Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر آج دوپہر اہم پریس کانفرنس کریں گےسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہاگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاںادبی سوسائٹی کی حلف برداری بلوچستان میڈیا فورم کا قیاممیڈم بتول بی بی مدر ٹریسا آف پاکستان ، تیس بیٹیاں ، ایک ماںجنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) دینے کی منظوریاے ٹی سی کوئٹہ کا فیصلہ، سردار اختر مینگل کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ کالعدم قرارکوئٹہ، کان حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 32 ہوگئی، صدر،وزیر اعظم کا اظہار افسوسدہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دیامن بورڈ نے حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلاء کا معاہدہ کر لیا، صدر ٹرمپڈی جی آئی ایس پی آر آج دوپہر اہم پریس کانفرنس کریں گےسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہاگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاںادبی سوسائٹی کی حلف برداری بلوچستان میڈیا فورم کا قیاممیڈم بتول بی بی مدر ٹریسا آف پاکستان ، تیس بیٹیاں ، ایک ماںجنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) دینے کی منظوریاے ٹی سی کوئٹہ کا فیصلہ، سردار اختر مینگل کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ کالعدم قرارکوئٹہ، کان حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 32 ہوگئی، صدر،وزیر اعظم کا اظہار افسوسدہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دیامن بورڈ نے حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلاء کا معاہدہ کر لیا، صدر ٹرمپ

بلوچستان کے نوجوان اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی

بلوچستان کے نوجوان اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی
تحریر: حیر بیار قلندرانی
حالیہ برسوں میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بلوچستان میں بڑی تعداد میں نوجوان مایوسی اور بے یقینی کے باعث غلط راستوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ ملک کے مجموعی امن کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس صورتحال کو محض نوجوانوں کی گمراہی یا برین واشنگ قرار دینا مسئلے کا مکمل تجزیہ نہیں ہے۔ درحقیقت یہ رجحان اس بڑھتی ہوئی ناامیدی کی عکاسی کرتا ہے جو نوجوانوں میں اپنے مستقبل، تعلیم اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے پیدا ہو رہی ہے۔ جب نوجوان خود کو نظام سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں تو بعض اوقات وہ ایسے راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں جو معاشرے اور ریاست دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
حکومت اور ریاست کے پاس وسائل اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ نوجوانوں کو بہتر تعلیم، روزگار اور مثبت مواقع فراہم کر سکے۔ اسی مقصد کے لیے بلوچستان میں یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ جیسے ادارے قائم کیے گئے ہیں، مگر بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصے سے ان اداروں کی سرگرمیاں زیادہ تر نمائشی نوعیت کی دکھائی دیتی ہیں۔ محدود اور غیر ہدفی سیشنز، اسکولوں یا ہالز میں رسمی پروگرامز، اور تفریحی نوعیت کی تقریبات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نوجوانوں کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان سرگرمیوں کا زمینی حقائق اور نوجوانوں کے اصل مسائل سے کم ہی تعلق ہوتا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بلوچستان نوجوانوں کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو زیادہ مؤثر اور حقیقت پسندانہ بنائے۔ نوجوانوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کو فعال بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے نوجوانوں کو بھی پالیسی سازی اور پروگرامز میں شامل کیا جائے جو بلوچستان کے زمینی مسائل کو قریب سے سمجھتے ہوں۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور فیصلہ سازی میں حقیقی مواقع فراہم کیے جائیں تو نہ صرف مایوسی کم ہو سکتی ہے بلکہ وہ بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام میں مثبت کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *