Banner
Daily Sahafat Quetta
September 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سمندری وسائل اور بلوچستان کے تجارتی راستےصغریٰ صدف صاحبہ! یورپ ہی میں رہیے، پاکستان واپس نہ آئیےلورالائی میں پشتون کلچر ڈے کے موقع پر شاندار تقریب، طلبہ نے ثقافت اور روایات کے رنگ بکھیر دیئےتعلیم کے ساتھ کھیلوں کا فروغ، ماڈل ہائی سکول لورالائی میں پی سی بی انٹر سکول کرکٹ ٹورنامنٹ کا آغازجناح پیپلز ٹرین جلد عوام کیلئے کھول دی جائے گی، وزیراعلیٰ بلوچستاناس بار فیصلہ کن معرکہ ہوگا اورپی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی، خواجہ آصفچمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاکحوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ہنگامی عسکری اجلاس طلبدرجنوں افراد آج جمعیت نظریاتی میں شمولیت کا اعلان کریں گے، قاری مہراللہپاکستان اور افغانستان میں باہمی تعاون اور معاشی شراکت داری ناگزیر ہے، عبدالقادر لونیسمندری وسائل اور بلوچستان کے تجارتی راستےصغریٰ صدف صاحبہ! یورپ ہی میں رہیے، پاکستان واپس نہ آئیےلورالائی میں پشتون کلچر ڈے کے موقع پر شاندار تقریب، طلبہ نے ثقافت اور روایات کے رنگ بکھیر دیئےتعلیم کے ساتھ کھیلوں کا فروغ، ماڈل ہائی سکول لورالائی میں پی سی بی انٹر سکول کرکٹ ٹورنامنٹ کا آغازجناح پیپلز ٹرین جلد عوام کیلئے کھول دی جائے گی، وزیراعلیٰ بلوچستاناس بار فیصلہ کن معرکہ ہوگا اورپی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی، خواجہ آصفچمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاکحوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ہنگامی عسکری اجلاس طلبدرجنوں افراد آج جمعیت نظریاتی میں شمولیت کا اعلان کریں گے، قاری مہراللہپاکستان اور افغانستان میں باہمی تعاون اور معاشی شراکت داری ناگزیر ہے، عبدالقادر لونی

صغریٰ صدف صاحبہ! یورپ ہی میں رہیے، پاکستان واپس نہ آئیے

صغریٰ صدف صاحبہ! یورپ ہی میں رہیے، پاکستان واپس نہ آئیے
تحریر، امجد اقبال امجد
ڈاکٹر صغریٰ صدف صاحبہ!
میرا مشورہ ہے کہ آپ یورپ ہی میں رہیے، پاکستان واپس آنے کی زحمت نہ کیجیے۔ یہاں آخر رکھا ہی کیا ہے؟
یہاں قانون ہے تو اس کی تشریح کے کئی راستے ہیں، آئین ہے تو اس کے باوجود کئی سوالات باقی رہتے ہیں، انصاف ہے تو اس تک پہنچنے کے لیے صبر، وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ یہاں دودھ خالص مل جائے تو اسے خبر سمجھا جاتا ہے، پانی صاف مل جائے تو اسے نعمت کہا جاتا ہے۔ بجلی کبھی آتی ہے، کبھی جاتی ہے، گیس کبھی ہوتی ہے، کبھی نہیں ہوتی، اور مہنگائی ہر روز نئے حساب سے جیب کا امتحان لیتی ہے۔
یہاں سڑک پر نکلیں تو ٹریفک کا شور، بازار جائیں تو رش، سرکاری دفتر جائیں تو فائلوں کی رفتار، اور زندگی کے کسی شعبے میں قدم رکھیں تو مسائل کی ایک نئی قطار سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔
اور محبت؟
وہ بھی شاید اب پہلے جیسی کہاں رہی ہے!
ہر شخص اپنی مصروفیت میں گرفتار ہے، ہر چہرے پر ایک فکر ہے، ہر گھر میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی نے انسان کو انسان سے زیادہ اس کے مسائل کا ساتھی بنا دیا ہے۔
تو صغریٰ صاحبہ!
آپ یورپ ہی میں رہیے۔
وہاں سڑکیں صاف ہیں، نظام نسبتاً منظم ہے، قانون کی عمل داری زیادہ نمایاں ہے، سہولتیں میسر ہیں، بجلی اور پانی کے مسائل اس شدت سے روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں۔ آپ نے جو کچھ وہاں پایا ہے، اسے چھوڑ کر اس بے ترتیبی میں واپس آنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟
مگر۔۔۔
کالم یہاں ختم نہیں ہوتا۔
کیونکہ پاکستان کو صرف اس کی خامیوں سے دیکھنا بھی پاکستان کے ساتھ انصاف نہیں۔
پاکستان صرف ایک ملک نہیں، ایک کیفیت بھی ہے۔
یہ وہ سرزمین ہے جہاں مٹی کی خوشبو بارش کے پہلے قطرے کے ساتھ دل میں اترتی ہے۔ جہاں سردیوں کی دھوپ، گرمیوں کی شام، ساون کی بارش اور خزاں کے پتے بھی اپنے لگتے ہیں۔
یہ وہ ملک ہے جہاں صبح اذان کی آواز سے آنکھ کھلتی ہے، جہاں شام کے وقت مسجد سے اٹھتی ہوئی صدا فضا کو ایک روحانی کیفیت عطا کرتی ہے، جہاں عید کا چاند صرف آسمان پر نہیں نکلتا بلکہ گھروں، بازاروں اور دلوں میں بھی روشنی بھر دیتا ہے۔
یہاں ماں کے ہاتھ کی روٹی ہے، باپ کی دعا ہے، بہن بھائیوں کی بے تکلف محبت ہے، دوستوں کی محفل ہے، چائے کا ایک کپ ہے اور اس کپ کے ساتھ گھنٹوں جاری رہنے والی گفتگو ہے۔
یہاں کسی کے گھر خوشی ہو تو محلہ شریک ہو جاتا ہے، کسی کے گھر غم ہو تو دروازے پر دستک دینے والوں کی کمی نہیں رہتی۔ جنازہ ہو تو اجنبی بھی کندھا دے دیتا ہے، اور شادی ہو تو دور کا رشتہ دار بھی اپنا سمجھ کر شریک ہوتا ہے۔
یہاں غربت ہے، مگر غریب کے دل میں مہمان کے لیے جگہ بھی ہے۔
یہاں مسائل ہیں، مگر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہونے والے لوگ بھی ہیں۔
یہاں نظام کی کمزوریاں ہیں، مگر دلوں میں انسانیت کی بہت سی روشنیاں اب بھی باقی ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر—
یہ ہمارا آزاد وطن ہے۔
اپنا پرچم، اپنی زبانیں، اپنی ثقافت، اپنی تہذیب، اپنی شناخت، اپنی دعائیں، اپنے خواب۔
یہاں پنجابی کی مٹھاس ہے، سندھی کی خوشبو ہے، پشتو کی گونج ہے، بلوچی کی روایت ہے، اردو کی شیرینی ہے۔ یہاں پہاڑ بھی ہیں، دریا بھی، صحرا بھی، سمندر بھی، کھیت بھی، باغ بھی، شہر بھی اور گاؤں بھی۔
یہاں لاہور کی رونق ہے، کراچی کی وسعت ہے، اسلام آباد کی خوب صورتی ہے، ملتان کی مٹھاس ہے، پشاور کی مہمان نوازی ہے، کوئٹہ کی سادگی ہے۔
یہ ملک خامیوں سے پاک نہیں،
مگر کون سا وطن خامیوں سے پاک ہے؟
قومیں صرف اس لیے عظیم نہیں ہوتیں کہ ان کے نظام میں کوئی خرابی نہیں ہوتی؛ قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب ان کے لوگ خرابیوں کو دیکھ کر مایوس ہونے کے بجائے انہیں بدلنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔
اس لیے صغریٰ صدف صاحبہ!
آپ یورپ میں رہیں تو وہاں کی خوبیاں ضرور سراہیں، مگر پاکستان آئیں تو اس کی خامیوں پر خاموش بھی نہ رہیں۔ کیونکہ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر خرابی کو خوب صورتی کا نام دے دیا جائے۔
سچی محبت وہ ہے جو محبوب کی خامی بھی دیکھے اور پھر بھی اسے بہتر بنانے کی خواہش رکھے۔
ہمیں پاکستان کی بجلی بھی چاہیے،
صاف پانی بھی چاہیے،
خالص دودھ بھی چاہیے،
قانون کی حکمرانی بھی چاہیے،
آئین کی بالادستی بھی چاہیے،
انصاف بھی چاہیے،
اور وہ پاکستان بھی چاہیے
جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔
لیکن جب شام ڈھلتی ہے،
بارش ہوتی ہے،
مٹی مہکتی ہے،
دور کہیں اذان کی آواز آتی ہے،
اور کوئی اپنا محبت سے کہتا ہے:
“آ گئے؟”
تو یورپ کی بہترین سڑکیں بھی
دل سے ایک سوال ضرور کرتی ہیں—
کیا واقعی وطن کا کوئی بدل ہوتا ہے؟
شاید نہیں۔
کیونکہ دنیا میں بہت سی جگہیں ایسی ہیں جہاں انسان اچھا رہ سکتا ہے،
مگر وطن وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنا ہو کر رہتا ہے۔
اور شاید اسی لیے پاکستان ہمیں کبھی مکمل طور پر خوش نہیں کرتا،
مگر مکمل طور پر ہم سے جدا بھی نہیں ہوتا۔
یہی پاکستان کا حسن ہے،
یہی اس کا دکھ ہے،
اور یہی ہماری محبت کی سب سے بڑی دلیل بھی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *