Banner

سیاست: بغیر سرمائے کا منافع بخش ترین عالمی کاروبار۔

Share

Share This Post

or copy the link


محترم قارئین ۔ سیاسیات کی دنیا میں “سرمایہ کاری اور منافع” کا ایک مسلمہ اصول ہے، مگر ترقی پذیر ممالک میں رائج طرزِ سیاست نے معاشیات کے تمام اصولوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قانونی کاروبار کو شروع کرنے کے لیے خطیر سرمائے، خام مال اور سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن موجودہ دور کی سیاست ایک ایسا انوکھا “بغیر سرمائے کا کاروبار” (Zero-Investment Business) بن چکی ہے جس میں منافع کی شرح اربوں اور کھربوں میں ہے۔ اس کاروبار کا اصل حربہ عوامی جذبات کی پامالی، جھوٹے وعدے اور ریاستی وسائل پر ناجائز قبضہ ہے۔ اطالوی ماہرِ سیاسیات گیٹانو موسکا کے نظریۂ اشرافیہ (Elite Theory) کے مطابق، اقتدار ہمیشہ ایک چھوٹے سے منظم گروہ کے ہاتھ میں رہتا ہے جو غیر منظم اکثریت (عوام) کا استحصال کرتا ہے۔ موجودہ سیاستدان اسی نظریے کا عملی نمونہ ہیں، جو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور عوامی ترقی کے بجٹ کو ذاتی عیاشیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ خاندانی اجارہ داری اور اقربا پروری کا جابرانہ تسلسل سیاستدانوں کا سب سے بڑا ہدف اپنے اقتدار کا تحفظ اور اپنی نسلوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے “اقربا پروری” (Nepotism) اور موروثی سیاست کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ عام عوام کے بچے جہاں بنیادی تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولیات کو ترستے ہیں، وہاں ان سیاسی لٹیروں کی اگلی نسلیں دنیا کی مہنگی ترین درسگاہوں میں تعلیم حاصل کر کے براہِ راست اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا استحصالی نظام ہے جہاں قابلیت، دیانت اور حب الوطنی کو پسِ پشت ڈال کر صرف خاندانی شجرے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ نپولین بونا پارٹ نے ایک بار کہا تھا کہ “سیاست میں دغا بازی اور دھوکہ دہی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی نشانی بن جاتی ہے”۔ موجودہ سیاستدان اسی اصول پر کاربند رہتے ہوئے قانون کو اپنی لونڈی بنا کر رکھتے ہیں تاکہ ان کے خاندان کی اجارہ داری کو کوئی چیلنج نہ کر سکے۔ مسلح دستے اور وحشت پر مبنی طاقت کا توازن جب کوئی باشعور طبقہ یا فرد ان سیاسی مافیاز کی اجارہ داری کو ماننے سے انکار کرتا ہے، تو یہ لٹیرے اپنے سیاسی وجود کے تحفظ کے لیے تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ “مسلح دستے”، جرائم پیشہ گروہ اور خفگی بردار جتھے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ تاریخ میں اس کی بدترین مثال فاشسٹ اٹلی میں مسولینی کے “بلیک شرٹس” (Blackshirts) اور ہٹلر کے “نازی دستے” تھے، جو مخالفین کی آواز دبانے کے لیے قتل و غارت گری کرتے تھے۔ آج کے دور کے سیاستدان بھی اسی تاریک تاریخ کو دہرا رہے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں؛ یہ اپنے اقتدار کی بقاء کے لیے مرنے اور مروانے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ عدل و انصاف کا گلا گھونٹنا، مخالفین پر جھوٹے مقدمات بنانا اور ماورائے عدالت قتل ان کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے۔ریاستی آشیرباد اور “ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے”یہ سارا کالا دھندا حکومت اور ریاست کے بااثر حلقوں کی پسِ پردہ سرپرستی اور “آشیرباد” کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ بظاہر ٹی وی اسکرینوں پر ایک دوسرے کے خلاف آگ اگلنے والے یہ سیاستدان پسِ چلمن ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جرمن ماہرِ عمرانیات رابرٹ مائیکلز نے اسے “اشرافیہ کا آہنی قانون” (Iron Law of Oligarchy) کہا ہے، جس کے تحت تمام جمہوری تنظیمیں بالآخر چند افراد کی آمریت میں بدل جاتی ہیں۔ یہ حکمران طبقہ آپس میں نورا کشتی (Mock Fight) لڑتا ہے تاکہ عوام کو الجھائے رکھے، جبکہ پسِ پردہ یہ سب ایک ہی تالی کے چٹے بٹے ہیں جو باری باری اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں۔عوام کا کچومر اور حتمی انجام اس بدترین ناانصافی، حقوق کی غصب دانی اور کرپشن کا نزلہ ہمیشہ معصوم عوام پر گرتا ہے۔ عوام کا کچومر نکل چکا ہے؛ وہ مہنگائی، جہالت اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ یہ نظام اشرافیہ کے لیے جنت اور عوام کے لیے جہنم بن چکا ہے۔ تاہم، تاریخ کا ایک حتمی سچ یہ بھی ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ جب عوام کی برداشت جواب دے جاتی ہے، تو پھر فرانسیسی انقلاب کی طرح اس استحصالی اشرافیہ کی دکانیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتی ہیں اور تاریخ انہیں عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔

سیاست: بغیر سرمائے کا منافع بخش ترین عالمی کاروبار۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us