Banner

غزہ کی نسل کُشی اور مسلم حکمرانوں کا مجرمانہ کردار

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

غزہ کی نسل کُشی اور مسلم حکمرانوں کا مجرمانہ کردار

محترم قارئین! یہ ایک ایسی لرزہ خیز حقیقت ہے جس کی جڑیں مسلم دنیا کی سیاسی ترجیحات اور اخلاقی دیوالیہ پن میں پیوست ہیں۔ غزہ میں جاری موجودہ نسل کُشی محض اسرائیلی جارحیت کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ خاموش تائید اور عملی تعاون بھی شامل ہے جو کئی اہم مسلم ممالک کی جانب سے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو مسلم دُنیا کی اکثریت نے فلسطینی کاز کو محض ایک سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا، جبکہ پس پردہ اپنے اقتدار کے تحفظ اور معاشی مفادات کے لیے انہی قوتوں سے پینگیں بڑھائیں جو آج فلسطینیوں کے وجود کو مٹانے پر تلی ہوئی ہیں۔اس جرمِ مسلسل میں سب سے نمایاں کردار مصر کا ہے، جس نے جغرافیائی اہمیت کے باوجود غزہ کے محصورین کے لیے “رفح بارڈر” کو ایک جیل کے دروازے میں تبدیل کر دیا۔ قاہرہ کے حکمرانوں نے نہ صرف امداد کی ترسیل کو اسرائیل کی مرضی سے مشروط کیا بلکہ سرنگوں کو تباہ کر کے غزہ کی زندگی کی رہی سہی ڈور بھی کاٹ دی، تاکہ واشنگٹن سے ملنے والی سالانہ فوجی امداد پر آنچ نہ آئے۔ اسی طرح اردن کا کردار بھی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں رقم ہوگا؛ جہاں ایک طرف فلسطینی نژاد آبادی کا دباؤ ہے، وہیں اردنی فضائیہ نے اسرائیلی میزائلوں کے دفاع میں ڈھال بن کر ثابت کیا کہ ان کی وفاداری فلسطینی بچوں کے بجائے صیہونی ریاست کے تحفظ کے ساتھ ہے۔متحدہ عرب امارات اور بحرین نے “ابراہیمی معاہدات” کی آڑ میں اسرائیل کو وہ اخلاقی اور سفارتی جواز فراہم کیا جس کی اسے دہائیوں سے تلاش تھی۔ ان ممالک نے نہ صرف اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور دفاعی شراکت داری کو عروج پر پہنچایا بلکہ غزہ پر بمباری کے دوران بھی اسرائیلی معیشت کو سہارا دینے کے لیے متبادل تجارتی راہداریاں فراہم کیں تاکہ بحیرہ احمر میں حوثی ناکہ بندی کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔سعودی عرب کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں؛ جہاں ایک طرف علامتی مذمت کی گئی، وہیں دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو پسِ پردہ جاری رکھا گیا اور ریاض کے موسمِ بہار کے میلوں ٹھیلوں نے یہ پیغام دیا کہ فلسطینیوں کا لہو ان کی رنگینیوں میں خلل ڈالنے کے لیے ناکافی ہے۔ترکیہ کے صدر اردگان نے اگرچہ عوامی سطح پر سخت بیانات دیے، مگر زمین حقائق یہ رہے کہ جنگ کے بدترین مہینوں میں بھی ترکیہ سے اسرائیل کو سٹیل، ایندھن اور دیگر اہم سامان کی سپلائی جاری رہی۔ یہ دوغلا پن اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں بھی سیاست پر معیشت غالب ہے۔ مراکش نے بھی دفاعی تعاون کے نام پر اسرائیل کو اپنے فوجی اڈے اور انٹیلیجنس تک رسائی دے کر فلسطینی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔عالمی حقائق میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کس طرح مسلم دنیا کی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے مزاحمتی گروہوں کی معلومات مغربی طاقتوں کے ساتھ شیئر کیں، جو بالآخر اسرائیل کے حق میں استعمال ہوئیں۔ غزہ کی نسل کُشی میں مسلم ممالک کا کردار محض خاموشی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک فعال “سہولت کاری” ہے جس نے صیہونی ریاست کو اس بات کا حوصلہ دیا کہ وہ کسی بھی خوف کے بغیر بچوں اور عورتوں کا قتل عام جاری رکھ سکے۔ یہ ممالک اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کی جانب سے تیل کی سپلائی کی بندش یا محض ایک مضبوط سفارتی بائیکاٹ اسرائیل کو پسپائی پر مجبور کر سکتا تھا، مگر انہوں نے اپنے مالیاتی مفادات اور امریکی خوشنودی کو ترجیح دی۔جب تاریخ لکھی جائے گی تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ جب دو ارب آبادی والی اُمت کی دہلیز پر انسانیت کا جنازہ نکل رہا تھا، تو ان کی افواج اور ایٹمی طاقتیں کس کی حفاظت کے لیے مخصوص تھیں؟ کیا پاکستان جیسے ایٹمی ملک کا کردار صرف تعزیتی قراردادوں تک محدود ہونا چاہیے تھا؟ یہ نسل کُشی ایک ایسا سیاہ باب ہے جس نے مسلم اُمہ کے اتحاد کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ عصری سیاست میں ایمان اور اخلاقیات کی جگہ صرف مفادات اور اقتدار کی ہوس نے لے لی ہے۔ آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ غزہ کا لہو صرف اسرائیلی ہاتھوں پر نہیں بلکہ ان تمام مسلم حکمرانوں کے گریبانوں پر بھی ہے جنہوں نے خاموشی خرید لی اور صیہونی جبر کے سامنے سپر ڈال کر اپنی ملت کے ساتھ غداری کی۔ یہ تاریخ کے وہ مجرم ہیں جنہیں نہ زمین معاف کرے گی اور نہ ہی آسمان کا مالک۔

غزہ کی نسل کُشی اور مسلم حکمرانوں کا مجرمانہ کردار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us