Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایف ایف سی نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کر دیاروٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے کرنل نواب علی اور کرنل محمد اسد کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیادریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ، گڈو پر درمیانے اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارسکھر: موٹر وے پر مشترکہ کارروائی، بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد، دو مبینہ اسمگلر گرفتارسردار امیر بخش بھٹو سے انتقال پر چوتھے روز بھی تعزیت کا سلسلہ جاریپانی کے تنازعےپی ایس او سمیت آئل کی بڑی کمپنیوں کا اربوں روپے کا فراڈ پکڑا گیابجلی بلوں پر ٹیکس کی مد میں عوام سے 476 ارب روپے وصولی کا انکشافپاکستان نے 16 ہزار افغان شہریوں کے قیام میں توسیع کر دیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟ایف ایف سی نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے نتائج کا اعلان کر دیاروٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے کرنل نواب علی اور کرنل محمد اسد کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیادریائے سندھ میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ، گڈو پر درمیانے اور سکھر پر نچلے درجے کا سیلاب برقرارسکھر: موٹر وے پر مشترکہ کارروائی، بھاری مقدار میں جدید اسلحہ برآمد، دو مبینہ اسمگلر گرفتارسردار امیر بخش بھٹو سے انتقال پر چوتھے روز بھی تعزیت کا سلسلہ جاریپانی کے تنازعےپی ایس او سمیت آئل کی بڑی کمپنیوں کا اربوں روپے کا فراڈ پکڑا گیابجلی بلوں پر ٹیکس کی مد میں عوام سے 476 ارب روپے وصولی کا انکشافپاکستان نے 16 ہزار افغان شہریوں کے قیام میں توسیع کر دیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

مقدس رشتے اور سستے سودے

محمدنسیم رنزوریار

مقدس رشتے اور سستے سودے

قارئین کرام، انسانی معاشرت کی بنیاد جن مادی اور روحانی ستونوں پر قائم ہے، ان میں “مقدس رشتے” سب سے اعلیٰ اور معتبر سمجھے جاتے ہیں، لیکن تاریخ کے اوراق اور عصرِ حاضر کی تلخ حقیقتیں گواہ ہیں کہ جب بھی مادی مفادات، اقتدار کی ہوس اور سفارتی ضرورتیں آڑے آئیں، تو ان مقدس رشتوں کو “سستے سودوں” کی نذر کرنے میں لمحہ بھر کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی گئی۔ تاریخ کا گہرا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ خونی، خاندانی، مذہبی اور نظریاتی رشتے، جنہیں آفاقی اور اٹل ہونا چاہیے تھا، وہ اکثر بڑے سیاسی اور معاشی سودوں کی منڈیوں میں محض ایک مہرے کے طور پر استعمال ہوئے۔ اس تلخ حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت قرونِ وسطیٰ اور یورپ کی شاہی تاریخ ہے، جہاں بادشاہوں اور امراء نے اپنے خاندانی اور ازدواجی رشتوں کو محض سیاسی اتحاد برقرار رکھنے یا سلطنتوں کی حدود بڑھانے کے لیے سستے سودوں کے طور پر استعمال کیا۔ سلطنتِ عثمانیہ میں ‘قانونِ قتلِ برادران(Law of Franticide) اس کی ایک خوفناک مثال ہے، جہاں اقتدار کے تحفظ کے لیے سگے بھائیوں، بیٹوں اور معصوم بچوں کے مقدس ترین خون کا سودا کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا، تاکہ تخت محفوظ رہے۔ یہ اس بات کا تاریخی ثبوت ہے کہ جہاں اقتدار کی سیاست داخل ہوتی ہے، وہاں تقدس اور خون کے رشتے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔اسی طرح، برصغیر کی تاریخ میں مغل دورِ حکومت اس تلخ حقیقت کا ایک اور واضح ثبوت پیش کرتا ہے، جہاں اقتدار کی جنگ میں شاہجہاں کو اس کے سگے بیٹے اورنگزیب عالمگیر نے قید کیا اور بھائیوں (داراشکوہ، شجاع اور مراد) کے مابین دلیری اور وفاداری کے تمام رشتوں کو پسِ پشت ڈال کر زمین اور تاج کے لیے خون کی ہولناک ہولی کھیلی گئی۔ یہ تاریخی واقعات ثابت کرتے ہیں کہ جب مادی دنیا کا لالچ اندھا کر دیتا ہے، تو بھائی چارے اور پیار کے تمام دعوے سستے سودوں میں بدل جاتے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی “مقدس نظریاتی اور مذہبی رشتوں” کا سودا بہت سستے داموں کیا گیا۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران، سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف عرب قوم پرستی کو ابھارنے کے لیے برطانیہ نے شریفِ مکہ کے ساتھ مقدس اسلامی خلافت اور خود مختار عرب ریاست کا وعدہ کیا، لیکن پسِ پردہ 1916ء میں فرانس کے ساتھ سائیکس-پیکو معاہدہ (Sykes-Picot Agreement) کر کے پورے مشرقِ وسطیٰ کو آپس میں بانٹ لیا اور یوں عربوں کی معصومانہ وفاداری اور مشترکہ مفادات کا ایک انتہائی سستا سودا کر دیا گیا۔جدید دور میں بھی یہ تلخ حقیقت ہمارے سامنے معاشرتی اور بین الاقوامی سطح پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ آج کے سرمایہ دارانہ نظام نے انسانی رشتوں کی معنویت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب شادیاں، خاندانی تعلقات اور سماجی روابط جذبات اور تقدس کے بجائے بینک بیلنس، جائیداد اور مادی نفع نقصان کے ترازو میں تولے جاتے ہیں۔ غریب خاندانوں میں بیٹیوں کے رشتے پیسوں کے عوض طے کرنا یا امیر گھرانوں میں کاروباری سلطنتوں کو جوڑنے کے لیے بچوں کی زندگیوں کے فیصلے کرنا، اسی سستے سودے بازی کے جدید روپ ہیں۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو مظلوم مسلم امہ یا تیسری دنیا کے ممالک کے درمیان مذہبی اور انسانی بھائی چارے کے مقدس رشتوں کا دعویٰ تو بہت کیا جاتا ہے، لیکن جب معاشی مفادات یا کسی سپر پاور کے دباؤ کا وقت آتا ہے، تو یہ ممالک اپنے ہی مظلوم بھائیوں کے حقوق، زمین اور خون کا سودا تزویراتی اور معاشی امداد کے عوض کر دیتے ہیں۔ تاریخ کا یہ تسلسل ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ جب تک معاشروں اور ریاستوں میں اخلاقی اقدار، سچی انسانی ہمدردی اور انصاف کے اصولوں کو مادی فائدے پر ترجیح نہیں دی جائے گی، تب تک تقدس کے لبادے میں لپٹے یہ رشتے اسی طرح مفادات کی منڈیوں میں سستے سودوں کی شکل میں بکتے رہیں گے اور انسانیت اسی طرح سرمائے کے ہاتھوں پامال ہوتی رہے گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *