روح کی بیداری کا سماں

featured
Share

Share This Post

or copy the link

روح کی بیداری کا سماں
گلبَرگ گرینز، اسلام آباد میں منعقد “استقبالِ رمضان” کی پُرنور و روح پرور تقریب

منشا قاضی
حسبِ منشا

اسلام آباد کے پُرفضا اور سرسبز علاقے Gulberg Greens میں گزشتہ روز ایک نہایت روحانی، وجد آفریں اور باوقار تقریب بعنوان “استقبالِ رمضان” کا انعقاد عجوبہء روزگار مذہبی شخصیت جناب خالد فاروقی نے اپنی رہائش گاہ میں کیا ، خالد فاروقی اور ان کے بیٹے نے عربی لباس پہنے ہوئے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ حجاز سے کوئی عرب رختِ سفر باندھ کر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد آ گیا ہو خالد فاروقی اور ان کے بیٹے نے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کو ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لو میں جب ان کا خیر مقدم کیا تو مجھے اور ونگ کمانڈر طاھر اور ریحان صاحب کو بے پناہ روحانی مسرت محسوس ہوئی ۔ ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا نے حاضرین کے دلوں کو نورِ ایمان سے منور اور فضا کو ذکر و اذکار کی مہک سے معطر کر دیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معززین، اہلِ علم، سماجی شخصیات، ڈاکٹرز، اساتذہ، نوجوانوں اور خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ماحول میں ایک عجب سی طمانیت، سنجیدگی اور روحانی سرشاری محسوس کی جا رہی تھی، گویا آنے والے بابرکت مہینے کی رحمتیں پیشگی سایہ فگن ہو چکی ہوں۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد ہدیۂ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کیا گیا۔ نعت کے پرسوز اشعار نے حاضرین کی آنکھوں کو نم اور دلوں کو نرم کر دیا۔ اس کے بعد محفل کے منتظمین نے مہمانِ گرامی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک صرف روزے رکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ تزکیۂ نفس، خود احتسابی، ایثار، صبر اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ “استقبالِ رمضان” جیسی تقریبات دراصل اس عظیم مہینے کی تیاری کا ذریعہ بنتی ہیں تاکہ ہم ظاہری و باطنی طور پر اس کی برکات سمیٹنے کے قابل ہو سکیں۔
تقریب کے مرکزی مقرر، معروف معالج اور ماہرِ صحت، سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ Mayo Hospital، ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا نے نہایت مدلل، مؤثر اور روح پرور بیان فرمایا۔ انہوں نے رمضان المبارک کی عظمت و فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ دراصل انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتا ہے۔ “رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان محض جسم نہیں، بلکہ ایک روحانی وجود ہے جس کی غذا ذکر، عبادت، تلاوت اور خدمتِ خلق ہے۔”
ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا نے اپنے خطاب میں طبی اور روحانی پہلوؤں کو باہم مربوط کرتے ہوئے بتایا کہ روزہ نہ صرف روح کو پاکیزگی عطا کرتا ہے بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ انہوں نے سائنسی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روزہ انسانی جسم میں ڈیٹاکسیفیکیشن (Detoxification) کا عمل تیز کرتا ہے، نظامِ ہضم کو متوازن بناتا ہے اور ذہنی یکسوئی میں اضافہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جب انسان بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے تو اسے دوسروں کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے، یہی احساس معاشرتی ہم آہنگی اور اخوت کو فروغ دیتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک ہمیں صبر، شکر اور ضبطِ نفس کی عملی تربیت دیتا ہے۔ “یہ مہینہ ہمیں اپنی خواہشات پر قابو پانے، زبان کو لغویات سے بچانے اور دل کو حسد و کینہ سے پاک کرنے کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم نے رمضان کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تو ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سنور سکتی ہے۔”
بیان کے دوران حاضرین مکمل انہماک اور خاموشی سے محوِ سماعت رہے۔ کئی مقامات پر ان کے پُراثر جملوں نے سامعین کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں وقت کی قدر اور عبادت میں تسلسل پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، مگر رمضان بہترین موقع ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کریں اور اپنی زندگی کو مثبت سمت دیں۔
تقریب میں خصوصی دعا کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں ملکِ پاکستان کی سلامتی، استحکام، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کی فلاح کے لیے اجتماعی طور پر دعا مانگی گئی۔ دعا کے پُرسوز لمحات میں فضا رقت آمیز ہو گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
اختتامی کلمات میں منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی روحانی و اصلاحی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ معاشرے میں اخلاقی اقدار اور دینی شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ شرکاء نے اس تقریب کو رمضان المبارک کے استقبال کی ایک بہترین اور بابرکت کاوش قرار دیا اور کہا کہ ایسے اجتماعات دلوں میں ایمان کی تازگی اور عمل کی تحریک پیدا کرتے ہیں۔
یوں “استقبالِ رمضان” کی یہ بابرکت تقریب نہ صرف ایک روحانی نشست ثابت ہوئی بلکہ یہ پیغام دے گئی کہ رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں بلکہ زندگی کو سنوارنے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کا سنہری موقع ہے۔ گلبَرگ گرینز کی فضاؤں میں گونجتے ذکر و اذکار کے اثرات دیر تک محسوس کیے جاتے رہے اور حاضرین ایک نئی روحانی توانائی اور امید کے ساتھ رخصت ہوئے۔ خالد فاروقی صاحب نے لاھور واپسی کے لیئے گاڑی فراہم کی اور کمپنی کے آفیسر خرم اعجاز نے بڑی خوش دلی کے ساتھ ہمیں لاہور پہنچایا۔ درمیان میں منڈی بہاوْلدین میں ڈاکٹر ریاض احمد رانجھا کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہوا انہوں نے لذتِ کام دہان کے اسباب میز پر چن دیئے ۔ ابھی تک زبان ذائقوں سے محروم نہیں ہوئی ۔

روح کی بیداری کا سماں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us