Banner

گریٹ گیم کی منصوبہ اور نیم پاگل نسل کا المیہ

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمد نسیم رنزوریار

گریٹ گیم کی منصوبہ اور نیم پاگل نسل کا المیہ

قارئین کرام! سماجی اور سیاسی تقسیم کے اس پرآشوب دور میں اگر ہم 1985 سے 2010 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، جسے شاید کچھ لوگ قومی عذاب قرار دیں، کا بغور مطالعہ کریں تو ایک ہولناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو انفارمیشن وار فیئر کے ملبے تلے دبی ہوئی ہے اور اس کی فکری کجی کا عالم یہ ہے کہ یہ ضیاء الحق اور صدام حسین جیسے جارحانہ شخصیتوں کو مجاہدِ اسلام تسلیم کرتی ہے، حالانکہ عالمی سیاست کے گریٹ گیم میں یہ محض پیادے تھے۔ ضیاء الحق مغرب کے لیے سوویت یونین کے خلاف ایک فرنٹ لائن ہتھیار تھے جنہوں نے خطے میں شدت پسندی کی وہ فصل بوئی جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں، جبکہ صدام حسین اس منصوبے کی وہ سب سے بڑی عبرت بنے جو پہلے ایران کے خلاف مغرب کے چہیتے رہے اور پھر ضرورت ختم ہوتے ہی عالمی دہشت گرد قرار دے کر عبرت کا نشان بنا دیے گئے۔ اسی طرح جنرل حمید گل، جنہیں یہ نسل جیمز بانڈ سمجھتی ہے، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے لیے محض اسٹریٹجسٹ آف جہاد تھے جن کی افغان جنگ میں خدمات تو تسلیم شدہ تھیں مگر وہ بدلتی ہوئی عالمی لہر کو سمجھنے میں ناکام رہے اور ملک کو سفارتی تنہائی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ پرویز مشرف جیسے غاصب کو ہیرو ماننے والی یہ نسل اس حقیقت سے چشم پوشی کرتی ہے کہ انہوں نے اپنی بقاء کی خاطر ملک کو دوسروں کی جنگ میں جھونکا اور آئین شکنی کی ایسی بنیاد رکھی جس نے ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔
قارئین! اس نسل کے فکری تضاد کا عروج تب نظر آتا ہے جب یہ آصف زرداری کو سینماء کا ٹکٹ بلیکیا اور نواز شریف کو محض ایک مستری کا بیٹا کہہ کر تضحیک کرتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں انہیں اسٹیٹس کو وہ نمائندے سمجھتی ہیں جو عالمی مارکیٹ اور لبرل معیشت کے ذریعے نظام کو چلانے کا فن جانتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یہ نسل عمران خان کو بھٹو اور قائد اعظم سے بڑا لیڈر مانتی ہے، حالانکہ عالمی تناظر میں وہ ٹرمپ اور مودی کی طرح گلوبل پاپولزم کی ایک لہر ہیں جنہوں نے ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ لگا کر ایک جذباتی بیانیہ تو تخلیق کیا مگر عملی طور پر عالمی گریٹ گیم کی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گئے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو خود ہی جھوٹ تخلیق کرتا ہے اور پھر اس پر یقینِ کامل کر لیتا ہے، ان کے نزدیک خان سسٹم کا ابو ہے جو جیل میں بیٹھ کر عالمی بساط الٹ رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نسل ایک ایسی خیالی ریاست کی تلاش میں بھٹک رہی ہے جہاں انہیں ہر وہ شخص مسیحاء نظر آتا ہے جو تلخ زمینی حقائق کو جھٹلانے کا ہنر جانتا ہو۔ یہ دراصل اس اطلاعاتی جنگ کا نتیجہ ہے جہاں سچ سے زیادہ بیانیے اہم ہو چکے ہیں اور دماغ چھٹانک بھر ہونے کے باوجود یہ خود کو کل کائنات کا باشعور ترین طبقہ گردانتے ہیں۔

گریٹ گیم کی منصوبہ اور نیم پاگل نسل کا المیہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us