Banner

افغانستان کا مستقبل عالمی ذمہ داری اور پائیدار استحکام

افغانستان کا مستقبل عالمی ذمہ داری اور پائیدار استحکام
Share

Share This Post

or copy the link

افغانستان کا مستقبل عالمی ذمہ داری اور پائیدار استحکام
احمــــــدخان اچکزئی

محترم قارئین ۔ افغانستان کی تاریخ آج ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے جہاں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا نہ صرف افغان عوام بلکہ عالمی امن کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے، لہٰذا ہم نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو انخلاء کے وقت بھی یہی مطالبہ بطور نصیحت کیا تھا کہ افغانستان کو دوبارہ 1990 کی دہائی جیسی بے سر و سامانی کی حالت میں نہ چھوڑا جائے۔ عالمی برادری کی یہ بنیادی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانوں کے لیے ایک ایسا جامع انتظامی، قانونی اور بنیادی ڈھانچہ تشکیل دینے میں مدد کرے جس میں تمام فریقین اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت پرامن زندگی گزار سکیں، کیونکہ نیٹو کا غیر ذمہ دارانہ انخلاء افغانوں کے ساتھ 2001 کی مداخلت سے بھی بڑا انتقام ثابت ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں یہ خطہ ایک بار پھر خونی خانہ جنگی کی نذر ہو جائے گا۔ 1990 کی دہائی کا المیہ آج بھی افغانوں کے ذہنوں میں نقش ہے جب سوویت یونین کی واپسی کے بعد دنیا نے اس ملک سے آنکھیں پھیر لی تھیں اور اس بے رخی کا نتیجہ ایک ایسی تباہ کن خانہ جنگی کی صورت میں نکلا جس نے نہ صرف یہاں کا ڈھانچہ تباہ کیا بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی لپیٹ میں لے لیا۔ مجھے یاد ہے کہ 1993 میں جب میں سردار علی احمد جان جوگیزئی کا مہمان تھا تو میری ملاقات امریکی سیاسی کونسلر (غالباً جان الیکسی) سے ہوئی تھی جہاں میں نے انہیں واضح پیغام دیا تھا کہ اگر افغانوں کو یوں تنہاء چھوڑا گیا تو یہ صرف ان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا نقصان ہوگا اور آج بدقسمتی سے وہی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے جہاں ایک ایسا سیاسی خلا جنم لے رہا ہے جسے صرف تشدد ہی پُر کر سکتا ہے۔ ایک پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کو محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرہ تسلیم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی ایک ایسا ڈھانچہ متعارف کروایا جائے جو بین الاقوامی انسانی حقوق اور مقامی و اسلامی روایات کے درمیان توازن پیدا کر سکے۔ جب تک اقتدار کی منتقلی اور حکومتی امور کی انجام دہی کے لیے ایک منظم طریقہ کار وضع نہیں کیا جاتا تب تک گروہی ٹکراؤ کا خدشہ موجود رہے گا، اس لیے ایک ایسا نظام جس میں تمام نسلی، لسانی اور سیاسی اکائیوں کی منصفانہ نمائندگی ہو وہی طویل المدتی امن کی واحد ضمانت ہے۔ اس گھمبیر صورتحال کا عملی حل یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے تعاون سے ایک “مضبوط امن فورس” تشکیل دی جائے اور اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے تقریباً دو لاکھ تربیت یافتہ اہلکاروں کو کم از کم پانچ سال کے لیے تعینات کیا جائے تاکہ وہ کسی گروہ سے لڑنے کے بجائے ملک میں انتظامی اور ادارہ جاتی استحکام کے لیے ایک سازگار ماحول اور بفر زون فراہم کر سکیں۔ اس فورس کی موجودگی میں جب مقامی اداروں کو پرامن فضا ملے گی تو وہ بہتر انداز میں تعمیرِ نو اور ملکی امور سنبھالنے کے قابل ہو سکیں گے، مگر اس امن عمل کی کامیابی کے لیے نیٹو کے ساتھ ساتھ روس، چین اور سعودی عرب جیسے علاقائی و عالمی طاقتوں کو ضامن بننا ہوگا کیونکہ ان ممالک کا اثر و رسوخ تمام افغان دھڑوں پر واضح ہے اور ان کی مشترکہ ضمانت ایک ایسے مضبوط سیاسی معاہدے کی بنیاد رکھ سکتی ہے جسے کوئی بھی فریق توڑنے کی جرات نہ کر سکے۔ افغانستان کو اب ایک ایسی ذمہ دار ریاست بننا ہوگا جہاں قانون کی بالادستی ہو اور تمام گروہ نظامِ حکومت میں اپنی شرکت کو یقینی دیکھیں، کیونکہ اگر اس بار بھی عالمی برادری نے صرف اپنے انخلاء کو کامیابی سمجھا اور زمینی حقائق سے آنکھیں بند کر لیں تو یہ دہائی بھی افغانوں کی بربادی اور عالمی بے امنی کی ایک نئی داستان رقم کرے گی۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ جذبات کے بجائے جرات مندانہ اور حقیقت پسندانہ فیصلوں سے کام لیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ہمیں تاریخ کا مجرم نہ گردانیں۔

افغانستان کا مستقبل عالمی ذمہ داری اور پائیدار استحکام

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us