Banner

”قراردادِ پاکستان سے استحکامِ پاکستان تک — یکجہتی، شعور اور ترقی کا سفر“

featured
Share

Share This Post

or copy the link

منشاقاضی
حسبِ منشا

کسٹم کئیر ہیلتھ سوسائٹی کے زیرِ اہتمام یومِ پاکستان کے پُرمسرت موقع پر ایک باوقار اور فکری نشست بعنوان “سیمینار: قراردادِ پاکستان 1940ء سے استحکامِ پاکستان 2026ء” کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینار قومی شعور کو بیدار کرنے، نوجوان نسل کو تاریخِ پاکستان سے جوڑنے اور ملکی استحکام کے تقاضوں پر روشنی ڈالنے کے لیئے منعقد کیا گیا، جس میں علمی، سماجی اور طبی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کی صدارت سابق وفاقی ٹیکس محتسب پاکستان، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے کی، جنہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں قراردادِ پاکستان کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد محض ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کے عزم، اتحاد اور مستقبل کی روشن تعبیر کا سنگِ میل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیئے قومی یکجہتی، دیانت داری اور اجتماعی شعور کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ نقابت کے فرائض بڑی خوبصورتی اور کمال مہارت کے ساتھ مصطفی کمال پاشا نے ادا کیئے
مہمانِ خصوصی کے طور پر جناب مجیب الرحمن شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہمیں تعلیم، تحقیق اور سماجی خدمت کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بنایا جا سکے۔ دیگر معزز مہمانوں میں مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن کے چیئرمین خالد محمود ، سٹیزن کونسل اف پاکستان کے صدر سپریم کورٹ کے سینئر قانون دان رانا امیر احمد خان ، علامہ فاروق اکرم ، ممتاز ماہر تعلیم جمیل نجم ، ممتاز سیاسی راہنما میاں وحید احمد ،معروف سماجی شخصیت حاجی رمضان چشتی ، شاعر ناصر رضوی ، سید غلام نقشبند ، ڈاکٹر جاوید ندیم ، لاھور پریس کلب کی ممبر گورننگ باڈی رابعہ عظمت ، سلمان خان ، انجینئر مجید غنی ، علامہ عبدالستار عاصم ، روح الامین ، راشد حجازی، عبدالباسط اور ملک کے نامور شاعر حیدری بابا شامل تھے جنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قراردادِ پاکستان کے نظریاتی پس منظر اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ 1940ء کی قرارداد سے لے کر 2026ء تک کا سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایک قوم کی کامیابی صرف سیاسی آزادی سے نہیں بلکہ فکری آزادی، اخلاقی مضبوطی اور سماجی انصاف سے وابستہ ہوتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔
یہ سیمینار کسٹم ہیلتھ کئیر سوسائٹی پاکستان، 69-M گلبرگ III، لاہور میں منعقد ہوا، جہاں شرکاء کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے قومی جذبے کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیئے اپنی تمام تر توانائیاں وقف کریں گے۔
یہ سیمینار نہ صرف ایک علمی نشست ثابت ہوا بلکہ اس نے شرکاء کے دلوں میں حب الوطنی، ذمہ داری اور امید کی ایک نئی شمع بھی روشن کی، جو یقیناً مستقبل میں ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد بنے گی۔ نقیب محفل ملک کے نامور تجزیہ نگار جناب مصطفی کمال پاشا نے مہمانانِ گرامی جناب خالد محمود اور مجیب الرحمن شامی کو اپنا دادا استاد قرار دیا ۔ مصطفی کمال پاشا خوبصورت عادتوں کے ایک دلفریب انسان ہیں ان کی نقابت میں خطابت اور معلومات عامہ کے خزینے موجود تھے جو انہوں نے پھولوں کی طرح سامعین پر بے دریغ نچھاور کیئے ۔مصطفی کمال پاشا نے کہا پاکستان کا قیام برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے ۔ جناب خالد یزدانی کے انتظامات اور اشفاق احمد گجر کے حسنِ انتظامات خاور رسول کی صورت گری کے رہین منت تھے۔۔ ۔ یہ تقریب اس حوالے سے یاد رکھی جائے گی کہ ہال تنگی ء داماں کی شکایت کر رہا تھا ۔۔ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ جس کا سہرا جہاں پوری ٹیم اور تھیم کو جاتا ہے وہاں منصب پر خدمت غالب دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ اس کامیابی پر مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ آزاد کشمیر حکومت کے سابق وزیر راجہ جاوید اقبال بھی تشریف لائے تھے ۔اور وہ اپنی بعض ناگزیر مجبوری کی وجہ سے وقت نہ دے سکے ۔

”قراردادِ پاکستان سے استحکامِ پاکستان تک — یکجہتی، شعور اور ترقی کا سفر“

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us