Banner
Daily Sahafat Quetta
October 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
انصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغیانصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغی

مہنگائی کے طوفان میں ڈوبتی زندگی

محمدنسیم رنزوریار

مہنگائی کے طوفان میں ڈوبتی زندگی

قارئین کرام! مہنگائی کا طوفان اس وقت پاکستان کے ہر گھر کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے بلکہ یوں کہنا بجا ہوگا کہ یہ طوفان اب گھروں کے اندر داخل ہو کر غریب اور متوسط طبقے کی خوشیوں کو بہا کر لے گیا ہے، ملک کی معاشی صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں ایک عام انسان کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں رہا، وفاقی سطح پر معاشی پالیسیوں کا عدم تسلسل اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہ راست عوام کی جیب پر اثر انداز ہو رہا ہے، ڈالر کی اڑان نے جہاں صنعتوں کو تالے لگوائے وہیں درآمدی اشیاء کی قیمتوں کو پر لگ گئے جس کا سارا بوجھ بلاآخر اس غریب کسان اور مزدور پر پڑا جو پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھا، ملکی معیشت کی بدحالی نے عام آدمی کو ذہنی مریض بنا دیا ہے کیونکہ جب آمدن کم اور اخراجات ہمالیہ جیسے بلند ہوں تو انسانی اعصاب جواب دے جاتے ہیں، صوبائی سطح پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے، چاروں صوبوں میں انتظامی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، ہر صوبے کی اپنی الگ مجبوریاں ہیں لیکن درد مشترک ہے، پنجاب کے میدانی علاقوں سے لے کر بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں تک ہر جگہ آٹے کے ٹرکوں کے پیچھے بھاگتی زندگی تماشہ بن کر رہ گئی ہے، صوبائی حکومتیں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے منڈیوں میں نرخ نامے محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئے ہیں، غریب عوام جو کبھی سبزی اور دال کو غنیمت جانتے تھے اب ان کی پہنچ سے وہ بھی باہر ہوتی جا رہی ہیں، شہری زندگی کا تو نقشہ ہی بدل گیا ہے، شہروں میں کرایہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے جہاں بجلی کے کمر توڑ بل، گیس کی لوڈ شیڈنگ اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے، وہ والدین جو اپنے بچوں کو اچھے اسکولوں میں پڑھانے کا خواب دیکھتے تھے اب وہ بچوں کی فیسیں ادا کرنے یا کچن کا راشن پورا کرنے کے درمیان تذبذب کا شکار ہیں، شہروں کی گلیوں میں اب وہ رونق نہیں رہی بلکہ ہر چہرے پر ایک انجانہ خوف اور پریشانی عیاں ہے، چھوٹی دکانیں بند ہو رہی ہیں اور بے روزگاری کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں، غربت کا یہ عالم ہے کہ لوگ اپنے جگر گوشوں کو بیچنے یا خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، یہ صرف اعداد و شمار کی جنگ نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے جو بڑی خاموشی سے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے، جب ایک باپ خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اور بچے امید بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہیں تو اس وقت جو ٹوٹ پھوٹ اس کے اندر ہوتی ہے اسے کوئی معاشی ریلیف پیکج ٹھیک نہیں کر سکتا، مہنگائی کے اس بے رحم طوفان نے سماجی اقدار کو بھی متاثر کیا ہے اور جرائم کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے کیونکہ بھوک جب سر اٹھاتی ہے تو وہ تہذیب کے سارے فلسفے بھول جاتی ہے، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنے وجود کا احساس دلائے اور ان ڈوبتی ہوئی زندگیوں کو سہارا دے ورنہ یہ طوفان سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *