’میں پاکستان سے تعلق رکھنے والا مسلمان لڑکا ہوں جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی بھی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے نہیں کھیلے گا۔ اب میری طرف دیکھو۔‘
یہ کہنا ہے آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے پہلے مسلمان کھلاڑی عثمان خواجہ کا جنھوں نے سڈنی ٹیسٹ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کے لیے کھیلنے کو ایک بڑی کامیابی قرار دینے کے ساتھ ساتھ عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی ’نسلی دقیانوسی خیالات‘ سے لڑ رہے ہیں۔
جمعرات کو سڈنی کرکٹ سٹیڈیم میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے آسٹریلوی بلے باز نے اس معاملے پر ایشز سیریز کے آغاز پر ہونے والے معاملات کا بھی ذکر کیا۔
عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ پہلے ٹیسٹ سے ایک روز قبل جب وہ گالف کھیلنے گئے اور اس کے بعد اُنھیں کمر میں تکلیف ہوئی تو ’مجھ پر تنقید کی گئی۔ کیونکہ میرے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔‘
39 سالہ عثمان خواجہ سڈنی میں اپنا 88 واں اور آخری ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔ 15 برس قبل اُنھوں نے اسی گراونڈ میں انگلینڈ کے خلاف ہی اپنا ٹیسٹ ڈیبو کیا تھا۔
جمعرات کو اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹوں کے ہمراہ 50 منٹ طویل جذباتی پریس کانفرنس میں عثمان خواجہ نے اپنے کریئر میں آنے والے اُتار چڑھاؤ کا تفصیل سے ذکر کیا۔



