Banner
Daily Sahafat Quetta
November 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سندھی مسلم فوڈ واک کی افتتاحی تقریب میں عقیل کریم ڈھیڈھی کی خصوصی شرکتمحمود کوٹ پولیس کی چوکی عیسن والا میں کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل سنے گئےمراکش میں عالمی جی ایف ایف ورکشاپ کے دوران سمیرا اشرف نے پاکستان اور ایشیا کی نمائندگی کیکھیل طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اہم حصہ ہیں، ڈاکٹر بختیار اختراسٹریٹ کریمنلز اور راہزنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں، ڈاکٹر میاں سعید احمدمولانا فضل الرحمن کے دفاع اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مولانا محمد طاہر توحیدیمولانا فضل الرحمن کے گھر کی ڈرون فوٹیج بنانے کی مذمت کرتے ہیں، مولانا عبدالقادر لونیشکارپور کے بازاروں میں صفائی اور روشنی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں گے، فیاض محمود شیخڈپٹی کمشنر نواب سمیر لغاری کا انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ، شہر سے تجاوزات کے فوری خاتمے کے احکاماتنئے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی جھل مگسی طارق شہباز نے چارج سنبھال لیاسندھی مسلم فوڈ واک کی افتتاحی تقریب میں عقیل کریم ڈھیڈھی کی خصوصی شرکتمحمود کوٹ پولیس کی چوکی عیسن والا میں کھلی کچہری، شہریوں کے مسائل سنے گئےمراکش میں عالمی جی ایف ایف ورکشاپ کے دوران سمیرا اشرف نے پاکستان اور ایشیا کی نمائندگی کیکھیل طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اہم حصہ ہیں، ڈاکٹر بختیار اختراسٹریٹ کریمنلز اور راہزنوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں، ڈاکٹر میاں سعید احمدمولانا فضل الرحمن کے دفاع اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، مولانا محمد طاہر توحیدیمولانا فضل الرحمن کے گھر کی ڈرون فوٹیج بنانے کی مذمت کرتے ہیں، مولانا عبدالقادر لونیشکارپور کے بازاروں میں صفائی اور روشنی کے انتظامات بہتر بنائے جائیں گے، فیاض محمود شیخڈپٹی کمشنر نواب سمیر لغاری کا انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ، شہر سے تجاوزات کے فوری خاتمے کے احکاماتنئے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی جھل مگسی طارق شہباز نے چارج سنبھال لیا

بلوچستان کے نوجوان اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی

بلوچستان کے نوجوان اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی
تحریر: حیر بیار قلندرانی
حالیہ برسوں میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں بڑی تعداد میں نوجوان مایوسی اور بے یقینی کے باعث غلط راستوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ ملک کے مجموعی امن کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس صورتحال کو محض نوجوانوں کی گمراہی یا برین واشنگ قرار دینا مسئلے کا مکمل تجزیہ نہیں ہے۔ درحقیقت یہ رجحان اس بڑھتی ہوئی ناامیدی کی عکاسی کرتا ہے جو نوجوانوں میں اپنے مستقبل، تعلیم اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے پیدا ہو رہی ہے۔ جب نوجوان خود کو نظام سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں تو بعض اوقات وہ ایسے راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں جو معاشرے اور ریاست دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
حکومت اور ریاست کے پاس وسائل اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ نوجوانوں کو بہتر تعلیم، روزگار اور مثبت مواقع فراہم کر سکے۔ اسی مقصد کے لیے بلوچستان میں یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ جیسے ادارے قائم کیے گئے ہیں، مگر بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے ان اداروں کی سرگرمیاں زیادہ تر نمائشی نوعیت کی دکھائی دیتی ہیں۔ محدود اور غیر ہدفی سیشنز، اسکولوں یا ہالز میں رسمی پروگرامز، اور تفریحی نوعیت کی تقریبات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نوجوانوں کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان سرگرمیوں کا زمینی حقائق اور نوجوانوں کے اصل مسائل سے کم ہی تعلق ہوتا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو زیادہ مؤثر اور حقیقت پسندانہ بنائے۔ نوجوانوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کو فعال بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے نوجوانوں کو بھی پالیسی سازی اور پروگرامز میں شامل کیا جائے جو بلوچستان کے زمینی مسائل کو قریب سے سمجھتے ہوں۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور فیصلہ سازی میں حقیقی مواقع فراہم کیے جائیں تو نہ صرف مایوسی کم ہو سکتی ہے بلکہ وہ بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام میں مثبت کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *