Banner
Daily Sahafat Quetta
September 18, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہپاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہ

اب مستقبل کے ہوم روبوٹ ہوم چورز کی ویڈیوز سے تیار ہوں گے

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے ہوم روبوٹ کو ہر گھر تک پہنچانے کا خواب حقیقت کے قریب کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں جہاں لوگ اپنے روزمرہ کے کام ریکارڈ کر کے روبوٹس کی تربیت میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

مستقبل کے ہوم روبوٹ کو انسانوں کے طرز عمل اور روزمرہ کے کاموں کی تربیت دینے کے لیے دنیا بھر میں ایک نیا شعبہ جنم لے چکا ہے۔ اب افراد اپنے سر پر کیمرہ یا اسمارٹ فون لگا کر کھانا پکانے، صفائی، باغبانی اور پالتو جانوروں کی دیکھ بھال جیسے کام ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ ’ایگو سینٹرک ڈیٹا‘ یا انسانی ڈیٹا کہلاتا ہے، جو روبوٹ کو مختلف ماحول میں محفوظ اور مؤثر طریقے سے کام کرنا سکھاتا ہے۔

کمپنیوں جیسے Micro1 کے مطابق، دنیا کے 71 ممالک میں تقریباً 4,000 افراد ہر ماہ لاکھوں گھنٹے کی ویڈیوز فراہم کر رہے ہیں، لیکن روبوٹ کو عام مقصد کے لیے تربیت دینے کے لیے اربوں گھنٹے کی ویڈیوز درکار ہیں۔ اس ڈیٹا سے روبوٹ اشیاء، فاصلے اور جسمانی حرکات کو پہچاننا سیکھتے ہیں۔

یہ رجحان چیٹ جی پی ٹی اور دیگر اے آئی چیٹ بوٹس کے آغاز کی طرح ہے، جہاں بڑی مقدار میں ڈیٹا سے ماڈلز تیار کیے گئے۔ تاہم روبوٹ کے لیے زیادہ مخصوص اور تفصیلی ڈیٹا چاہیے کیونکہ گھر کے ماحول میں فرنیچر، آلات اور انسان مسلسل حرکت میں رہتے ہیں، جس سے پیچیدگی بڑھ جاتی ہے۔

چین میں 60 سے زیادہ روبوٹ ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں اور جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا میں بھی تربیتی ماڈلز پر کام جاری ہے۔ تربیتی ویڈیوز کی قیمت علاقے کے حساب سے مختلف ہے، کیونکہ امریکہ میں صارفین کے پاس جلد روبوٹ خریدنے کی صلاحیت موجود ہے، اس لیے ڈیٹا کی مانگ زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹ کو روزمرہ کے کام مثلاً کھانا پکانا، صفائی اور سامان اٹھانا سکھانے کے لیے انسانی انداز اور مشاہدے کی ضرورت ہے۔ موجودہ روبوٹ زیادہ تر کنٹرول شدہ ماحول میں کام کر سکتے ہیں، لیکن گھریلو استعمال کے لیے ابھی کامیابی کی شرح کم ہے۔

سیکیورٹی اور حفاظتی خدشات بھی ہیں، مثال کے طور پر اگر روبوٹ پلے روم میں بچوں اور کھلونے میں فرق نہ پہچانے تو نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اب تک تربیت کے لیے جانوروں جیسے کتے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ روبوٹ محفوظ اور موثر طور پر کام کر سکیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *