Banner
Daily Sahafat Quetta
October 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
خواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس، دنیا بھر سے حقوقِ نسواں کی آوازیں ایک پلیٹ فارم پراکٹھی ہوئیںایف ایف سی کی آئی کیپ-آئی سی ایم اے بہترین کارپوریٹ اور پائیداری رپورٹس ایوارڈز 2025 میں شاندار کامیابیجنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی قومی و عسکری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، میر ظہور بلیدیعوامی مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، حاجی نور محمد خان دومڑدرگزر کرنا سیکھیںلاہور میں جدید تعمیراتی منصوبہ آئیرس ٹاور توجہ کا مرکز، سید زوار شاہ کی قیادت میں پیش رفتسابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی جمہوری خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمخالفین کا پروپیگنڈا ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقروہڑی: بسم اللہ کالونی کے رہائشیوں کا مبینہ حملوں، تشدد اور دھمکیوں کے خلاف احتجاج، انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہمیاں فاروق الطاف بھی چل بسے انا للہ وانا الیہ راجعونخواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس، دنیا بھر سے حقوقِ نسواں کی آوازیں ایک پلیٹ فارم پراکٹھی ہوئیںایف ایف سی کی آئی کیپ-آئی سی ایم اے بہترین کارپوریٹ اور پائیداری رپورٹس ایوارڈز 2025 میں شاندار کامیابیجنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی قومی و عسکری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، میر ظہور بلیدیعوامی مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، حاجی نور محمد خان دومڑدرگزر کرنا سیکھیںلاہور میں جدید تعمیراتی منصوبہ آئیرس ٹاور توجہ کا مرکز، سید زوار شاہ کی قیادت میں پیش رفتسابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی جمہوری خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمخالفین کا پروپیگنڈا ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقروہڑی: بسم اللہ کالونی کے رہائشیوں کا مبینہ حملوں، تشدد اور دھمکیوں کے خلاف احتجاج، انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہمیاں فاروق الطاف بھی چل بسے انا للہ وانا الیہ راجعون

این سی سی آئی اے کو اخبارات اور ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا،سینیٹ کمیٹی

پرنٹ میڈیا کی شکایات پریس کونسل اور الیکٹرانک میڈیا کے معاملات پیمرا کے دائرہ اختیار میں ہیں: سینیٹر سرمد علی
بلوچستان اور سندھ کے ریجنل اخبارات کا معاشی قتل ہو رہا ہے، بزنس بڑھایا جائے: سینیٹر جان محمد بلیدی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں کنوینر سینیٹر سرمد علی نے صدارت کرتے ہوئے کہا کہ این سی سی آئی اے (NCCIA) کو اخبارات اور ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا۔ سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اخبارات، ان کی ویب سائٹس، ڈیجیٹل ایڈیشنز اور ٹی وی چینلز پر شائع یا نشر ہونے والی خبروں پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے باز رہے۔ سینیٹر سرمد علی نے واضح کیا کہ پرنٹ اور ڈیجیٹل اخبارات کی شکایات پریس کونسل آف پاکستان (PCP) کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ ٹی وی چینلز کے مسائل: الیکٹرانک میڈیا یا ٹی وی چینلز کے معاملے اور شکایات پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) کے سپرد ہیں۔

اجلاس میں یاد دلایا گیا کہ پیکا (PECA) قانون کی منظوری کے وقت حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ روایتی میڈیا اور ان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے ‘پاس گروپ’ کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنی شکایت لے کر پریس کونسل آف پاکستان سے رجوع کرے۔

اجلاس کے دوران ایک کالم میں بیوروکریٹس کے لیے “بیوروکرپٹ” کا لفظ استعمال کرنے کے تنازع اور سوشل میڈیا قوانین میں ابہام پر بھی گفتگو ہوئی۔ NCCIA کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ اخبار نے اپنے پرنٹ/ویب ایڈیشن سے وہ متنازع کالم حذف (delete) کر دیا ہے، تاہم وہ مواد ابھی بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اخبار نے کالم ہٹا دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ غلطی تسلیم کر لی گئی ہے، لہٰذا اس معاملے کو اب یہیں ختم ہو جانا چاہیے اور اخبار یا صحافی کے خلاف مزید کسی مجرمانہ اقدام یا پیکا کے تحت کارروائی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

سینیٹر پرویز رشد نے مزید کہا کہ سینیٹر جان محمد بلیدی نے ریجنل میڈیا کے حوالے سے بلوچستان اور سندھ کے علاقائی اخبارات کا بزنس بڑھانے کے حوالے سے کہا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے ریجنل اخبارات کا معاشی قتل ہورہا ہے لہٰذا ان کا بزنس بڑھانے کیلئے ان کو زیادہ سے زیادہ کاموریڈ کیا جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *