Banner

امریکی ہوسِ اقتدار استعمار سے نام نہاد جمہوریت تک کا عبرتناک سفر!

featured
Share

Share This Post

or copy the link

احمد خان اچکزئی

امریکی ہوسِ اقتدار استعمار سے نام نہاد جمہوریت تک کا عبرتناک سفر!

محترم قارئین! امریکی عالمی بالادستی کی تاریخ دراصل دو متوازی محاذوں کا مجموعہ ہے ایک نفسیاتی جنگ اور دوسری عملی جارحیت۔ اس طویل سفر کی بنیاد برطانوی استعمار سے آزادی کی اس خونریز جدوجہد پر رکھی گئی جس میں ہزاروں برطانوی اور امریکی لقمہ اجل بنے، لیکن یہ محض ایک بڑی عالمی تباہی منصوبے کا نقطہ آغاز تھا۔ آزادی کے فوراً بعد امریکہ نے اپنی حدود میں توسیع کے لیے میکسیکو پر جارحانہ قبضہ کیا اور پھر پاناما کینال کی تزویراتی اہمیت کے پیشِ نظر وہاں کے منتخب صدر کو قتل کروا کر پورے جنوبی امریکہ پر اپنا تسلط قائم کیا۔ انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب وہ 200 سالہ دور ہے جس میں کروڑوں افریقی باشندوں کو اِغواء کر کے غلام بنایا گیا تاکہ امریکی داخلی ترقی، سونا نکالنے، زراعت کی وسعت اور کارخانوں کے پہیے کو انسانی خون سے چلایا جا سکے۔ اس وحشیانہ مشقت کے نتیجے میں تقریباً 80 ملین افریقی غلام جاں بحق ہوئے، جن کے اس عظیم المیے کو بعد میں آزادی کے بل کی چمک دمک میں دفن کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔
1930 کی دہائی کے آوائل میں جب عالمی معیشت سسک رہی تھی، امریکہ نے برطانیہ سے نمٹنے کے لیے 50 ملین ڈالر کا فنڈ قائم کیا لیکن جلد ہی اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر کے پورے یورپ کو جنگ کی لپیٹ میں لانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے ایڈولف ہٹلر کو ایک آلہ کار کے طور پر ابھارا گیا تاکہ دوسری عالمی جنگ کے ذریعے پرانی نوآبادیاتی طاقتوں کو مسمار کر کے امریکہ واحد عالمی منصف بن کر ابھرے۔ امریکی خارجہ پالیسی کے تین بنیادی ستون ‘DRM’ ہیں پہلا Demolish (مسمار کرنا)، جس کے تحت مخالف ملک کو معاشی پابندیوں یا فوجی طاقت سے تباہ کیا جاتا ہے؛ دوسرا Rebuild (تعمیرِ نو)، جس میں وہاں اپنی مرضی کے اتحاد اور کٹھ پتلی حکومتیں بنائی جاتی ہیں؛ اور تیسرا Mortgage (رہن رکھنا)، جس کے تحت اس ملک کی معیشت کو قرضوں اور آئی ایم ایف جیسے شکنجوں میں جکڑ کر ہمیشہ کے لیے محتاج بنا لیا جاتا ہے، جیسا کہ عراق، لیبیا، شام اور حالیہ برسوں میں یونان، پرتگال، آئرلینڈ اور مصر کے ساتھ کیا گیا۔
امریکی جنگوں کی یہ فہرست بہت طویل ہے۔ ویتنام جنگ (1955-1975) ہو یا کوریا کی تقسیم، خلیجی جنگ ہو یا افغانستان و عراق پر یلغار؛ امریکہ نے ہمیشہ انسانی حقوق کے نام پر لاکھوں انسانوں کو شہید کیا اور صرف اپنے مفادات کی آبیاری کی۔ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے یہ حقیقت اب عیاں ہے کہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بظاہر دشمنی کے باوجود ایک گہرا حکمت عملی کا گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اسرائیل فرنٹ سٹیٹ آف امریکہ کے طور پر اور ایران اپنے مذہبی اثر و رسوخ کے ذریعے خلیجی ریاستوں کو دو اطراف سے خوفزدہ رکھتے ہیں تاکہ یہ ریاستیں دفاع کے نام پر امریکہ سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے پر مجبور رہیں۔ اس کی بدترین مثال سعودی عرب کا وہ 400 ارب ڈالر کا دفاعی سودا ہے جس میں اسرائیل کو محض خوف کی فضا برقرار رکھنے کے عوض 10 ارب ڈالر کمیشن فراہم کیا گیا، جبکہ فلسطین کے مظلوموں کو چند ملین ڈالر دے کر خاموش کرانے کا ناٹک رچایا گیا۔اس خفیہ حکمت عملی تعاون کا سب سے بڑا ثبوت میرا وہ ذاتی چشم دید مشاہدہ ہے جب 1980 کی دہائی کی عراق ایران جنگ کے دوران میں کراچی کسٹمز (ایسٹ وہارف کیماڑی) میں تعینات تھا۔ اس وقت اسرائیل سے اسلحہ سے لدا ایک جہاز آیا جس کی منزل ایران تھی، لیکن بین الاقوامی سطح پر دھوکہ دہی کے لیے ہمیں ہدایت کی گئی کہ دستاویزات میں اسلحہ بھیجنے والے ملک کے خانے میں پاکستان کا نام درج کیا جائے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ، اسرائیل اور ایران ایک ہی بستر کے ساتھی بن جاتے ہیں۔اب امریکہ کا اگلا ہدف خلیج کی بادشاہتوں اور امارات کو ختم کر کے وہاں درآمد شدہ جمہوریت کا ایسا ڈھانچہ کھڑا کرنا ہے جو ان ممالک کو داخلی طور پر کمزور کر دے۔ امریکہ بتدریج اپنے فوجی اڈے منتقل کرنے یا ہٹانے کی دھمکیاں دے کر عرب حکمرانوں کو ایران اور اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا، اور جب یہ حکمران بقاء کی بھیک مانگیں گے تو شرط صرف امریکی طرز کی جمہوریت ہوگی۔ اس خونی کھیل کا حتمی انجام آبنائے ہرمز سے تیل کی رسد کو امریکی و ایرانی ملی بھگت سے کنٹرول کرنا ہے تاکہ پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا کر عالمی حکمرانی کا خواب پورا کیا جا سکے۔ امریکی مستقبل اب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے کرداروں کے گرد گھوم رہا ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا اسے ایک منصف کے بجائے ایک سامراجی طاقت کے طور پر پہچانے۔

امریکی ہوسِ اقتدار استعمار سے نام نہاد جمہوریت تک کا عبرتناک سفر!

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us