Banner

علم، تحقیق اور تعمیرِ مستقبل ۔ ‘سنگاپور کی ترقی میں سائنس کا کردار’ کا فکری و ادبی مطالعہ۔

featured
Share

Share This Post

or copy the link

علم، تحقیق اور تعمیرِ مستقبل ۔ ‘سنگاپور کی ترقی میں سائنس کا کردار’ کا فکری و ادبی مطالعہ۔

تبصرہ نگار۔
منشاقاضی
حسبِ منشا

عصرِ حاضر میں وہی قومیں ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے گامزن ہیں جو علم، تحقیق اور سائنسی شعور کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بناتی ہیں۔
محترمہ فاطمہ بشیر کی تصنیف “سنگاپور کی ترقی میں سائنس کا کردار” اسی حقیقت کو نہایت بصیرت، سادگی اور فکری گہرائی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک سائنسی یا معلوماتی تحریر نہیں بلکہ ایک ایسا فکری آئینہ ہے جس میں ہم ترقی یافتہ معاشروں کے راز اور اپنی کمزوریوں دونوں کو دیکھ سکتے ہیں۔
مصنفہ نے اس کتاب میں سنگاپور کی حیرت انگیز ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ قوموں کی تقدیر محض وسائل سے نہیں بلکہ علم، تحقیق اور منصوبہ بندی سے سنورتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ سنگاپور ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ملک ہونے کے باوجود سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہے۔ کتاب میں یہ حقیقت بڑی خوبصورتی سے اجاگر کی گئی ہے کہ جب ریاست علم و تحقیق کو قومی ترجیح بنا لے تو محدود وسائل بھی وسیع امکانات میں بدل جاتے ہیں۔
ادبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو فاطمہ بشیر کی تحریر میں سادگی اور روانی کے ساتھ ساتھ فکری وقار بھی موجود ہے۔ وہ محض اعداد و شمار یا تاریخی واقعات بیان نہیں کرتیں بلکہ ترقی کے فلسفے کو ایک انسانی اور اخلاقی تناظر میں پیش کرتی ہیں۔ ان کے اسلوب میں ایک معلمہ کی سنجیدگی اور ایک مفکر کی بصیرت جھلکتی ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ یہ کتاب صرف سنگاپور کی کہانی نہیں بلکہ ایک پیغام ہے—ایسا پیغام جو ہر اس معاشرے کے لیئے ہے جو پسماندگی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے۔
کتاب کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مصنفہ نے سائنسی ترقی کو صرف معاشی خوشحالی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور قومی شعور کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے۔ ان کے نزدیک سائنس محض تجربہ گاہوں کی قید نہیں بلکہ ایک زندہ فکر ہے جو معاشروں کے رویوں، اقدار اور ترجیحات کو بھی بدل دیتی ہے۔ یہی فلسفیانہ زاویہ اس کتاب کو عام معلوماتی تحریروں سے ممتاز بناتا ہے۔
فاطمہ بشیر کی علمی شخصیت بھی قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے تعلیم اور تحقیق کے میدان میں مسلسل جدوجہد کی ہے اور مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ ان کی تحریروں میں تحقیق کی سنجیدگی کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی تربیت کا جذبہ بھی نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بچوں کے لیئے بھی اردو زبان میں کئی کتب تحریر کیں، جو علم دوستی اور تخلیقی فکر کو فروغ دیتی ہیں۔
مجموعی طور پر “سنگاپور کی ترقی میں سائنس کا کردار” ایک ایسی فکر انگیز کتاب ہے جو قاری کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ترقی کا حقیقی راستہ کیا ہے۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قوموں کی تعمیر محض نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، نظم و ضبط اور مسلسل محنت سے ہوتی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ فاطمہ بشیر کی یہ تصنیف ایک چراغ کی مانند ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ اگر علم کو رہنما بنا لیا جائے تو چھوٹے سے جزیرے بھی عظیم تہذیبوں کی مثال بن سکتے ہیں۔ یہ کتاب دراصل امید، بصیرت اور مستقبل کی تعمیر کا ایک فکری منشور ہے۔فاطمہ بشیر نے اس کتاب کا انتساب اپنے والدین و اساتذہ کے نام کیا ہے جنہوں نے فاطمہ بشیر کی تعلیم و تربیت کے لیئے اپنے سکون و آرام کو قربان کیا ہے اللہ تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت کی تمام بھلائیوں سے سرفراز فرمائے ۔اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر ضیاء اللہ خان طورو نے حرف اول میں لکھا ہے سنگاپور دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مختصر جغرافیائی رقبے اور محدود قدرتی وسائل کے باوجود غیر معمولی ترقی کی مثال قائم کی ہے ایک چھوٹے سے تجارتی مرکز سے لے کر جدید ریاست اور عالمی مالیاتی و تکنیکی قوت تک کا یہ سفر نہ صرف قابلِ مطالعہ ہے بلکہ پالیسی سازی سماجی علوم اور معاشی تحقیق کے لیئے بھی ایک رہنما حیثیت رکھتا ہے ۔سنفہ فاطمہ بشیر نے بھی اپنے پیش لفظ میں لکھا ہے سنگاپور کی تیز رفتہ ترقی کو دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے مشعل راہ بنانے کے لیے ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خاتون نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی کہ میں کتاب سنگاپور کی ترقی میں سائنس کا کردار وہ ضبط تحریر میں لاتے ہوئے اس انداز سے پیش کروں کہ یہ قارئین کی نہ صرف دلچسپی کا باعث بنے بلکہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ قوموں کی ترقی سائنسی خطوط پر چلنے میں ہی پنہاں ہے مجھے امید ہے کہ میری یہ مختصر سی کاوش اردو سائز بورڈ کے زرخیز خزانوں میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگی کتاب کے ناشر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ڈائریکٹر جنرل کی علمی سوچ اور دورس نگاہ کا یہ اعجاز ہے کہ کتاب کے نگران ضیاء اللہ خان طورو کی خوئے دلنوازی انچارج ۔ انجینیئر امین اختر کی فکری دسترس ۔ تصنیف و تالیف فاطمہ بشیر کی دلپزیر تحریر ۔ سرورق سیدہ عطیہ زہرا کی فنی مہارت اور اہتمام طباعت ظہیر خالد قریشی کا سلیقہ اور حسنین الطاف کا قرینہ کا حسین امتزاج کتاب کو رعنائی عطا کرتا ہے ۔ ایسی ٹیم کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے ۔ اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر ضیاء اللہ طورو کو میں خاص طور پر مبارکباد پیش کرتا ہوں جن کا فکری منصوبہ ساز ذہن ہر کتاب کے عقب میں کار فرما ہے ۔ ا جب سے اس ادارے میں ائے ہیں اپ نے 800 سے زائد کتب شائع کر کے ایک شاندار ۔ کامیاب اور موْثر ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ جن کے بارے میں ہمارے دوست ذولفقار علی ہر تقریب میں ذکر کرتے تھے اور آج ہم نے سنی ہوئی بات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ۔ اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر کی عظمت کو سلام جنہیں کتاب سے محبت ہے

علم، تحقیق اور تعمیرِ مستقبل ۔ ‘سنگاپور کی ترقی میں سائنس کا کردار’ کا فکری و ادبی مطالعہ۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us