Banner
Daily Sahafat Quetta
October 19, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبلوچستان میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نسیم الرحمن ملاخیلقومی مفاد مقدم، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے، زرین مگسیمیجر وجاہت وحید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، مینا مجید بلوچاسرائیلی ماہرین نے امریکا-ایران جنگ کے نئے آغاز سے خبردار کردیارواں سال پولیو کا ساتواں کیس کراچی سے رپورٹسونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مستحکم، چاندی مہنگی ہوگئیمذاکرات؛ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی، اختلافات کھل کر سامنے آگئےنئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبلوچستان میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نسیم الرحمن ملاخیلقومی مفاد مقدم، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے، زرین مگسیمیجر وجاہت وحید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، مینا مجید بلوچاسرائیلی ماہرین نے امریکا-ایران جنگ کے نئے آغاز سے خبردار کردیارواں سال پولیو کا ساتواں کیس کراچی سے رپورٹسونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مستحکم، چاندی مہنگی ہوگئیمذاکرات؛ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی، اختلافات کھل کر سامنے آگئے

موت کے وقت انسان میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ ہزاروں ا موات دیکھنے والی برطانوی ڈاکٹر کا چشم کشا جواب

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) موت کے وقت انسان میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ ہزاروں مریضوں کی موت اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھنے والی برطانوی ڈاکٹر کیتھرین مینکس نے اس سوال کا چشم کشا جواب دیا ہے۔ “میل آن لائن” کے مطابق 64سالہ ڈاکٹر کیتھرین 30سال تک ہسپتال کے پلی ایٹو کیئر میں فرائض سرانجام دیتی رہیں، جہاں قریب المرگ لوگوں کو رکھاجاتا ہے اورانہیں ایسی ادویات دی جاتی ہیں تاکہ وہ زندگی کے آخری ایام نسبتاً سکون سے گزار سکیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کیتھرین نے مرتے ہوئے انسان کو ایسے پرانے موبائل فون سے تشبیہ دی ہے جس کی بیٹری چارج ہونا چھوڑ دے۔ وہ بتاتی ہیں کہ موت کے قریب پہنچ کر بہت سے لوگ بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی ذہنی حالت نہیں ہوتی کہ جس سے خوفزدہ ہوا جائے بلکہ یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ مرنے والے شخص کو کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا یا اسے کسی طرح کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا۔ 

ڈاکٹر کیتھرین بتاتی ہیں کہ موت کے قریب پہنچ کر جسم میں جو سب سے پہلی بات مشاہدہ کی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ جسم میں توانائی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور نئی توانائی ملنا بند ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح، جیسے کسی پرانے موبائل فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہو رہی ہو اور اس فون میں خرابی کی وجہ سے آپ بیٹری چارج بھی نہ کر سکتے ہوں۔قریب المرگ لوگوں کو زیادہ بھوک بھی نہیں لگتی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی موت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ کھانا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ وہ اس لیے کھانا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ان کی موت ہو رہی ہوتی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ جوں جوں وقت گزرتاجاتا ہے، قریب المرگ شخص کو زیادہ نیند آنے لگتی ہے اور بالآخر آدمی نہ صرف گہری نیند میں ہوتا ہے بلکہ بے ہوش ہو جاتا ہے۔ یہ آدمی کے آخری لمحات ہوتے ہیں، جو وہ دنیا سے اور اپنے آپ سے بیگانگی میں گزارتا ہے۔ ان آخری لمحات میں آدمی بہت دھیمے سانس لینے لگتا ہے اور آخر میں وہ ایک سانس باہر نکالتا ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ سانس نہیں لیتا۔ 

شیئر کریں: WhatsApp

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *