Banner
Daily Sahafat Quetta
September 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عدالت کے باہر فائرنگ، لاڑکانہ کا رہائشی شخص زخمیتحریکِ صیہونیت، بیلفور اعلامیہ، عرب دنیا، برطانوی وعدہ خلافی اورتاریخ کا ایک سیاہ بابدنیا کی موجودہ صورت حال اور ہمبلوچستان میں بڑا فیصلہ، 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ​اسکول کے بستے میں ’ڈیجیٹل شعور‘ کا ہونا اب کیوں ضروری ہے؟پاکستان کو توڑنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ بلوچستان27 ستمبر؛ کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دینگے، خلا ف ورزی پر سخت ایکشن ہوگا، آئی جی پنجابناکام ڈرون دراندازی کا سخت ردعمل، پاک فضائیہ کے افغانستان میں فضائی اور ڈرون حملےلانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: رانا ثنااللہکے الیکٹرک ٹیرف میں 19 فیصد کمی برقرار، کراچی کے صارفین کو فائدہ نہیں ہوگاعدالت کے باہر فائرنگ، لاڑکانہ کا رہائشی شخص زخمیتحریکِ صیہونیت، بیلفور اعلامیہ، عرب دنیا، برطانوی وعدہ خلافی اورتاریخ کا ایک سیاہ بابدنیا کی موجودہ صورت حال اور ہمبلوچستان میں بڑا فیصلہ، 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ​اسکول کے بستے میں ’ڈیجیٹل شعور‘ کا ہونا اب کیوں ضروری ہے؟پاکستان کو توڑنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ بلوچستان27 ستمبر؛ کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دینگے، خلا ف ورزی پر سخت ایکشن ہوگا، آئی جی پنجابناکام ڈرون دراندازی کا سخت ردعمل، پاک فضائیہ کے افغانستان میں فضائی اور ڈرون حملےلانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: رانا ثنااللہکے الیکٹرک ٹیرف میں 19 فیصد کمی برقرار، کراچی کے صارفین کو فائدہ نہیں ہوگا

ناکام ڈرون دراندازی کا سخت ردعمل، پاک فضائیہ کے افغانستان میں فضائی اور ڈرون حملے

اسلام آباد: پاکستان نے 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے آنے والے ڈرونز کی مبینہ دراندازی کے بعد افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے افغان جانب سے آنے والے تمام ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کے تحت افغانستان میں ان 10 مقامات کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر ڈرونز لانچ اور ذخیرہ کیے جاتے تھے۔

تارڑ نے کہا کہ کارروائیاں پاکستانی مؤقف کے مطابق محدود، درست اور متناسب تھیں اور ان کا دائرہ ان فوجی اہداف تک رکھا گیا جو ڈرون حملوں سے براہِ راست منسلک تھے۔

واضح رہے کہ 23 ستمبر کو پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ ذرائع کے مطابق 4 ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ 4 کوہاٹ سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی مبینہ دہشت گردانہ کارروائیوں اور ڈرون حملوں پر افغانستان کی انتظامیہ کو پہلے بھی تحفظات سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق اسلام آباد خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور مذاکرات و تعمیری رابطے کے لیے اپنی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم ملک کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *