Banner
Daily Sahafat Quetta
September 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بشریٰ بی بی کا 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کیخلاف اپیل کی جلد سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوعدورہ لندن کے لئے سرکاری طیارے کا استعمال ، مریم نواز نے ادائیگی کردیجدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے طیارے میں آگ کی اطلاع، مسافروں کا ہنگامی انخلالاک ڈاؤن کسی صورت قبول نہیں، تاجروں پر پابندیاں ناقابلِ برداشت ہیں، کاشف حیدریفیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر مشاورتپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہکراچی میں بینک بھی لوٹے جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں، گورنر بلوچستاننوحصار پولیس کی کارروائی، موٹر سائیکل چوری میں ملوث 3 ملزمان گرفتارآواران میں 3 دہشتگرد ہلاک، سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تحسین ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صحافی پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درجبشریٰ بی بی کا 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کیخلاف اپیل کی جلد سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے رجوعدورہ لندن کے لئے سرکاری طیارے کا استعمال ، مریم نواز نے ادائیگی کردیجدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے طیارے میں آگ کی اطلاع، مسافروں کا ہنگامی انخلالاک ڈاؤن کسی صورت قبول نہیں، تاجروں پر پابندیاں ناقابلِ برداشت ہیں، کاشف حیدریفیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر مشاورتپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہکراچی میں بینک بھی لوٹے جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں، گورنر بلوچستاننوحصار پولیس کی کارروائی، موٹر سائیکل چوری میں ملوث 3 ملزمان گرفتارآواران میں 3 دہشتگرد ہلاک، سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تحسین ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صحافی پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درج

ادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگ

احمدخان اچکزئی

ادراک کی سیاست،پروپیگنڈے کے دور میں حقیقت اور ادراک کی جنگ

محترم قارئین، انسان جس دنیا میں سانس لیتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ وہ نہیں ہوتا جو واقعتاً موجود ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اس کا ذہن مانیٹر پر تراشتا ہے۔ فلسفہ اور نفسیات کی دنیا میں ادراک یعنی پرسپشن کا سیدھا مطلب حقیقت کا وہ عکس ہے جو انسانی تجربات، ذاتی خدشات اور دماغی ساخت کے تابع ہو کر بنتا ہے۔ اگر ایک گلاس میں نصف سطح تک پانی موجود ہے تو یہ ٹھوس اور غیر جانبدار حقیقت ہے، مگر جب ایک شخص اسے آدھا خالی اور دوسرا اسے آدھا بھرا ہوا قرار دیتا ہے تو یہاں سے پرسپشن کا سفر شروع ہوتا ہے۔ حقیقت ایک ہوتی ہے لیکن اس کی تشریح کرنے والی پرسپشنز ان گنت ہو سکتی ہیں۔ جب اس سادہ اور قدرتی ادراک میں بیرونی مفادات، سیاسی مقاصد اور منظم نظریاتی ہتھیار شامل کر دیے جاتے ہیں تو یہ شے محض فرد کی سوچ نہیں رہتی بلکہ “مصنوعی ادراک” کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جسے عام فہم زبان میں ذہن سازی یا پروپیگنڈا کہا جاتا ہے۔تاریخ کا عمیق مطالعہ بتاتا ہے کہ قوموں کو شکست دینے کے لیے میدانِ جنگ میں گولی چلانے سے زیادہ موثر ہتھیار ان کے اجتماعی ادراک کو مفلوج کرنا ہوتا ہے۔ اس ذہن سازی کا طریقہ کار چار بنیا‌دی ستونوں پر کھڑا ہے۔ سب سے پہلا قدم بار بار دہرانا ہے، جو نازی جرمنی کے وزیرِ نشر و اشاعت جوزف گوئبلز کا مشہور زمانہ اصول تھا کہ اگر ایک جھوٹ کو سو بار اور بلا انقطاع بولا جائے تو وہ عوام کے ذہنوں میں سچ کا روپ دھار لیتا ہے۔ دوسرا بنیادی قدم ذریعہ یا سورس پر حملہ ہے، جس میں فرد کے موقف یا دلائل کا جواب دینے کے بجائے اس کی شخصیت اور کردار پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے تاکہ عوام کا دھیان اصل بات سے ہٹ کر اس الزامات کی دھند میں گم ہو جائے۔ اس کے بعد ہجوم کا خوف استعمال کیا جاتا ہے، جہاں فرد کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ چونکہ اکثریت ایک خاص نقطہ نظر کو درست مان رہی ہے، اس لیے تنہا اور الگ تھلگ رہ جانے کے ڈر سے اسے بھی اسی لائن پر چلنا ہوگا۔ آخری اور سب سے خطرناک ستون جذباتی ٹرگرز ہیں، جہاں خوف، نفرت اور لالچ کے جذبات کو اتنا بھڑکایا جاتا ہے کہ انسانی عقل اور تدبر عارضی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔تاریخی صحافت کے تناظر میں جب قاضی محمد جیسے کسی تاریخی یا سیاسی کردار پر پروپیگنڈے کی زد میں آ کر “غدار” کا لیبل چپکا دیا جاتا ہے تو وہ اصل حقیقت کا خاتمہ کر کے ایک یکطرفہ پرسپشن تشکیل دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ حقیقت کے طاقچوں میں قاضی محمد نے اپنی زمین، قوم یا خودمختاری کو سامراجی قوتوں اور انگریز کی جارحیت سے بچانے کے لیے کوئی تزویراتی سودا یا عارضی سمجھوتا کیا ہو، نہ کہ اسے بیچا ہو، لیکن پروپیگنڈے کی مسلسل گرد نے عوامی حافظے سے حقیقت کا سرا چھین کر صرف الزام کا خاکہ باقی چھوڑ دیا ہوتا ہے۔ پروپیگنڈے کا یہ نادیدہ جال حقیقت کو دھندلا کر اس لیے کامیاب ہوتا ہے کیونکہ پرسپشن کا اکثر حصہ آنکھوں کے دیکھے ہوئے مشاہدے سے نہیں بلکہ کانوں سے سنے ہوئے بیانیے سے ترتیب پاتا ہے۔ جب سماج میں سچائی کی تلاش ختم ہو جائے اور صرف سنی سنائی بات کو حتمی فرض کر لیا جائے تو رائے عامہ کا زمامِ کار گمنام بیانیہ سازوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔اس منظم میڈیا گردی اور ادراکی جنگ سے بچنے کا واحد ذریعہ معروضی تنقید اور صحافتی تحقیق کا وہ طریقہ کار ہے جو ہر عام و خاص کو تین بنیا‌دی سوالات اٹھانے کا پابند بناتا ہے۔ جب بھی کوئی سنسنی خیز خبر یا الزام آپ تک پہنچے تو پہلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ یہ بات کون کہہ رہا ہے اور اس بیانیے کو پھیلانے سے کس کا ذاتی یا سیاسی فائدہ وابستہ ہے؟ دوسرا سوال یہ کہ کیا اس دعوے کے پشتیبان کے طور پر غیر جانبدار تاریخی ثبوت موجود ہیں یا یہ محض زبانی روایات اور افواہوں کا تسلسل ہے؟ اور تیسرا کلیدی سوال یہ کہ اگر کل کو یہ بات جھوٹی ثابت ہو گئی تو محض سنی سنائی بات پر یقین کرنے کے نتیجے میں میری اخلاقی اور فکری کریڈیبلٹی کا کتنا نقصان ہوگا؟ ان تحقیقی اصولوں کو اپنا کر ہی انسان ذہنی غلامی اور مصنوعی پرسپشن کے حصار سے نکل کر سچائی اور حقیقت کے اصل چہرے کو پہچاننے کے قابل ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *