Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئیرفیع اللہ کی ہمت اور حوصلہ پوری قوم کے نوجوانوں کے لیے مثال ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانبلوچستان کے ضلع تربت میں لرزہ خیز وقوعہ 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدلاہور میں گھر کی چھت گر گئی ، 9 افراد جاں بحق ، 3 زخمیکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئیرفیع اللہ کی ہمت اور حوصلہ پوری قوم کے نوجوانوں کے لیے مثال ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانبلوچستان کے ضلع تربت میں لرزہ خیز وقوعہ 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدلاہور میں گھر کی چھت گر گئی ، 9 افراد جاں بحق ، 3 زخمی

سید بابر علی بصیرت، خدمت اور تعمیرِ وطن کا درخشاں استعارہ

سید بابر علی
بصیرت، خدمت اور تعمیرِ وطن کا درخشاں استعارہ

منشاقاضی
حسبِ منشا

پاکستان کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنے عہد کی کامیاب فرد نہیں رہتیں بلکہ ایک فکر، ایک روایت اور ایک ادارہ بن جاتی ہیں۔ سید بابر علی بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے صنعت، تعلیم، ماحولیات اور قومی خدمت کے میدان میں ایسی مثال قائم کی، جس کی روشنی آنے والی نسلوں کے لیئے رہنمائی کا چراغ ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ دولت کا اصل حسن تعمیرِ انسان اور تعمیرِ وطن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
30 جون 1926 کو لاہور میں پیدا ہونے والے سید بابر علی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس نے برصغیر کی تجارتی اور سماجی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے والد سید مراتِب علی برطانوی ہند کی فوج کے بڑے ٹھیکے داروں میں شمار ہوتے تھے اور نظم و ضبط، دیانت اور انتظامی مہارت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ اسی ماحول نے سید بابر علی کی طبیعت میں بصیرت، ذمہ داری اور خدمتِ خلق کے اوصاف پیدا کیئے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیئے وہ یونیورسٹی آف مشی گن گئے اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے اپنی ڈگری مکمل کی۔ ہارورڈ بزنس اسکول میں حاصل کردہ انتظامی تربیت نے ان کے ذہن میں ایک ایسے پاکستان کا خواب پیدا کیا جہاں عالمی معیار کی انتظامی تعلیم میسر ہو۔ یہی خواب آگے چل کر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کی صورت میں حقیقت بنا۔
سید بابر علی نے کاروبار کو صرف منافع کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے قومی ترقی کا آلہ بنایا۔ پیکجز لمیٹڈ کے قیام نے پاکستان کی پیکیجنگ صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ یہ ادارہ جلد ہی معیار، پیشہ ورانہ نظم و نسق اور جدید کارپوریٹ کلچر کی علامت بن گیا۔
انہوں نے ملک پاک لمیٹڈ کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، جو آج نیسلے پاکستان کے نام سے ملک کی سب سے بڑی غذائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کی کاروباری بصیرت نے پاکستانی صنعت کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
ستر کی دہائی میں قومیانے کی پالیسی کے نتیجے میں ان کی چھ میں سے پانچ کمپنیاں قومی تحویل میں لے لی گئیں، مگر یہ آزمائش بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کر سکی۔ انہوں نے شکایت کے بجائے ادارہ سازی اور قومی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔
1973 سے 1980 تک وہ نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن (NFC) کے بانی چیئرمین رہے۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کے پہلے مقامی کھاد کے ادارے کی بنیاد رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ ذمہ داری بغیر کسی تنخواہ کے انجام دی۔ یہ عمل اس بات کی روشن مثال ہے کہ ان کے نزدیک قومی خدمت ذاتی مفاد سے کہیں بلند تھی۔
اکتوبر 1970 میں وہ لاہور اسٹاک ایکسچینج کے بانی اراکین میں شامل ہوئے اور سرمایہ منڈی کے فروغ میں اہم خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں سیمنز پاکستان, سانوفی ایونٹس پاکستان اور کوکا کولا بیوریجز پاکستان سمیت متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے کارپوریٹ گورننس کے اعلیٰ معیار متعارف کرائے۔
1993 میں انہیں پاکستان کا نگران وفاقی وزیرِ خزانہ، اقتصادی امور و منصوبہ بندی مقرر کیا گیا۔ یہ تقرری دراصل ان کی دیانت، غیر جانبداری اور اقتصادی بصیرت پر قومی اعتماد کا اظہار تھی۔ انہوں نے مختصر مدت میں بھی مالی نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ پالیسی سازی کی مثال قائم کی۔
اگر سید بابر علی کی زندگی کا سب سے روشن باب تلاش کیا جائے تو وہ تعلیم ہے۔ ان کا یقین تھا کہ قوموں کی تقدیر کارخانوں سے نہیں بلکہ کلاس رومز سے بدلتی ہے۔ اسی یقین نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کو جنم دیا، جو آج جنوبی ایشیا کے ممتاز ترین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔
LUMS صرف ایک جامعہ نہیں بلکہ میرٹ، تحقیق، قیادت اور عالمی معیار کی علامت ہے۔ اس ادارے نے ہزاروں نوجوانوں کو جدید علم، تنقیدی فکر اور قومی خدمت کا شعور عطا کیا۔ انہی خدمات کے اعتراف میں جامعہ کے ممتاز سید بابر علی اسکول آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا۔
1992 میں قائم ہونے والا علی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن ان کے تعلیمی وژن کا دوسرا اہم سنگِ میل ہے، جس کا مقصد اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور اسکول کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا تھا۔

سید بابر علی کی شخصیت کا ایک اور درخشاں پہلو ماحولیاتی تحفظ ہے۔ انہوں نے تقریباً پچیس برس تک ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (WWF) کے ساتھ مختلف قومی و عالمی ذمہ داریاں انجام دیں۔ 1996 سے 1999 تک وہ WWF کے بین الاقوامی صدر منتخب ہوئے اور اس منصب پر پرنس فلپ کے جانشین بنے۔
یہ اعزاز نہ صرف ان کی عالمی ساکھ کا اعتراف تھا بلکہ اس بات کی علامت بھی کہ پاکستان ایک ایسے رہنما کو دنیا کے سامنے پیش کر رہا تھا جو ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو ساتھ لے کر چلنے کا قائل تھا۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں برطانیہ, سویڈن اور نیدرلینڈز کی حکومتوں نے اعلیٰ اعزازات سے نوازا۔ 1997 میں برطانوی حکومت نے انہیں آفیسر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (OBE) مقرر کیا۔ اسی سال میک گل یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈاکٹر آف لاز (LL.D.) کی ڈگری عطا کی۔
سید بابر علی کی شخصیت میں سادگی، وقار، شائستگی، دیانت اور دور اندیشی ایک ساتھ جمع ہیں۔ وہ بڑے سے بڑے منصب پر فائز رہے مگر ان کی گفتگو میں کبھی تکبر کی جھلک نہیں آئی۔ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اختلافِ رائے کو احترام دیتے ہیں اور اداروں کو افراد پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ انہوں نے سرمایہ کو سماجی ذمہ داری میں تبدیل کیا، کاروبار کو قومی خدمت کا وسیلہ بنایا اور تعلیم کو پاکستان کے مستقبل کی بنیاد قرار دیا۔
ایک زندہ میراث
پاکستان کی اقتصادی، تعلیمی اور سماجی تاریخ میں بہت کم شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے بیک وقت اتنے مختلف میدانوں میں اتنا گہرا اثر چھوڑا ہو۔ سید بابر علی محض ایک کامیاب صنعت کار نہیں، بلکہ تعمیرِ وطن کے معمار، تعلیم کے سفیر اور اخلاقی قیادت کے روشن استعارے ہیں۔
ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں؛ وہ اداروں، علم، دیانت اور مسلسل خدمت سے تعمیر ہوتی ہیں۔ سید بابر علی نے اپنی پوری زندگی انہی اصولوں کے نام کی، اور یہی ان کی وہ لازوال میراث ہے جو پاکستان کی آنے والی نسلوں کو مدتوں روشنی عطا کرتی رہے گی۔ بلاشبہ، سید بابر علی ایک فرد نہیں، ایک عہد کا نام ہیں۔ آج ان کی عمرِ رواں سے زندگی کا ایک قیمتی سال کٹ گیا ہے اور اس کے بدلے میں انہیں علم ، حلم ، تجربہ اور بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے ۔ ان کی صد سالہ زندگی کی کامیابیوں پر سی ٹی این فورم کے بانی چیئرمین مسعود علی خان اور تمام ممبران جہاں وہ سالگرہ کی مبارک باد پیش کرتے ہیں وہاں وہ ان کی درازی ء عمر کے لیئے غالب کی زبان میں یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں ۔

تم سلامت رہو ہزار برس

ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *