Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

موت کے وقت انسان میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ ہزاروں ا موات دیکھنے والی برطانوی ڈاکٹر کا چشم کشا جواب

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) موت کے وقت انسان میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ ہزاروں مریضوں کی موت اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھنے والی برطانوی ڈاکٹر کیتھرین مینکس نے اس سوال کا چشم کشا جواب دیا ہے۔ “میل آن لائن” کے مطابق 64سالہ ڈاکٹر کیتھرین 30سال تک ہسپتال کے پلی ایٹو کیئر میں فرائض سرانجام دیتی رہیں، جہاں قریب المرگ لوگوں کو رکھاجاتا ہے اورانہیں ایسی ادویات دی جاتی ہیں تاکہ وہ زندگی کے آخری ایام نسبتاً سکون سے گزار سکیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کیتھرین نے مرتے ہوئے انسان کو ایسے پرانے موبائل فون سے تشبیہ دی ہے جس کی بیٹری چارج ہونا چھوڑ دے۔ وہ بتاتی ہیں کہ موت کے قریب پہنچ کر بہت سے لوگ بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی ذہنی حالت نہیں ہوتی کہ جس سے خوفزدہ ہوا جائے بلکہ یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ مرنے والے شخص کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا یا اسے کسی طرح کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا۔ 

ڈاکٹر کیتھرین بتاتی ہیں کہ موت کے قریب پہنچ کر جسم میں جو سب سے پہلی بات مشاہدہ کی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ جسم میں توانائی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور نئی توانائی ملنا بند ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح، جیسے کسی پرانے موبائل فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہو رہی ہو اور اس فون میں خرابی کی وجہ سے آپ بیٹری چارج بھی نہ کر سکتے ہوں۔قریب المرگ لوگوں کو زیادہ بھوک بھی نہیں لگتی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی موت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ وہ اس لیے کھانا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ان کی موت ہو رہی ہوتی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ جوں جوں وقت گزرتاجاتا ہے، قریب المرگ شخص کو زیادہ نیند آنے لگتی ہے اور بالآخر آدمی نہ صرف گہری نیند میں ہوتا ہے بلکہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ یہ آدمی کے آخری لمحات ہوتے ہیں، جو وہ دنیا سے اور اپنے آپ سے بیگانگی میں گزارتا ہے۔ ان آخری لمحات میں آدمی بہت دھیمے سانس لینے لگتا ہے اور آخر میں وہ ایک سانس باہر نکالتا ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ سانس نہیں لیتا۔ 

شیئر کریں: WhatsApp

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *