منافع کمانے کے قابل بنانا ہوگا۔اج پاکستان کو ایک ایسے زرعی ماڈل کی ضرورت ہے جہاں کم رقبے سے زیادہ پیداوار حاصل ہو، پانی کم استعمال ہو، کھاد کا متوازن استعمال ہو، معیاری بیج دستیاب ہو، مشینی کاشت عام ہو اور کسان کو فصل کی مناسب قیمت ملے۔خاص طور پر چھوٹے کسان کے لیے زرعی قرضوں کا نظام آسان بنایا جائے۔ بینکوں کے پیچیدہ طریقہ کار اور ضمانتوں کی شرائط میں نرمی کی جائے۔ کسان کو فصل کے آغاز میں سستا قرض ملے تاکہ وہ مہنگے بیج، کھاد اور زرعی ادویات خرید سکے۔ اسی طرح فصل کی تباہی کی صورت میں مؤثر زرعی انشورنس کا نظام بھی متعارف کرایا جانا چاہیے۔
موسمیاتی تبدیلی نے پہلے ہی پاکستانی زراعت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ کبھی خشک سالی، کبھی سیلاب، کبھی غیر معمولی بارشیں اور کبھی شدید گرمی فصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں روایتی طریقہ کاشت کافی نہیں۔ ہمیں Climate Smart Agriculture کی طرف جانا ہوگا۔پاکستان میں زرعی یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں اور کسانوں کے درمیان رابطہ بھی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ لیبارٹریوں میں ہونے والی تحقیق اس وقت تک فائدہ مند نہیں جب تک اس کا عملی فائدہ کھیت تک نہ پہنچے۔ کسان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی زمین کے لیے کون سا بیج بہتر ہے، کتنی کھاد درکار ہے، پانی کب دینا ہے اور بیماری کی صورت میں کون سی دوا استعمال کرنی ہے۔آل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان کا کسان کہے کہ میری فی ایکڑ پیداوار بھی بڑھ رہی ہے، میری لاگت بھی قابو میں ہے اور میری فصل کی قیمت بھی مناسب مل رہی ہے۔آجپاکستان کے کسان کو صرف ہمدردی نہیں، ایک مضبوط اور مستقل زرعی پالیسی چاہیے۔ وقتی اعلانات اور چند ماہ کی سبسڈی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمیں بیج سے منڈی تک پورے زرعی نظام کو درست کرنا ہوگا۔
اگر انپٹس مہنگے ہیں تو پیداوار بڑھانا ہوگی۔ اگر پیداوار کم ہے تو تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی لانی ہوگی۔ اگر مارکیٹ میں کسان کو قیمت نہیں ملتی تو مارکیٹ کا نظام درست کرنا ہوگا۔ اور اگر کسان مسلسل خسارے میں ہے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ صرف کسان کا نہیں، پوری معیشت کا ہے۔پکستان کی زمین زرخیز ہے، ہمارے کسان محنتی ہیں، موسم اور جغرافیہ بھی کئی فصلوں کے لیے موزوں ہیں۔ کمی اگر ہے تو منظم پالیسی، جدید ٹیکنالوجی، معیاری بیج، سستی لاگت اور مؤثر مارکیٹ نظام کی ہے۔اں وقت آ گیا ہے کہ کسان کو سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مضبوط کیا جائے۔ کیونکہ اگر کھیت خوشحال ہوگا تو دیہات خوشحال ہوں گے، اگر دیہات خوشحال ہوں گے تو بازار آباد ہوں گے، اور اگر کسان مضبوط ہوگا تو پاکستان کی غذائی اور معاشی سلامتی بھی مضبوط ہوگی۔
کسان کو مہنگے ان پٹس اور کم ایوریج کے درمیان پِسنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات صرف کھیت تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ہر پاکستانی کے دسترخوان تک پہنچیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *