Banner

​برطانیہ کی ٹھوکریں، امریکہ کا سبق اور افغان جنگ کے پسِ پردہ حقائق

featured
Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

​برطانیہ کی ٹھوکریں، امریکہ کا سبق اور افغان جنگ کے پسِ پردہ حقائق

محترم قارئین! ​تاریخِ عالم میں سلطنتوں کے عروج و زوال کی داستانیں محض قصہ پارینہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تازیانہ عبرت ہوتی ہیں۔ بالخصوص افغانستان کی وہ سنگلاخ سرزمین، جسے تاریخ دان “سلطنتوں کا قبرستان” کہتے ہیں، وہاں برطانیہ نے اپنی زمینی حقائق کی نادانی سے اپنے زوال کا راستہ ہموار کیا جبکہ صدیوں بعد امریکہ نے انہی برطانوی ٹھوکروں کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنایا۔ برطانوی ہند کی تاریخ میں پہلی اینگلو افغان جنگ (1839ء) ایک ایسا سیاہ باب ہے جہاں برطانیہ نے جلاوطن بادشاہ شاہ شجاع کی مصنوعی تاجپوشی کے لیے تقریباً دو لاکھ کی عظیم الشان فوج کے ساتھ یلغار کی۔ اگرچہ عارضی طور پر فتح حاصل کر لی گئی، مگر برطانیہ کی فاش ترین غلطی یہ تھی کہ انہوں نے شاہ شجاع کو محض چھ ماہ کے اندر ایک بے اختیار کٹھ پتلی کے طور پر پیش کر کے افغانوں کی غیرت کو للکارا۔​اس کے برعکس، جب 2001ء میں امریکی سامراج نے اس سرزمین پر قدم رکھا، تو اس نے برطانیہ کی عجلت پسندی سے بچتے ہوئے حامد کرزئی کو تیرہ برس اور بعد میں اشرف غنی کو سات برس تک اقتدار کے مصنوعی ایوانوں میں برقرار رکھا، تاکہ عالمی اور مقامی سطح پر اپنی جڑوں کو مستحکم دکھا سکے۔ برطانیہ کی دوسری بڑی ناکامی افغان سپاہیوں کی تنخواہوں اور مقامی عمائدین کی مراعات کی اچانک بندش تھی، جس نے پورے خطے میں اشتعال کی آگ بھڑکا دی۔ اس مالیاتی ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2 برس 6 ماہ کے عرصے میں ایک ایسی ہمہ گیر عوامی بغاوت اٹھی جس نے شاہ شجاع اور برطانوی فوج کے پندارِ اقتدار کو خاک میں ملا دیا اور اقتدار دوبارہ افغانوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو گیا۔ امریکہ نے یہاں بھی برطانوی نقشِ قدم پر چلنے کے بجائے بیس سال تک مالیاتی بہاؤ کو جاری رکھا اور پورے افغان نظام کو اپنے ڈالرز کا مرہونِ منت بنائے رکھا۔​برطانوی مہم جوئی کی ناکامی کا اصل سبب افغان معاشرت اور پشتون تہذیب کے بنیادی ڈھانچے سے مکمل لاعلمی اور بغیر کسی سماجی مطالعے کے حملہ آور ہونا تھا۔ پشتون معاشرہ “پشتون ولی” جیسے قدیم اور ناقابلِ شکست ضابطہ اخلاق پر قائم ہے، جو پوری قوم کو ایک مضبوط فولادی لڑی میں پرو دیتا ہے۔ پشتونوں کی سماجی اور دفاعی طاقت کے سات بنیادی مراکز ہیں جو کسی بھی بیرونی قوت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔
اولاً: پشتون ولی، جو قومی غیرت اور ضابطہ حیات کا محور ہے۔
ثانیاً حجرہ، جو اجتماعی مشاورت اور سیاسی فیصلوں کا گہوارہ ہے۔
ثالثاً مسجد، جو اتحاد کا وہ عملی مرکز ہے جہاں دن میں پانچ بار پوری بستی یکجا ہو کر اپنے اتحاد کی تجدید کرتی ہے۔
رابعاً مذہبی پیشوا (ملا)، جو فکری و نظریاتی رہنمائی کا منبع ہے۔
خامساً سادات، جو معاشرے میں روحانی و اخلاقی قوت کی علامت ہیں۔
سادساً علاقائی خان، جو انتظامی اور دفاعی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سابعاً جرگہ، جس کی زبان سے نکلا ہوا لفظ قانون کا درجہ رکھتا ہے۔
​برطانیہ ان مراکزِ قوت کی تزویراتی اہمیت کو سمجھنے میں قطعی طور پر ناکام رہا، جبکہ امریکہ نے اپنی جدید “نفسیاتی جنگ” (Psychological Warfare) کے ذریعے ان روایتی مراکز کو توڑنے یا انہیں اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی۔ مالیاتی محاذ پر برطانیہ کا طرزِ عمل روایتی اور شاہانہ تھا جہاں وہ اپنے شاہی خزانے کو بے دریغ لٹا رہا تھا، لیکن امریکہ نے اس جنگ کو ایک “منافع بخش مہم” (Profitable Venture) میں تبدیل کر دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا بھر سے کھربوں ڈالر بٹورے گئے اور 2.1 ٹریلین ڈالر کا قرض لے کر اس آگ میں جھونکا گیا۔ اس مالیاتی کھیل کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ امریکہ نے افغانوں کو تو اس جنگ میں مصروف رکھا، مگر اس سرمائے کا تقریباً 80 فیصد حصہ درحقیقت چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنے اور اپنے تزویراتی حریفوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے استعمال کیا۔​الغرض، امریکہ نے برطانوی غلطیوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور افغانستان کی جنگ کو محض ایک عسکری مہم کے بجائے انتہائی سائنسی، عقلی اور معاشی بنیادوں پر لڑا۔ اس کا اصل مقصد محض زمین کے ایک ٹکڑے پر قبضہ نہیں تھا بلکہ اس جغرافیائی پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے عالمی توازنِ قوت (Balance of Power) کو اپنے حق میں برقرار رکھنا تھا۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے برطانوی شکست کو ایک عبرتناک انجام بنا دیا اور امریکی مداخلت کو ایک طویل سائنسی اور معاشی منصوبہ بندی کے طور پر تاریخ میں درج کیا۔

​برطانیہ کی ٹھوکریں، امریکہ کا سبق اور افغان جنگ کے پسِ پردہ حقائق

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us