Banner

سریاب روڈ منصوبے کے فنڈز محفوظ رکھے جائیں، بلوچستان ہائی کورٹ

Share

Share This Post

or copy the link


چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سریاب روڈ (شمالی جانب) اور سریاب لنک روڈ (مغربی سائیڈ) پر قائم موجودہ گول چکر کی منتقلی اور نئی سڑک کی تعمیر سے متعلق دائر ائینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی حکم مورخہ 26 مارچ 2026 کی روشنی میں قائم کمیٹی نے اپنی پیش رفت رپورٹ، مجوزہ پلان اور گوگل نقشہ عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد بار واٹس ایپ نوٹسز جاری کرنے کے باوجود متعلقہ فریقین کے بیشتر وکلاءاجلاس میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ پرانی فروٹ و سبزی منڈی کے اطراف زمین یا دکانوں کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والے نجی افراد بھی مطلوبہ دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکے۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی کہ عوامی فنڈز کے ضیاع سے بچنے کیلئے محکمہ مواصلات و تعمیرات بلوچستان کو اکتوبر 2025 میں منظور شدہ پلان کے مطابق فوری طور پر ترقیاتی کام شروع کرنے کی ہدایت کی جائے، کیونکہ مالی سال اختتام کے قریب ہے۔ مزید تجویز دی گئی کہ متاثرہ مالکان کو قانون و پالیسی کے مطابق مجوزہ کمرشل پلازوں میں دکانیں الاٹ کرکے نقصان کا ازالہ کیا جائے، جبکہ کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (QDA) اور ضلعی انتظامیہ کو QDA کی اراضی پر تجاوزات کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا اختیار دیا جائے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ منصوبہ موجودہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل ہے، تاہم 30 جون قریب ہونے کے باعث اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو منصوبے کیلئے مختص فنڈز ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ اس پر عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات، سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو کو ہدایت جاری کی کہ منصوبے کے فنڈز محفوظ رکھے جائیں اور انہیں اضافی یا سرنڈر شدہ فنڈز کے زمرے میں شامل نہ کیا جائے۔دوران سماعت QDA کے وکیل محمد اکرم شاہ نے عدالت کو بتایا کہ مجوزہ پلان QDA کی گورننگ باڈی سے منظور ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانی فروٹ اینڈ سبزی منڈی کی اراضی پر بزنس سینٹر تعمیر کیا جائے گا اور اس مرکز کی تکمیل سے قبل کسی موجودہ دکاندار کو بے دخل یا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ ان کے مطابق موجودہ دکانیں اس وقت تک نہیں گرائی جائیں گی جب تک متاثرین کو نئی جگہ فراہم نہیں کر دی جاتی۔دوسری جانب نجی فریقین اور مداخلت کنندگان کے وکلاءنے مجوزہ منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے م¶قف اختیار کیا کہ QDA اپنی زمین بچانے کیلئے سڑک کا رخ نجی مالکان کی زمینوں کی طرف موڑنا چاہتی ہے، جبکہ مجوزہ بزنس سینٹر میں متبادل جگہ دینے کی یقین دہانی ناکافی ہے۔عدالت نے تمام فریقین کے اعتراضات اور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو ایک اور موقع دیتے ہوئے حکم دیا کہ تمام متعلقہ فریقین اپنی زمینوں اور دکانوں کے اصل دستاویزی ثبوت کے ساتھ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ QDA کا اسٹیٹ آفس، تحصیلدار سریاب اور متعلقہ ریونیو حکام بھی کمیٹی کے ساتھ شامل ہوں تاکہ الاٹمنٹ اور ملکیت کی کراس ویری فکیشن کی جا سکے۔عدالت نے حکم دیا کہ کمیٹی کا اجلاس 2 مئی 2026 کو صبح 11 بجے سے دوپہر 12 بجے تک منعقد ہوگا، جس میں QDA کی دو تجاویز اور سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر CMPQD کی پیش کردہ الائنمنٹ سمیت تمام آپشنز پر غور کیا جائے گا۔بلوچستان ہائی کورٹ نے اس امر پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا کہ علاقے سے تاحال ناجائز تجاوزات ختم نہیں کی گئیں۔ عدالت نے ڈائریکٹر جنرل QDA، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایڈمنسٹریٹر QMC کو مشترکہ طور پر حکم دیا کہ تمام غیر قانونی تجاوزات فوری طور پر ختم کی جائیں، خواہ وہ ناجائز قابضین ہوں یا ایسے الاٹیز جن کے مقدمات اعلیٰ عدالتوں تک فیصل ہو چکے ہوں۔ عدالت نے تصویری شواہد کے ساتھ جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ڈی آئی جی پولیس کو بھی مکمل معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔کیس کی مزید سماعت اور عملدرآمد رپورٹ کیلئے 7 مئی 2026 کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

سریاب روڈ منصوبے کے فنڈز محفوظ رکھے جائیں، بلوچستان ہائی کورٹ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us