Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئی

طلاق کے بعد نکاح نامے میں درج رقم اور زیورات سے متعلق عدالت کا بڑا فیصلہ

ہائی کورٹ نے طلاق کے بعد نکاح نامے میں درج رقم اور زیورات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نکاح نامے کے کالم میں درج رقم یا زیورات شوہر طلاق کے بعد بھی ادا کرنے کا پابند ہے۔

عدالت کے مطابق اگر شوہر نکاح نامے میں درج زیورات فراہم نہ کرے تو بیوی مارکیٹ ویلیو کے تحت رقم کی حق دار ہوگی۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے شوہر کو سابقہ بیوی کو نکاح نامے میں درج زیورات ادا کرنے کا حکم درست قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے عامر علی کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا کہ اگر نکاح نامے میں پیسے اور زیورات درج ہوں تو ہر چیز الگ الگ ادا کرنا ہوتی ہے، جبکہ نکاح نامے میں درج تمام اشیا مل کر مہر بنتا ہے۔

فیصلے کے مطابق درخواست گزار کی شادی 2011 میں ہوئی تھی اور حقائق کے مطابق اس نے حق مہر میں 5 ہزار روپے، 5 تولہ چاندی اور 10 تولہ سونا نکاح نامے میں درج کروایا تھا۔

درخواست گزار کے مطابق حق مہر 5 ہزار روپے تھا جو ادا کر دیا گیا تھا جبکہ 5 تولہ چاندی اور 10 تولہ سونا جعل سازی سے نکاح نامے میں شامل کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹ نے نکاح نامے کے مواد کا درست جائزہ نہیں لیا۔

ریکارڈ کے مطابق گواہوں نے نکاح نامے کی تصدیق کی اور درخواست گزار نے بھی اپنے دستخط کی تصدیق کی ہے۔

سابقہ بیوی نے ٹرائل کورٹ میں نکاح نامے کی مصدقہ کاپی عدالت میں پیش کی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نکاح نامے میں مبینہ جعلی اندراج کو ثابت نہیں کر سکا، لہٰذا فیملی کورٹ کا فیصلہ مکمل ریکارڈ اور شواہد پر مبنی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ اسی صورت میں فیملی کورٹ کے فیصلوں میں مداخلت کرتی ہے جب وہ قانون کے مطابق نہ ہو۔ عدالت نے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حق مہر کی مکمل ادائیگی کا حکم دے دیا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *