Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چاغی دو اضلاع میں تقسیم، ویسٹرن چاغی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاریجسٹس محسن اختر کیانی ’ضمیر کی آواز پر ‘ مستعفینواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیچاغی دو اضلاع میں تقسیم، ویسٹرن چاغی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاریجسٹس محسن اختر کیانی ’ضمیر کی آواز پر ‘ مستعفینواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنی

موٹر سائیکل : سہولت سے حادثے تک، ذمہ دار کون؟

موٹر سائیکل : سہولت سے حادثے تک، ذمہ دار کون؟
تحریر: یاسر دانیال صابری
پاکستان سمیت ملک کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں موٹر سائیکل عام آدمی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، جس کی وجہ سے موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیوں کو بھی بڑا کاروبار مل رہا ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 87 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ تھیں۔ ان میں کچھ غیر رجسٹرڈ یا چوری شدہ بھی ہو سکتی ہیں، جبکہ نان کسٹم پیڈ موٹر سائیکلوں کا معاملہ الگ ہے۔ موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن متعلقہ صوبائی محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کرتا ہے، چوری کی تحقیقات پولیس اور کسٹم قوانین کی خلاف ورزی کے معاملات کسٹمز حکام دیکھتے ہیں
پاکستان میں موٹر سائیکل اب محض ایک سواری نہیں بلکہ عام آدمی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ مزدور ہو، طالب علم، ملازم یا کاروباری شخص، ہر کوئی کم وقت اور کم خرچ میں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے موٹر سائیکل کا استعمال کرتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں ہر شخص کے لیے گاڑی خریدنا ممکن نہیں اور نہ ہی ہر علاقے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت دستیاب ہے، اس لیے موٹر سائیکل نے لوگوں کی زندگی آسان بنا دی ہے۔ لیکن افسوس کہ جس سواری کو ہم اپنی سہولت کے لیے استعمال کرتے ہیں، اسی پر سفر کرتے ہوئے اکثر اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ روزانہ کہیں نہ کہیں ٹریفک حادثات کی خبریں سامنے آتی ہیں، کسی گھر کا نوجوان زخمی ہو جاتا ہے، کوئی باپ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے اور کسی ماں کی گود اجڑ جاتی ہے۔ ہم حادثے کی خبر سنتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں، لیکن جس خاندان پر یہ قیامت گزرتی ہے، اس کے لیے وہ ایک لمحہ پوری زندگی کا درد بن جاتا ہے۔ ذرا سوچیے، صبح گھر سے روزی کمانے کے لیے نکلنے والا شخص اگر شام کو واپس نہ آئے تو اس کے بچوں، والدین اور اہلِ خانہ پر کیا گزرے گی؟ ایک حادثہ صرف ایک انسان کی جان نہیں لیتا بلکہ پورے خاندان کے خواب، خوشیاں اور مستقبل بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں موٹر سائیکل حادثات کی ایک بڑی وجہ تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرنا ہے۔ بعض نوجوان سڑکوں پر تیز رفتار موٹر سائیکل چلا کر خود کو بہادر سمجھتے ہیں، کوئی ٹریفک اشارہ توڑتا ہے، کوئی غلط سمت میں سفر کرتا ہے اور کوئی چند منٹ بچانے کے لیے گاڑیوں کے درمیان سے خطرناک انداز میں نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ سڑک صرف ان کی نہیں بلکہ وہاں پیدل چلنے والے افراد، بچوں، بزرگوں اور دوسری گاڑیوں میں سفر کرنے والوں کی بھی ہے۔ کسی ایک شخص کی لاپروائی کسی بے گناہ کی زندگی بھی چھین سکتی ہے۔ سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ کے بغیر سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ بعض لوگ ہیلمٹ کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، حالانکہ حادثے کی صورت میں سر پر لگنے والی چوٹ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ہیلمٹ پولیس کے چالان سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے پہننا چاہیے۔ موٹر سائیکل چلاتے وقت معیاری ہیلمٹ پہننے کے ساتھ اس کی پٹی باندھنا، مناسب جوتے اور ہاتھوں کے دستانے استعمال کرنا اور ضرورت کے مطابق حفاظتی لباس پہننا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکل کے بریک، ٹائر، لائٹس اور اشاروں کی باقاعدگی سے جانچ ہونی چاہیے۔ تیز رفتاری سے گریز، ٹریفک اشاروں کی پابندی، محفوظ فاصلہ برقرار رکھنا، موڑ کاٹتے وقت احتیاط کرنا اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال نہ کرنا ایسے اقدامات ہیں جو کئی حادثات سے بچا سکتے ہیں۔ خاص طور پر بارش، دھند اور رات کے وقت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل شہروں میں موٹر سائیکل پر مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ بہت سے لوگ اس ذریعے سے روزگار کماتے ہیں، لیکن بعض سوار مسافروں کی حفاظت کو نظرانداز کرتے ہیں، ہیلمٹ فراہم نہیں کرتے یا کرایوں میں من مانی کرتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات کی نگرانی کریں، کرایوں میں شفافیت یقینی بنائیں اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ روزگار کمانے والے افراد کے مسائل کو سمجھتے ہوئے ایسا نظام بنایا جائے جس میں ان کا روزگار بھی برقرار رہے اور مسافروں کی جان بھی محفوظ ہو۔ والدین کی ذمہ داری بھی کم نہیں؛ بچوں کو موٹر سائیکل دینے سے پہلے ان کی عمر، قانونی اہلیت اور تربیت کو مدنظر رکھنا چاہیے، کیونکہ بغیر تجربے اور تربیت کے سڑک پر نکلنا اپنے لیے بھی خطرہ ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔ دوسری جانب ٹریفک پولیس کو صرف چالان کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عوام میں شعور پیدا کرنا، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا اور خطرناک مقامات پر مناسب سائن بورڈز اور دوسری ضروری سہولتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان یہ سمجھ سکیں کہ اصل بہادری تیز رفتاری میں نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ سفر کرنے میں ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر حادثے کا ذمہ دار صرف موٹر سائیکل سوار نہیں ہوتا؛ بعض اوقات خراب سڑکیں، ناقص روشنی، غیر محتاط ڈرائیور اور ٹریفک انتظامات کی کمزوریاں بھی حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے حکومت، ٹریفک پولیس اور شہریوں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آخر میں بات صرف اتنی سی ہے کہ موٹر سائیکل ہماری ضرورت ہے، مگر زندگی اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ منزل پر پانچ منٹ دیر سے پہنچ جانا کوئی بڑا نقصان نہیں، لیکن چند لمحوں کی لاپروائی انسان کو عمر بھر کے پچھتاوے میں مبتلا کر سکتی ہے۔ جب بھی موٹر سائیکل پر سوار ہوں تو اپنے گھر والوں کے چہروں کو یاد کریں، ان لوگوں کو یاد کریں جو آپ کی واپسی کے منتظر ہیں اور یہ سوچیں کہ آپ کی زندگی صرف آپ کی نہیں، آپ سے کئی رشتے اور امیدیں وابستہ ہیں۔ ہیلمٹ پہنیں، رفتار قابو میں رکھیں، قوانین کی پابندی کریں اور دوسروں کی جان کا بھی اتنا ہی خیال رکھیں جتنا اپنی جان کا رکھتے ہیں، کیونکہ موٹر سائیکل ایک سہولت ہے، منزل تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا نہیں؛ زندگی محفوظ ہوگی تو سفر بھی جاری رہے گا اور گھر والوں کی امیدیں بھی زندہ رہیں گی۔
یاسر دانیال صابری
انٹرنیشنل رائٹرز ایسوسی ایشن چئیرمن پاکستان
ممبر آف APNEC

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *