Banner
Daily Sahafat Quetta
September 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ساؤتھ ایشین فیسٹول بخیر و خوبی جاری و ساریپشین : پشین چیمبر اف کامرس ایند اندسٹری بلوچستان کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیازیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمیساؤتھ ایشین فیسٹول بخیر و خوبی جاری و ساریپشین : پشین چیمبر اف کامرس ایند اندسٹری بلوچستان کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیازیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمی

ایک شہر اپنے زخموں کے ساتھ جیتا رہا


تحریر: عبدالصمد حقیار

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ایک بار پھر بارود کی ہولناک گھن گرج سے لرز اٹھا چند لمحوں میں ہنستے بستے گھرانوں کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں ماؤں کی گودیں اُجڑ گئیں بچوں کے سروں سے شفقت کے سائے چھن گئے اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے درد و کرب کی علامت بن گئے۔ عیدالاضحیٰ جیسے بابرکت اور خوشیوں بھرے ایام میں یہ اندوہناک سانحہ نہ صرف اس شہر بلکہ پورے ملک کے ضمیر پر ایک کربناک سوال بن کر ابھرا ہے۔ ایک طرف ملک بھر میں عید کی رونقیں سج رہی ہیں بازار آباد ہیں اور بچے خوشیوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب بدقسمت کوئٹہ کے باسی ایک بار پھر اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہیں۔ مائیں بہنیں اور معصوم بچے اپنے عزیزوں کے جنازوں پر نوحہ کناں اور اشک بار ہیں اُن کے ہاتھ خوشیوں کی مہندی کے بجائے اپنے پیاروں کے لہو سے رنگین دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا عیدالضحیٰ پر جانور قربان کرتی ہے جبکہ اس شہر کی دھرتی مسلسل انسانوں کی قربان گاہ بنتی جا رہی ہے۔ یہاں خوشیوں کی صدائیں اکثر دھماکوں کی آوازوں میں دب جاتی ہیں عیدگاہوں سے زیادہ جنازہ گاہیں آباد دکھائی دیتی ہیں اور لوگ عید کی مبارک ساعتوں میں بھی اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سینے سے لگائے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کوئٹہ لہو میں نہاتا رہے گا؟ یہاں کے عوام کے نصیب میں اتنا درد کیوں لکھ دیا گیا ہے؟ ہر سانحے کے بعد مذمتی بیانات، دعوے اور یقین دہانیاں تو سننے کو ملتی ہیں مگر زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے شہری آج بھی خوف عدمِ تحفظ اور بے یقینی کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ کوئٹہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ مختلف قومیتوں ثقافتوں اور خوابوں کا مرکز ہے مگر بدقسمتی سے دہائیوں سے دہشت گردی، بدامنی اور محرومی اس کے مقدر سے چمٹی ہوئی ہیں۔ ہر دھماکے کے بعد وقتی شور برپا ہوتا ہے پھر خاموشی چھا جاتی ہے اور زخموں کے ساتھ جینے والے لوگ دوبارہ معمولاتِ زندگی پر لوٹنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے سانحات صرف انسانی جانیں نہیں لیتے بلکہ نسلوں کے اعتماد سکون اور مستقبل کو بھی نگل جاتے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ریاستی ادارے اور تمام متعلقہ حلقے محض بیانات اور رسمی مذمتوں سے آگے بڑھیں کیونکہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر شہری اپنے گھروں بازاروں اور سڑکوں پر خود کو محفوظ محسوس نہ کریں تو ترقی خوشحالی اور امن کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ کوئٹہ کے عوام نے بہت دکھ سہے ہیں اب اس شہر کو خوف نہیں بلکہ امن چاہیے جنازے نہیں بلکہ زندگی چاہیے ماتم نہیں بلکہ خوشیوں کی بحالی چاہیے اور بے یقینی نہیں بلکہ سکون و تحفظ کا احساس چاہیے۔ اگر حالات یہی رہے تو تاریخ اپنے صفحات پر یہ المناک حقیقت ضرور رقم کرے گی کہ ایک شہر مسلسل لہو میں نہاتا رہا سسکتا رہا اپنے زخموں کے ساتھ جیتا رہا مگر اس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہ تھا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *