#ابرپارے
ریاض احمد احسان
15 فروری… تاریخ کے افق پر ابھرتا ہوا وہ دن جس کی ساعتوں میں عالمِ اسلام کی قیادت، فن اور فکر کے رنگ یکجا نظر آتے ہیں یہ تاریخ چند ایسی شخصیات کی ولادت کا دن ہے جنہوں نے مختلف میدانوں میں اثر چھوڑا۔ سب سے نمایاں نام مراد چہارم کا ہے جو 15 فروری 1612ء کو پیدا ہوئے اور بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان بنے۔ان کے عہد میں داخلی انتشار کو سختی سے قابو کیا گیا اور 1638ء میں بغداد کو صفویوں سے واپس لے کر عثمانی اقتدار بحال کیا گیا اسی تاریخ کو 1937ء میں ترکی کے ممتاز خطاط حسن چلبی کی پیدائش ہوئی جنہوں نے قرآنِ کریم کی کتابت اور مساجد کی خطاطی کے ذریعے اسلامی فن کو عالمی سطح پر وقار بخشا مزید برآں 15 فروری 1951ء کو پاکستان میں پروفیسر محمد طاہر القادری پیدا ہوئے جو ایک مذہبی اسکالر، خطیب اور مصنف کے طور پر جانے جاتے ہیں اور بین المذاہب مکالمے اور فکری مباحث میں سرگرم عمل ہیں یہ تینوں شخصیات قیادت، فن اور فکر کے مختلف رنگوں کی نمائندگی کرتی ہیں
اگر وسیع تناظر میں اسلامی دنیا کے قائدین کو دیکھا جائے تو تاریخ ہمیں ایسے ناموں سے روشناس کراتی ہے جنہوں نے امت کی سمت متعین کی جیسے صلاح الدین ایوبی جنہوں نے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرایا اور محمد الفاتح جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کر کے ایک نئے دور کا آغاز کیا
15 فروری کے آس پاس اسلامی دنیا میں رونما ہونے والے اہم واقعات میں فروری 1989ء میں افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا کی تکمیل شامل ہے جسے مسلم دنیا میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اسی طرح 1948ء کے ابتدائی مہینوں میں فلسطین کی سرزمین پر کشیدگی میں اضافہ ہوا جو بعد ازاں عرب اسرائیل جنگ میں تبدیل ہوا اور عالمِ اسلام کے لیے ایک طویل المیعاد مسئلہ بن گیا۔تاریخ کے یہ ابواب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلامی دنیا کی داستان صرف شخصیات کی نہیں بلکہ اجتماعی آزمائشوں، مزاحمتوں اور احیائے نو کی بھی ہے جہاں قیادت، علم اور جدوجہد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر کے طور پر سامنے آتے ہیں
یہی پس منظر ہمیں 15 فروری کی معنویت کو ایک وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی دعوت دیتا ہے اسی روز 1564ء میں گلیلیو گلیلی کی پیدائش نے سائنسی فکر کے آسمان پر ایک نیا باب کھولا جس نے انسانی عقل کو روایت سے مکالمہ کرنے کا حوصلہ دیا اگرچہ وہ اسلامی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن ان کی سائنسی جرات نے بعد کی صدیوں میں مسلم مفکرین کو بھی تحقیق و اجتہاد کی طرف مائل کیا یوں 15 فروری صرف سیاسی یا مذہبی حوالوں سے نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی بیداری کے استعارے کے طور پر بھی سامنے آتا ہے
اسی تاریخ کو 1965ء میں کینیڈا کے میپل لیف پرچم کی منظوری اور 2005ء میں YouTube کے قیام جیسے عالمی واقعات اس امر کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جدید دنیا میں علامت اور اظہار کی کتنی اہمیت ہے۔مسلم دنیا بھی اسی عالمی منظرنامے کا حصہ ہے جہاں شناخت، خودمختاری، اور مکالمہ بنیادی موضوعات ہیں۔افغانستان سے سوویت انخلا اور فلسطین کے ابتدائی معرکے اسی جدوجہد کی عملی مثالیں ہیں جنہوں نے امتِ مسلمہ کو سیاسی شعور اور اجتماعی وحدت کے نئے سوالات سے روشناس کرایا
یوں 15 فروری تاریخ کے تقویم میں ایک ایسا دن بن کر ابھرتا ہے جس میں قیادت کی سختی، فن کی نزاکت، فکر کی وسعت اور جدوجہد کی حرارت یکجا ہو جاتی ہے۔ مراد چہارم کی سیاسی قوت، حسن چلبی کی روحانی خطاطی، محمد طاہر القادری کی فکری سرگرمیاں، صلاح الدین کی شجاعت، محمد الفاتح کی بصیرت، شاہ ولی اللہ کی اصلاحی دعوت اور علامہ اقبال کی خودی یہ سب مل کر اس دن کو ایک معنوی تسلسل عطا کرتے ہیں۔یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی دنیا کی کہانی فقط ماضی کی یادگار نہیں بلکہ حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی امید بھی ہے جہاں علم چراغ ہے، قیادت سمت ہے اور جدوجہد اس چراغ کی لو کو زندہ رکھنے کا عزم ہے
15 فروری وقت کے دریچے پر ٹنگا ہوا ایک سنہرا فانوس یہ وہ دن ہے جب کائنات کے افق پر ایک طرف علم کی دوربین اٹھائے گلیلیو گلیلی نے آنکھ کھولی، دوسری طرف حریت کی غزل کہتی سروجنی نائیڈو نے سانس لیا، کہیں فن کی بستی میں سنجے دت نے زندگی کی کہانی شروع کی اور کھیل کے میدان میں متھلی راج نے اپنے عزم کی پہلی کرن دیکھی اسی روز تاریخ کے آسمان پر ایک اور ستارہ بھی ابھرا—چوہدری محمد عثمان کاہلوں جن کا یومِ ظہور بھی 15 فروری ہے گویا تاریخ کے اسی صفحے پر ایک نیا عنوان رقم ہوا جس میں علم، انسانیت، قیادت اور محبت کے باب یکجا ہو گئے
15 فروری کی ساعتوں میں زمانہ فقط تاریخ نہیں بنتا، سمت بھی بدلتا ہے۔ 1564 میں گلیلیو کی پیدائش نے زمین کو مرکزِ کائنات ماننے کے غرور کو چیلنج کیا اس نے بتایا کہ سچ اگرچہ کٹھن ہو لیکن روشنی کا راستہ اسی سے نکلتا ہے۔چوہدری محمد عثمان کاہلوں کی فکر میں بھی یہی جراتِ تحقیق سانس لیتی ہے وہ نوجوانوں کو سائنسی علوم، آئی ٹی اور اے آئی کی دنیا کی طرف متوجہ کرتے ہیں گویا ہر ہاتھ میں ایک دوربین تھماتے ہیں کہ دیکھو آسمان تمہارے لیے کھلا ہے۔ان کے نزدیک علم فقط کتاب کا ورق نہیں بلکہ زندگی کا ایک رخ بھی ہے اور تربیت صرف نصیحت ہی نہیں کردار کی تعمیر بھی ہے
1879 میں سروجنی نائیڈو نے جنم لے کر لفظوں کو پر عطا کیے ان کی شاعری میں آزادی کی خوشبو اور سیاست میں خدمت کی دھڑکن تھی چوہدری محمد عثمان کاہلوں کے اندر بھی ادبیت اور انسانیت کا یہی تلازماتی رشتہ روشن ہے۔ وہ علمی و ادبی کانفرنسوں میں بطور مہمانِ خصوصی شریک ہو کر صرف تقریر نہیں کرتے بلکہ فکر و نظر کے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ان کی گفتگو میں اسلامیت کی روشنی، انسانیت کی حدت، پاکستانیت کی غیرت، قائد و اقبالیت کی بصیرت اور ترقی پسند نظریات کی تازگی یکجا ہو کر ایک ایسا رنگ بناتی ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، نفرتوں کو پگھلاتا ہے اور عزم و یقین کو شکل دیتا ہے
چوہدری محمد عثمان کاہلوں کی عملی سیاست اور سماجی خدمت میں بھی یہی رنگ جھلکتا ہے۔ وہ سیاست کو عبادت قرار دیتے ہیں، عبادت یعنی اخلاص، استقامت اور جواب دہی ان کے نزدیک محبت و خلوص زندگی کی بہترین سرمایہ کاری ہے ایسی انوسٹمنٹ ہے جو سود سمیت لوٹتی ہی نہیں بلکہ نسلوں تک پھیلتی ہے
1982 میں متھلی راج نے کرکٹ کے میدان میں قدم رکھا تو خواتین کرکٹ کو نئی شناخت ملی۔ یہ شناخت، یہ نمائندگی، یہ اعتماد—یہ سب اسی 15 فروری کے افق پر چمکتے ستارے ہیں چوہدری محمد عثمان کاہلوں بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت پر یکساں زور دیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ قوم کا مستقبل کسی ایک صنف کے کندھوں پر نہیں بلکہ سب کے اشتراک سے بنتا ہے۔ تعلیم ان کے نزدیک دروازہ ہے، تربیت اس دروازے کی کنجی اور ہنر اس کے بعد کی شاہراہ ہے وہ نوجوانوں کو ہنر مند بننے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ روزگار صرف تلاش نہ کیا جائے بلکہ تخلیق بھی کیا جائے
15 فروری 1942 سنگاپور کا سقوط تاریخ کے ورق پر ایک سبق ہے کہ طاقت کا غرور عارضی ہے اور 1965 میں کینیڈا کے میپل لیف پرچم کی منظوری یاد دلاتی ہے کہ قومیں علامتوں سے پہچانی جاتی ہیں لیکن اصل شناخت ان کے کردار سے ہی بنتی ہے۔ 15 فروری 2005 میں YouTube کا آغاز ہوا تو دنیا کی آوازوں کو ایک نیا پلیٹ فارم ملا اظہار کی نئی جہتیں کھلیں۔چوہدری عثمان کاہلوں کے ہاں بھی اظہار کی آزادی، مکالمے کی روایت اور اجتماعی مفادات پر لوگوں کو اکٹھا کرنے کا جذبہ اسی عصری شعور کی علامت ہے وہ جانتے ہیں کہ جدید دنیا میں خیالات کا سفر تیز ہے لہٰذا نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت قرار دیتے ہیں
چوہدری محمد عثمان کاہلوں ایک معروف کاروباری شخصیت لیکن کاروبار ان کے لیے صرف نفع کا حساب نہیں بلکہ خدمت کا میزان بھی ہے وہ جانتے ہیں کہ معیشت کی مضبوطی ہی سماج کا استحکام ہے اسی لیے وہ تعلیم، صحت، ہنر، ترقی و خوشحالی اور مشترکہ مفادات پر لوگوں کو اکٹھا کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ان کی قیادت میں “مامونکانجن تحصیل بناو تحریک” ایک مطالبہ نہیں بلکہ ایسا خواب ہے جو اپنی تعبیر دیکھے بغیر دوبارہ سونے نہیں دے گا خواب یہ کہ انتظامی بہتری سے عوامی سہولتوں کی رسائی بڑھے، مقامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں اور وسائل کی تقسیم منصفانہ ہو اسی طرح پولٹری پروفیشنلز کلب پنجاب میں ان کا کردار فقط تنظیمی نہیں تربیتی اور فکری بھی ہے وہ پیشہ ورانہ مہارت کو معاشی خودکفالت سے جوڑتے ہیں
ان کے نظریے میں ریاست اور ریاستی اداروں کا احترام بنیادی قدر ہے،آئین و قانون کی عمل داری ان کے نزدیک فرض ہے یہ وہ توازن ہے جہاں ترقی پسندی اور روایت، جدیدیت اور اصول، آزادی اور نظم سب ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ معاون بن جاتے ہیں۔وہ سیاست کو عبادت کہتے ہیں اور عبادت میں ریاکاری کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ان کے نزدیک سیاست اگر انسانیت کی خدمت نہ بنے تو صرف ہنگامہ بن کر رہ جاتی ہے اور اگر محبت و خلوص اس کا سرمایہ نہ ہو تو سب کچھ خسارہ ہی خسارہ ہے-چوہدری محمد عثمان کاہلوں ہمیشہ محکوموں،مظلوموں،زیردستوں،پسے ہوئے،دبے ہوئے اور سہمے ہوئے لوگوں کا سہارا بنے،قبضہ گیروں،بھتہ خوروں اور سینہ زوروں کا مکو ٹھپنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی اسی وجہ سے درمند اور دکھیارے لوگ انہیں اپنا مسیحا قرار دیتے ہیں
15 فروری کی معنویت یوں ایک استعارہ بن جاتی ہے کہ گلیلیو کی دوربین، سروجنی کی شاعری، سنجے کی کہانی، متھلی کی قیادت، سنگاپور کا سبق، میپل لیف کی علامت، یوٹیوب کی جدیدیت اور چوہدری محمد عثمان کاہلوں کا جنم دن یہ سب مل کر ایک ایسا فکری گلدستہ بن رہے ہیں جس کی خوشبو چوہدری عثمان کاہلوں کے کردار میں محسوس ہوتی ہے وہ علم کو چراغ، ادب کو روشنی، سیاست کو خدمت، اور محبت کو سرمایہ سمجھتے ہیں۔ان کی شخصیت میں قائدیت کا عزم اور اقبالیت کی خودی جھلکتی ہے، خودی وہ جو غرور نہیں خود آگہی ہے قیادت وہ جو حکم نہیں، خدمت ہے
ان کی تقریروں میں جب پاکستانیت کا ذکر آتا ہے تو وہ صرف نعرہ نہیں رہتا بلکہ وہ عملی منصوبوں کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔تعلیم کے فروغ کے لیے سکولوں کی سرپرستی، صحت کے لیے آگاہی مہمات، ہنر کے لیے تربیتی ورکشاپس،صاف پانی کی فراہمی کے لیے فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور نوجوانوں کے لیے آئی ٹی و اے آئی کی تربیت یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خواب کو نقشہ اور نقشے کو عمل میں بدلنا جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ قوموں کی تقدیر کتابوں سے بنتی ہے لیکن کتابوں کو پڑھنے والے دماغ بھی چاہییں اور ہاتھوں کو ہنر بھی ___
چوہدری محمد عثمان کاہلوں کی فکر میں اسلامیت کا جوہر انسانیت سے جدا نہیں وہ دین کو اخلاق، کردار اور خدمت کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ان کے نزدیک عبادت صرف مسجد کی دیواروں تک محدود نہیں بلکہ اسپتال کے وارڈ میں بیمار کی تیمارداری بھی عبادت ہے،سکول کے کلاس روم میں بچے کی رہنمائی بھی عبادت ہے اور آئین و قانون کی پاسداری بھی عبادت ہے یہی وہ تلازماتی رشتہ ہے جو ان کی شخصیت کو ہمہ جہت بناتا ہے وہ نوجوانوں کو بتاتے ہیں کہ اے آئی اور جدید سائنس دشمن نہیں، وسائل ہیں اور وسائل کو مقصد کی پاکیزگی سے جوڑا جائے تو وہ قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہنر ہاتھوں کی زبان ہے اور علم ذہن کی جب دونوں ہم آہنگ ہوں تو ترقی کی دھن بنتی ہے۔ان کی محفلوں میں امید کی گفتگو ہوتی ہے اور امید وہ بیج ہے جو خشک زمین میں بھی سبزہ اگا دیتا ہے
15 فروری کو جب ہم تاریخ کے اس ورق کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ دن صرف کچھ پیدائشوں یا واقعات کا نہیں بلکہ پیغاموں کا دن بھی ہے۔گلیلیو کا پیغام سچ کی تلاش، سروجنی کا پیغام آزادی کی صدا،متھلی کا پیغاماعتماد اور قیادت، یوٹیوب کا پیغام اظہار اور ربط،پروفیسر طاہر القادری کا پیغام امن،رواداری،تحقیق و مکالمہ اور چوہدری محمد عثمان کاہلوں کا پیغام محبت، خدمت اور قانون کی پاسداری کے ساتھ ترقی و خوشحالی یہ سب پیغام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جیسے موتیوں کی مالا میں ہر موتی اپنی جگہ روشن ہو
چوہدری محمد عثمان کاہلوں کا جنم دن دراصل احترامِ انسانیت کے سچے جذبوں کا دن ہے یہ وہ دن ہے جب ہم یاد کرتے ہیں کہ سیاست اگر عبادت ہے تو عبادت کا پہلا رکن اخلاص ہے کہ محبت اگر سرمایہ کاری ہے تو اس کا منافع امن اور خوشحالی ہے کہ تعلیم اگر روشنی ہے تو تربیت اس کی حرارت ہے اور کہ ترقی اگر منزل ہے تو قانون اس کا راستہ ہے بلاشبہ چوہدری محمد عثمان کاہلوں لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں مشترکہ مفادات پر، مشترکہ خوابوں پر، مشترکہ ذمہ داریوں پر کہ وہ جانتے ہیں کہ قومیں اختلاف سے نہیں،انتشار سے کمزور ہوتی ہیں اور اتحاد اختلاف کے خاتمے سے نہیں مکالمے سے پیدا ہوتا ہے اسی لیے وہ مکالمے کے در کھولتے ہیں، دروازوں پر دستک دیتے ہیں اور دلوں میں امید جگاتے ہیں۔
15 فروری کی صبح جب جب سورج طلوع ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے تاریخ کے سب چراغ ایک ساتھ روشن ہو گئے ہوں اس روشنی میں چوہدری محمد عثمان کاہلوں کی مساعی بھی چمکتی ہیں،تعلیم کی شمع، صحت کی دعا، ہنر کی شاہراہ، ترقی کی سمت،خوشحال گھٹائیں اور قانون کی پاسداری کا عزم فیاضی بانٹتے سورج کی طرح دکھنے لگتا ہےان کی زندگی اسی بات کی گواہی ہے کہ اگر نیت صاف ہو، فکر روشن ہو، عزم بلند اور قدم ثابت ہوں تو ایک فرد بھی پورے علاقے کی تقدیر بدلنے کا حوصلہ رکھتا ہے
یہ خراجِ تحسین دراصل ایک دعا بھی ہےکہ 15 فروری کی یہ ساعتیں ان کے لیے نئی توانائی، نئی بصیرت اور نئی کامیابیوں کا پیغام لائیں کہ ان کی کاوشیں مزید ثمر آور ہوں کہ مامونکانجن کی فضائیں ترقی کی خوشبو سے معطر رہیں کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہنر، ذہنوں میں علم اور دلوں میں محبت کےچراغ روشن رہیں اور یہ کہ سیاست عبادت بن کر انسانیت کی خدمت کرتی رہے
چوہدری محمد عثمان کاہلوں،اُنکے اہلِ خانہ،برادرن،ورثاء و معاونین،رفقاء و محبین اور تمام محبت کرنے والوں کو یہ جنم دن اُس وقت تک مبارک ہو جب تک آسماں کی منڈیروں پر شبنم کی شیتل بوندیں کھنکتی،دمکتی اور چمکتی ہیں،جب تک گھٹاؤں میں نمی اور پھولوں میں باس باقی ہے، جب تک مظاہرِ فطرت کی دلکشی باقی ہے اور جب تک زمین پر ایک بھی اشرف المخلوقات کا نمائندہ موجود ہے
ریاض احمد احسان
15 فروری اور چوہدری محمد عثمان کاہلوں کا جنم دن



