Banner
Daily Sahafat Quetta
September 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات آج سے شروع؛ 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکانبلوچستان میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، خواتین و بچوں سمیت 103 افغان زیرِحراست2025 کا پاک بھارت تنازع یاد دہانی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو غیرحل شدہ چھوڑنا خطرناک ہے، اسحاق ڈارپاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی تاریخی، سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی وجوہاتیلٹا کا تاریخی دھوکہ اور افغانستان کی جنگجویانہ خودداریمہنگائی، بے روزگاری اور اینٹی کرپشناوپن ڈور پالیسی کے تحت عوامی مسائل کی سنوائی، ضلعی انتظامیہ کا فوری حل کی یقین دہانیکرم سیکٹر میں فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش پاک فوج نے ناکام بنا دی، طالبان پوسٹیں چھوڑ کر فراراغبرگ میں پولیس چوکی پر مسلح افراد کا حملہ، 5 مبینہ حملہ آور ہلاکنوجوان تاریخ سے روشنی اور ثقافت سے شناخت حاصل کریں، گورنر بلوچستانپاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات آج سے شروع؛ 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکانبلوچستان میں انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، خواتین و بچوں سمیت 103 افغان زیرِحراست2025 کا پاک بھارت تنازع یاد دہانی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو غیرحل شدہ چھوڑنا خطرناک ہے، اسحاق ڈارپاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی تاریخی، سکیورٹی اور جغرافیائی سیاسی وجوہاتیلٹا کا تاریخی دھوکہ اور افغانستان کی جنگجویانہ خودداریمہنگائی، بے روزگاری اور اینٹی کرپشناوپن ڈور پالیسی کے تحت عوامی مسائل کی سنوائی، ضلعی انتظامیہ کا فوری حل کی یقین دہانیکرم سیکٹر میں فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش پاک فوج نے ناکام بنا دی، طالبان پوسٹیں چھوڑ کر فراراغبرگ میں پولیس چوکی پر مسلح افراد کا حملہ، 5 مبینہ حملہ آور ہلاکنوجوان تاریخ سے روشنی اور ثقافت سے شناخت حاصل کریں، گورنر بلوچستان

مہنگائی، بے روزگاری اور اینٹی کرپشن

مہنگائی، بے روزگاری اور اینٹی کرپشن

کالم :ندیم ملک

پاکستان اس وقت مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کی جس دلدل میں دھنستا جا رہا ہے، اس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تاجر پریشان ہے، دیہاڑی دار فاقوں کے قریب ہے اور سفید پوش طبقہ اپنی عزتِ نفس بچانے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ مہنگائی کی یہ چیخیں پہلے بھی سنائی دیتی تھیں، مگر آج صورتِ حال اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے
حکومت کی جانب سے رات بارہ بجتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اعلانات عوام کے لیے کسی نئے معاشی امتحان سے کم نہیں ہوتے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دنیا کے مختلف ممالک میں ضرور مرتب ہوئے، مگر پاکستان میں ان اثرات کا سارا بوجھ عوام ہی کیوں برداشت کریں؟ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت فی بیرل بڑھتی ہے تو پاکستان میں فی لیٹر قیمت بڑھانے کے ساتھ ساتھ بھاری لیوی اور دیگر ٹیکس بھی وصول کیے جاتے ہیں۔ آخر عوام کو ریلیف دینے کی ذمہ داری کس کی ہے؟
ایک طرف بھارت کی بعض ریاستوں میں عوام کو بجلی سمیت مختلف سہولیات مفت یا سبسڈی پر فراہم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، دوسری طرف پاکستان میں بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں اور اضافی اخراجات کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں ہر سیاست دان مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کا نعرہ لگا کر اقتدار کا حصہ بنتا ہے، لیکن اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد عوام کو پھر وہی جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، اب اسے درست سمت میں لے جا رہے ہیں۔اس کے برعکس عوام کو ریلیف آخر کب ملے گا؟
گزشتہ دو برس کے دوران نئے انتظامی ڈھانچوں اور فورسز کے قیام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے فیصلے بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔ پیرا فورس، سی سی ڈی اور دیگر اداروں کے لیے گاڑیاں، مراعات اور وسائل فراہم کیے گئے۔ ججز، بیوروکریٹس، سیاست دانوں اور سرکاری مشینری کے اخراجات کا بوجھ بھی بالآخر عوام ہی کے کندھوں پر پڑتا ہے۔ دوسری جانب عام شہری کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں
بازاروں میں دکاندار گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں، کاروبار کی رفتار سست ہے اور چھوٹے تاجر اپنے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ جو غریب شہری ریڑھی لگا کر اپنے بچوں کے لیے روٹی کماتا تھا، اس کے سامنے بھی روزگار کے مسائل کھڑے کر دیے گئے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی اپنی جگہ، مگر کیا ریاست کی ذمہ داری صرف غریب کی ریڑھی ہٹانا ہے یا اسے باعزت روزگار فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے؟ قانون کی عمل داری ضروری ہے، لیکن قانون کے نفاذ میں انسانی ہمدردی اور متبادل انتظامات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
دوسری جانب اینٹی کرپشن پنجاب کی کارروائیاں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہیں۔ کئی برس تک غیر مؤثر دکھائی دینے والا محکمہ اچانک متحرک ہوا تو سرکاری دفاتر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی۔ کرپشن کے الزام میں گرفتاریاں اپنی جگہ، لیکن عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اب تک سامنے آنے والی کارروائیوں میں زیادہ تر چھوٹے ملازمین ہی کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کے خلاف اسی نوعیت کی مؤثر اور نمایاں کارروائیاں کیوں نظر نہیں آ رہیں؟ اگر احتساب کا عمل بلاامتیاز ہے تو پھر اس کا دائرہ ہر سطح تک یکساں طور پر پھیلنا چاہیے
فارسی کی ایک کہاوت ہے: ’’تو مرا حاجی بگویم، من ترا حاجی بگویم‘‘ یعنی تم مجھے حاجی کہو، میں تمہیں حاجی کہوں۔ ہمارے سرکاری نظام میں بھی کہیں ایسا ہی تو نہیں ہو رہا کہ طاقت ور ایک دوسرے کے لیے تحفظ کا حصار بنے ہوئے ہیں، جبکہ کمزور ملازم ہر کارروائی کا پہلا نشانہ بن جاتا ہے؟
محکمہ مال کی صورتِ حال اس وقت خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ پٹواریوں، تحصیل داروں اور دیگر ریونیو ملازمین کے خلاف کارروائیوں اور گرفتاریوں کی خبروں کے بعد متعدد علاقوں میں پٹوار خانوں کی رونقیں ماند پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ وہ دفاتر جہاں کبھی سائلین کا ہجوم دکھائی دیتا تھا، وہاں اب ویرانی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ بعض مقامات پر ریونیو افسران کی عدم دستیابی اور کام میں تاخیر نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کرپشن کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں تو عوام کے جائز کام کیوں متاثر ہو رہے ہیں؟ زمینوں کے انتقال، فرد کے حصول، وراثتی معاملات اور دیگر ریونیو امور کے لیے شہری کہاں جائیں؟ اگر تحصیل دار استعفے دے رہے ہیں، اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر سطح کے افسران بھی انتظامی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تو اس صورتِ حال کا فوری حل کون نکالے گا؟
ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی بدعنوان افسر کو تحفظ دیا جائے، نہ ہی کرپشن کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت مقصود ہے۔ احتساب ناگزیر ہے، مگر احتساب کے نام پر پورے انتظامی نظام کو مفلوج کر دینا بھی کسی طور عوامی مفاد میں نہیں اگر کوئی افسر بے گناہ ہے تو اسے بلاوجہ خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے، اور اگر کوئی بدعنوان ہے تو اس کے خلاف شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ یہی اصول چھوٹے ملازم سے لے کر اعلیٰ ترین افسر تک سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے
یہ تاثر بھی ختم ہونا چاہیے کہ محکمہ پولیس کے افسران، بالخصوص پی ایس پی( نوری مخلوق)کے بعض افسران، رینکرز کو کمتر سمجھتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں عہدے اور اختیارات کی بنیاد پر کسی ملازم کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے نظام کی تاریخ گواہ ہے کہ چھوٹے ملازمین اور درجہ چہارم کے اہلکار اکثر کارروائیوں کی زد میں آتے ہیں، جبکہ بڑے عہدوں پر فائز افراد کے احتساب کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں سوالات برقرار رہتے ہیں۔ احتساب کی ساکھ اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب قانون کا اطلاق بلاامتیاز ہو
وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی اس تمام صورتِ حال کا نوٹس لینا چاہیے۔ سرکاری اجلاسوں میں سب اچھا کی رپورٹیں پیش کرنا آسان ہے، لیکن اصل حقائق جاننے کے لیے زمینی صورتِ حال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیا وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس ایسا مؤثر مانیٹرنگ نظام موجود ہے جو یہ جانچ سکے کہ اینٹی کرپشن کی کارروائیوں کے باعث کتنے دفاتر میں عوامی امور متاثر ہوئے؟ کتنے شہریوں کے انتقال، فرد اور وراثت کے معاملات تاخیر کا شکار ہیں؟ کتنے افسران کے خلاف کارروائی ہوئی اور ان میں سے کتنے اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے؟
پٹوار خانوں میں کرپشن کی شکایات کوئی نئی بات نہیں۔ زمینوں کے تنازعات، ناجائز قبضے، انتقالات میں تاخیر اور ریکارڈ میں ردوبدل جیسے مسائل نے شہریوں کو برسوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ اگر محکمہ مال میں شفافیت، ڈیجیٹل ریکارڈ، مؤثر نگرانی اور جواب دہی کا نظام قائم کر دیا جائے تو زمینوں سے متعلق بے شمار تنازعات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف چھاپے اور گرفتاریاں کافی نہیں، بلکہ نظام کی اصلاح بھی ضروری ہے
حکومت کو چاہیے کہ مہنگائی کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور کرپشن کے سدباب کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ اینٹی کرپشن کو سیاسی یا انتظامی دباؤ سے آزاد ہو کر شواہد کی بنیاد پر کارروائی کرنی چاہیے۔ محکمہ مال میں عوامی خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں اور اعلیٰ افسران کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے ابھی تک اس پورے نظام میں پس کون رہا ہے؟ مہنگائی سے پریشان عوام، بے روزگار نوجوان، روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے مزدور یا اپنے جائز کام کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے والے شہری؟ کرپشن کا خاتمہ ضرور ہونا چاہیے، لیکن ایسا احتساب جو عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل دے، اس کے طریقۂ کار پر نظرثانی بھی ناگزیر ہے۔ ریاست کا اصل امتحان صرف بدعنوانی پکڑنا نہیں، بلکہ عوام کو انصاف، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا بھی ہے پنجاب کے عوام اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ انتظامیہ خاموشی تماشائی ہے

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *