Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

کراچی کا اپریل بیت گیا بستیاں اُجاڑ گیا

تحریر: محمد عبیدالله میرانی

کراچی میں اپریل 2026 کا سورج ڈھل گیا مگر اپنے پیچھے ایسی تلخ خبریں چھوڑ گیا جنہیں بھلانا ممکن نہیں بحیثیت ایک کرائم رپورٹر اس ماہ موصول ہونے والی خبریں میرے لیے صرف بے جان اعداد و شمار نہیں تھے بلکہ یہ ایک ہنستے بستے شہر کی بربادی کا نوحہ تھیں۔ اپریل کے ان تیس دنوں میں شہرِ قائد کی گلیوں سے جو اطلاعات مجھ تک پہنچیں وہ انتظامیہ کے منہ پر تمانچہ ہیں جہاں ہر نئی خبر کسی نہ کسی گھر کے چراغ گل ہونے کا پیغام لائی اس ماہ کی سب سے بڑی اور ہولناک سرخی ٹریفک حادثات رہی دستیاب رپورٹس کے مطابق سال کے ابتدائی چار ماہ میں کراچی کی خونی سڑکوں پر جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 312 تک پہنچ چکی ہے صرف اپریل کے دوران ناقص انفراسٹرکچر اور حکومتی غفلت کے گڑھوں نے 100 سے زائد قیمتی جانیں نگل لیں۔ شہر کی شاہراہوں پر موت بن کر دوڑنے والے واٹر ٹینکرز اور بھاری گاڑیوں کی بے لگام رفتار نے مجموعی طور پر 107 جانیں ضائع کیں جن میں صرف واٹر ٹینکرز کے ہاتھوں 31 شہری کچلے گئے یہ وہ خبریں تھیں جنہوں نے ہر حساس دل کو رلا دیا مگر افسوس کہ ان قاتل پہیوں کو روکنے والا کوئی قانون نظر نہیں آیا موسمیاتی شدت کی خبروں نے بھی دل دہلا دیے اپریل کے آغاز میں ہونے والی غیر معمولی بارشوں اور انتظامی نااہلی کی وجہ سے دیواریں گرنے کے واقعات میں کم از کم 27 افراد لقمہ اجل بنے اسی طرح ماہ کے آخر میں ہیٹ ویو کے الرٹ نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلائے رکھا جہاں تپش کی شدت نے ان محنت کشوں کو نشانہ بنایا جو سڑکوں پر رزق کی تلاش میں نکلے تھے مگر موت کا رزق بن گئے کرائم رپورٹر کی حیثیت سے میں نے دیکھا کہ کیسے سرکاری ریکارڈ میں ان اموات کو صرف حادثہ لکھ کر فائلیں بند کر دی گئیں، مگر کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ ان حادثات کا اصل ذمہ دار کون ہے ان خبروں کے پسِ پردہ سب سے بڑا المیہ حکومت کی سرد مہری اور خالی دلاسے ہیں حکومتی ایوانوں سے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے کروڑوں روپے کے معاوضے اور امدادی پیکیجز کے اعلانات تو تواتر سے سامنے آئے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں وزیرِ اعلیٰ نے اعلان تو کیا کہ متاثرین کو فی کس ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ 90 فیصد خاندان آج بھی بیوروکریسی کی پیچیدگیوں اور تصدیقی مراحل کی نذر ہو چکے ہیں ان کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، مگر امداد کے چیکس اب بھی فائلیں دبائے بیٹھے افسروں کے رحم و کرم پر ہیں ایک رپورٹر کے طور پر میرا قلم یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کیا کراچی کے باسی صرف لاشوں کی گنتی کے لیے رہ گئے ہیں کیا حکومت کی ذمہ داری صرف اموات کے بعد تعزیت کرنا ہے یا ان اسباب کا سدِباب کرنا بھی ہے جو زندگی کو اتنا ارزاں بنا دیتے ہیں اپریل تو چلا گیا مگر جو درد جو چیخیں اور جو یتیمی یہ دے کر گیا ہے وہ کراچی کے سینے پر ہمیشہ ایک ناسور بن کر رستی رہیں گی جب تک ان سرکاری قاتلوں اور کرپٹ ٹھیکیداروں کا احتساب نہیں ہوگا یہ خونی سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *