Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمی

تخت کی بھوک، نسلوں کا خون

محمدنسیم رنزوریار

تخت کی بھوک، نسلوں کا خون

قارئین کرام ۔ تاریخ انسانی کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر بہنے والے خون کا ایک بہت بڑا حصہ کسی نظریے، دین یا بقاء کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف ایک لکڑی کے ڈھانچے یعنی “تخت” کے حصول کے لیے بہایا گیا اور تخت کی بھوک وہ اندھی لکیر ہے جہاں پہنچ کر رشتے، محبتیں، وفاداریاں اور انسانی اقدار سب راکھ ہو جاتے ہیں کیونکہ اقتدار کی یہ ہوس کسی ایک صدی، ایک نسل یا ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے نسل در نسل انسانیت کا خون چوسا ہے۔ تخت کی تاریخ میں سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ اس بھوک نے سب سے پہلے سگے رشتوں پر وار کیا جس کی ایک واضع مثال سلطنتِ مغلیہ کے اس عظیم الشان دور میں ملتی ہے جب شاہجہان بیمار ہوا تو تخت کی بھوک نے بیٹوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنا دیا اور اورنگزیب عالمگیر نے اپنے سگے بھائی داراشکوہ کو عبرت کا نشان بنایا، شجاع اور مراد کو راستے سے ہٹایا اور اپنے بوڑھے باپ شاہجہان کو آگرہ کے قلعے میں قید کر دیا جبکہ یہ صرف ایک مغل کہانی نہیں ہے بلکہ سلطنتِ عثمانیہ میں تو باقاعدہ “قتلِ برادران” کا قانون موجود تھا جسے سلطان محمد فاتح نے مملکت کے استحکام اور بغاوت کے خاتمے کے لیے آئینی شکل دی تھی کہ نیا سلطان بننے والا اپنے باقی تمام بھائیوں کو قتل کر سکتا ہے اور اسی قانون کے تحت سلطنتِ عثمانیہ کے کئی سلاطین نے تخت سنبھالتے ہی اپنے معصوم شیر خوار بھائیوں تک کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتروا دیا۔ اگر ہم مغرب کی طرف نظر دوڑائیں تو رومی سلطنت سازشوں اور خونی تخت نشینی کی سب سے بڑی مثال بن کر سامنے آتی ہے جہاں جولیئس سیزر کو اس کے اپنے قریبی دوست بروٹس اور سینیٹرز نے محض اس خوف سے قتل کر دیا کہ وہ بادشاہ بننا چاہتا تھا اور پھر جولیو-کلاڈین خاندان میں اقتدار کے لیے ماؤں نے بیٹوں کو اور بیٹوں نے ماؤں کو زہر دیا جیسے نیرو نے اپنی ماں ایگریپینا کو صرف اس لیے قتل کروایا کہ وہ اقتدار کے معاملات میں مداخلت کرتی تھی جبکہ اسی طرح برطانیہ کی “وار آف دی روزز” جو لینکاسٹر اور یارک کے خاندانوں کے درمیان لڑی گئی، تخت کی بھوک کا کلاسک نمونہ ہے جس تیس سالہ جنگ نے انگلینڈ کی اشرافیہ اور شاہی نسلوں کا خون اس بے رحمی سے بہایا کہ پورا ملک لاشوں کا ڈھیر بن گیا اور انجام کار ایک بالکل نیا خاندان تخت پر متمکن ہوا۔ نفسیاتی طور پر تخت کی بھوک ایک ایسا اندھا نشہ ہے جو انسان کے اندر سے خوف اور رحم کا مادہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے اسی لیے چنگیز خان اور اس کی نسلوں نے جب دنیا کو فتح کرنا شروع کیا تو ان کا فلسفہ صرف زمین پر قبضہ اور اقتدار کی دھاک بٹھانا تھا جس کے نتیجے میں بغداد کی تباہی ہوئی اور ہلاکو خان نے انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا دیے کیونکہ تخت پر بیٹھنے کی یہ تڑپ صرف بادشاہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ اس کے ارد گرد موجود درباریوں، وزیروں اور جرنیلوں کے اندر بھی سازشوں کا ایک ایسا جال بنتی ہے جس کا اختتام ہمیشہ خون ریزی پر ہی ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تاج ہمیشہ سروں سمیت اڑتے ہیں اور تخت کی بنیادیں کسی کے خلوص پر نہیں بلکہ کمزوروں کی لاشوں پر رکھی جاتی ہیں اور آج کے دور میں بھی اگرچہ وہ پرانے لکڑی کے تخت اور سنہری تاج موجود نہیں رہے لیکن “تخت کی بھوک” کی نوعیت بالکل نہیں بدلی کیونکہ آج بھی دنیا بھر میں اقتدار، کرسی اور بالادستی کی جنگ اسی بے رحمی سے لڑی جا رہی ہے اور خطوں پر قبضے، پراکسی جنگیں اور سیاسی سازشیں دراصل اسی پرانی بھوک کا جدید روپ ہیں جس سے تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ملتا ہے کہ جس تخت کو پانے کے لیے نسلوں کا خون بہایا جاتا ہے وہ تخت خود بھی کبھی مستقل نہیں رہتا اور وقت کی لہریں بڑے سے بڑے فرعون، قیصر و کسریٰ اور سلاطین کے تختوں کو تنکوں کی طرح بہا لے گئیں مگر پیچھے صرف انسانیت کا وہ المیہ رہ گیا جو اس اندھی ہوس کی بھینٹ چڑھ گیا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *