Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان نے 16 ہزار افغان شہریوں کے قیام میں توسیع کر دیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالپاکستان نے 16 ہزار افغان شہریوں کے قیام میں توسیع کر دیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحال

سماجی ذرائع ابلاغ اور نوجوان نسل

تحریر: ابوبکر دانش میروانی بلوچ

آج کا دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں دنیا ایک چھوٹے سے گاؤں کی مانند سمٹ چکی ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بدولت معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ، جنہیں سوشل میڈیا بھی کہا جاتا ہے، جیسے فیس بک، ایکس، انسٹاگرام، یوٹیوب، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان اثرات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ نوجوان نسل ہے، جو کسی بھی قوم کا مستقبل اور سب سے قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہے۔

سماجی ذرائع ابلاغ کے بے شمار مثبت پہلو بھی ہیں۔ یہ نوجوانوں کو دنیا بھر کی خبروں، تعلیمی مواد، جدید علوم، تحقیق، کاروباری مواقع اور ہنر سیکھنے کے بے شمار ذرائع فراہم کرتے ہیں۔ آج ہزاروں نوجوان آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھار رہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ کئی نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے کاروبار شروع کرکے نہ صرف خود کفیل بنے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود سماجی ذرائع ابلاغ کے منفی اثرات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کو علم و تحقیق کے بجائے محض تفریح، غیر ضروری مباحث، وقت کے ضیاع اور بے مقصد سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ گھنٹوں موبائل اسکرین کے سامنے گزارنے سے نہ صرف تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ، بے چینی، احساسِ کمتری، تنہائی، نیند کی کمی اور جسمانی صحت کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔

مزید برآں، جھوٹی خبروں، افواہوں، نفرت انگیز مواد، غیر اخلاقی رجحانات اور سائبر جرائم نے نوجوان نسل کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ بغیر تصدیق معلومات کو آگے بڑھانا، دوسروں کی کردار کشی کرنا، ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا اور سوشل میڈیا کو بدزبانی کے لیے استعمال کرنا معاشرے میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ یہ رویے نہ صرف اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی کمزور کرتے ہیں۔

والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی درست رہنمائی کریں۔ صرف پابندیاں لگانا مسئلے کا حل نہیں بلکہ انہیں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال، ڈیجیٹل اخلاقیات، وقت کے مؤثر انتظام اور معلومات کی تصدیق کی اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی ڈیجیٹل خواندگی اور ذمہ دارانہ آن لائن رویوں پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکیں۔

نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن اس کا درست یا غلط استعمال ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ اپنے وقت، صلاحیتوں اور توانائی کو مثبت سرگرمیوں، مطالعے، تحقیق، ہنر سیکھنے اور معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کریں تو یہی پلیٹ فارم ان کی کامیابی کی سیڑھی بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی وقت بے مقصد مصروفیات، فضول مقابلہ بازی اور غیر اخلاقی مواد پر صرف کیا جائے تو اس کے نتائج فرد، خاندان اور پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سماجی ذرائع ابلاغ بذاتِ خود نہ اچھے ہیں اور نہ برے، بلکہ ان کا اثر ہمارے استعمال پر منحصر ہے۔ اگر نوجوان نسل اس طاقتور ذریعہ کو علم، شعور، تحقیق، مثبت سوچ اور قومی ترقی کے لیے استعمال کرے تو پاکستان کا مستقبل مزید روشن ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو صرف جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ہی نہ دیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ اور تعمیری استعمال کا شعور بھی دیں، کیونکہ آج کے باشعور اور باکردار نوجوان ہی کل کے مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کے معمار ہوں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *