Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمی

2018 کے الیکشن نتائج پر بننے والی پی ٹی آئی حکومت جائز تھی تو یہ بھی جائز ہے، وزیر اعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکا معاہدہ ہوا ہے، آج ایران امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلے ساٹھ روز میں ایم او یو کے مطابق تکنیکی مذاکرات ہوں گے، ساٹھ روزبعد امریکہ ایران ایک مستقل عالمی امن معاہدے تک پہنچیں گے، کل کے دنیا تمام اخبارات نے پاکستان کی کامیابی سفارتکاری کی تعریف کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج ایران کے صدر پاکستان تشریف لا رہے ہیں، آج ان کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیاں تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے گفتگو ہوگی، آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا دن نہیں تھا، اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی وہ حقائق کے خلاف ہے، کہ یہ غیر قانونی حکومت ہے۔

ان کا کہنا تھا 2018 کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے، اس میں اگر جادوگری نہیں ہوئی اور بکسے نہیں بھرے گئے، اگر وہ جائز حکومت ہے تو یہ بھی جائز حکومت ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بتایا جائے سال 2018میں کیا لوگوں کو پٹے پہنا کر حکومت نہیں بنائی گئی، اگر سال 2018کی حکومت جائز ہے تو یہ بھی جائز ہے، گزشتہ انتخابات اور 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کروا لیں، بات نکلی تو بہت دور تلک جائے گی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *