Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقات

آم کے آم، تہذیب کے دام ڈاکٹر قیصر رفیق کا “آم میلہ” ثقافت ، مٹھاس اور محبت کا جشن

آم کے آم، تہذیب کے دام
ڈاکٹر قیصر رفیق کا “آم میلہ”
ثقافت ، مٹھاس اور محبت کا جشن

منشاقاضی
حسبِ منشا

صدیوں سے اہلِ زبان ایک محاورہ دہراتے آئے ہیں: “آم کے آم، گھٹلیوں کے دام۔”
یہ محاورہ بظاہر فائدے کی علامت ہے، مگر بعض اوقات کوئی شخصیت اپنے کردار، فکر اور عمل سے اس محاورے کو نئی معنویت عطا کر دیتی ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت ڈاکٹر قیصر رفیق کی ہے، جنہوں نے اس محاورے کو صرف زبان کا حسن نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک زندہ، متحرک اور قومی ثقافتی روایت میں ڈھال دیا۔
ڈاکٹر قیصر رفیق اپنی فکر کی تازگی، اپنی شخصیت کی شگفتگی اور اپنے وژن کی وسعت کے باعث ان معدودے چند افراد میں شمار ہوتے ہیں جو ہر روز کسی نہ کسی نئے خیال کو عملی جامہ پہنا کر معاشرے میں خوشی، محبت اور مثبت سرگرمیوں کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک تہذیب صرف کتابوں میں محفوظ کوئی جامد روایت نہیں بلکہ ایک زندہ احساس ہے، جسے لوگوں تک پہنچانا، اس سے محبت پیدا کرنا اور نئی نسل کو اس سے جوڑنا ایک قومی خدمت ہے۔
لاہور کے مضافاتی علاقے، عادل ہسپتال کے قریب واقع ڈی ایچ اے کی جدید آبادی میں قائم آرگینک ویلیج بظاہر ایک زرعی فارم ہے، لیکن حقیقت میں یہ پاکستان کی دیہی تہذیب، زرعی ثقافت اور خالص ذائقوں کا ایک خوبصورت استعارہ بن چکا ہے۔ یہاں آ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جدید شہری زندگی کے بیچوں بیچ ایک سرسبز، مہکتا اور محبت سے بھرپور پاکستانی گاؤں آباد کر دیا گیا ہو، جہاں مٹی کی خوشبو، درختوں کی چھاؤں اور پھلوں کی مہک انسان کو اپنی اصل سے دوبارہ جوڑ دیتی ہے۔
اسی آرگینک ویلیج میں منعقد ہونے والا “آم میلہ” محض ایک تجارتی نمائش نہیں بلکہ پاکستان کے زرعی ورثے، کسان کی محنت، قدرت کی نعمت اور قومی شناخت کا ایسا جشن ہے جس میں ذائقہ بھی ہے، ثقافت بھی، معیشت بھی اور محبت بھی۔
اس میلے کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں پاکستان بھر سے لائے گئے تقریباً ڈیڑھ سو اقسام کے آم ایک ہی مقام پر دیکھنے اور چکھنے کا نادر موقع میسر آتا ہے۔ چونسہ، سندھڑی، انور رٹول، دسہری، لنگڑا، فجری، سرولی اور بے شمار دیگر اقسام اپنی خوشبو اور ذائقے سے آنے والوں کو مسحور کر دیتی ہیں۔ ہر آم اپنے اندر کسی خطے کی مٹی، کسی کسان کی محنت اور کسی موسم کی دعا سموئے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
ڈاکٹر قیصر رفیق نے اس میلے کی تشہیر کے لیے بھی روایتی انداز اختیار نہیں کیا بلکہ جدید میڈیا کی طاقت کو پاکستان کی مٹھاس سے جوڑ دیا۔ معروف صحافی امین حفیظ نے اپنے منفرد اور دلنشیں انداز میں جب “آم میلہ” کی رپورٹ پیش کی تو محض نوّے سیکنڈ میں پورے پاکستان کے منہ میں پانی آ گیا۔ ان کی مخصوص اندازِ بیان نے اس تقریب کو سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں تک موضوعِ گفتگو بنا دیا۔
وہ اپنی مخصوص ادا کے ساتھ زبان پر انگلی پھیرتے ہوئے کہتے ہیں: گرمی آئی… اور پاکستان کا بادشاہ بھی آ گیا… نام ہے آم!”
پھر وہ ناظرین کو آرگینک ولیج کی سیر کراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سندھ کی دھوپ، پنجاب کی زرخیز مٹی اور بلوچستان کی ہوائیں مل کر اس نعمتِ خداوندی کو جنم دیتی ہیں جسے دنیا پاکستانی آم کے نام سے جانتی ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں آم کی ہزار سے زائد اقسام موجود ہیں، مگر پاکستانی آم کا ذائقہ اپنی مثال آپ ہے۔
امین حفیظ نہایت خوبصورتی سے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ آم صرف ایک مزیدار پھل نہیں بلکہ وٹامن اے، وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس کا قدرتی خزانہ ہے، جو قوتِ مدافعت میں اضافہ، جلد کی شادابی اور جسمانی توانائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر آم پاکستانی تہذیب، مہمان نوازی اور بچپن کی حسین یادوں کی علامت ہے۔
وہ کہتے ہیں: “نانی کے گھر کی چھت پر بیٹھ کر آم چوسنے کا لطف… وہ لمحہ عام نہیں، خاص ہوتا ہے۔”
ڈاکٹر قیصر رفیق کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ انہوں نے اس “خاص” لمحے کو ایک قومی تہوار میں بدل دیا۔ ان کے اس اقدام سے کسان کی محنت براہِ راست عوام تک پہنچ رہی ہے، درمیانی منافع خوری کم ہو رہی ہے، اور پاکستان کی زرعی معیشت کو بھی تقویت مل رہی ہے۔ گویا آم کی مٹھاس کے ساتھ کسان کی مسکراہٹ بھی عام ہو رہی ہے۔
اس شاندار تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کر کے اس قومی ثقافتی میلے کو مزید وقار بخشا۔ معزز مہمانوں میں انس فاروقی (ڈائریکٹر ڈسکور پاکستان)، امجد ملک (وزیر برائے سمندر پار پاکستانی)، ڈاکٹر احسان بھٹہ (سیکرٹری اوقاف و چیئرمین بوائز اسکاؤٹ ایسوسی ایشن)، سعدیہ تیمور (پارلیمانی سیکرٹری)، جواں سال ماہرِ تعلیم فہد عباس، بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور و خطاط ڈاکٹر شفیق فاروقی، معروف مصورہ عظمیٰ، سابق ڈائریکٹر محکمۂ تعلیم شہزاد احمد بھٹہ سمیت متعدد علمی، ادبی، سماجی اور ثقافتی شخصیات شامل تھیں۔ سلطنتِ عمان کے سابق اعزازی قونصل جنرل جاوید نواز بھی شرکت کے خواہش مند تھے لیکن ایک قریبی عزیز کے انتقال کے باعث سرگودھا روانہ ہو جانے کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور و خطاط ڈاکٹر شفیق فاروقی اور نوجوان ماہرِ تعلیم، سی ٹی این فورم کے رکن فہد عباس نے ڈاکٹر زرقا نسیم غالب کے سٹال پر بھی اس علمی و ثقافتی ماحول سے بھرپور لطف اٹھایا ، ڈاکٹر زرقا نسیم غالب نے بھی قلم قبیلے کے لوگوں کی خوشبو کی طرح پذیرائی کی اور اس منفرد میلے کو پاکستان کی تہذیبی شناخت کا خوبصورت مظہر قرار دیا۔
ڈاکٹر قیصر رفیق کی شخصیت کا سب سے درخشاں پہلو ان کی بے مثال مہمان نوازی ہے۔ وہ ہر آنے والے مہمان کا استقبال محض رسمی انداز میں نہیں کرتے بلکہ اخلاص، محبت، احترام اور عقیدت کے چراغ روشن کر کے دلوں کو فتح کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی بھی معاشرے کے لیے محض افراد نہیں ہوتے بلکہ روشنی کے مینار ہوتے ہیں، جن کی موجودگی سے تہذیب زندہ، ثقافت توانا اور معاشرہ مہذب دکھائی دیتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ “آم میلہ” کو صرف لاہور تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے پاکستان کے ہر شہر، ہر قصبے اور ہر محلے تک پہنچایا جائے، تاکہ کسان کی محنت کا احترام، پاکستان کے ذائقے کی پہچان اور ہماری ثقافتی شناخت کی مٹھاس پوری دنیا میں عام ہو۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر قیصر رفیق نے صرف آم کی نمائش نہیں سجائی بلکہ پاکستان کی مٹی، کسان کی محنت، تہذیب کی خوشبو، محبت کی روایت اور قومی وقار کو ایک ہی دسترخوان پر جمع کر دیا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب صدیوں پرانا محاورہ ایک نئی روح کے ساتھ زندہ ہو اٹھتا ہے:
“آم کے آم، گھٹلیوں کے دام۔” اور پھر ہر دل سے یہی صدا بلند ہوتی ہے: “آم میلہ — میٹھا فخر، ہمارا فخر۔
آم کھائیں، کسان کا ساتھ نبھائیں، پاکستان کی مٹھاس دنیا تک پہنچائیں۔ پاکستان زندہ باد!”

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *