Banner
Daily Sahafat Quetta
September 10, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام دشمن اقدام ہے، مہنگائی نے غریب کی زندگی اجیرن بنا دی، جے یو آئیسکھر پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 ملزمان گرفتارملک کی پے در پے تقسیم مرکزیت کو کمزور کرے گی، جلد بازی نہ کی جائے، علامہ حسین مقدسیپشین، تجاوزات اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی ، اسسٹنٹ کمشنر مجیب الرحمن ساتکزئیپشین پولیس کی کارروائی، تین ہفتے قبل مبینہ اغوا ہونے والا بچہ بازیابقائداعظم: جدوجہد سے تعمیرِ وطن تکخیبرپختونخوا علماء کے اسلام کی آبیاری میں اس کا کردار نہایت درخشندہ اور ممتاز رہا ہے، مولانا محمود الحسن قاسمیجمعیت علماء اسلام دینی و اخلاقی اصلاح کیلئے جدوجہد کر رہی ہے، مقررینعوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی اولین ترجیح ہے، بی ایف اےبلوچستان میں پٹرول مہنگا، ایرانی پٹرول بھی پاکستانی نرخوں پر فروخت ہونے لگاپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام دشمن اقدام ہے، مہنگائی نے غریب کی زندگی اجیرن بنا دی، جے یو آئیسکھر پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 ملزمان گرفتارملک کی پے در پے تقسیم مرکزیت کو کمزور کرے گی، جلد بازی نہ کی جائے، علامہ حسین مقدسیپشین، تجاوزات اور سرکاری نرخنامے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی ، اسسٹنٹ کمشنر مجیب الرحمن ساتکزئیپشین پولیس کی کارروائی، تین ہفتے قبل مبینہ اغوا ہونے والا بچہ بازیابقائداعظم: جدوجہد سے تعمیرِ وطن تکخیبرپختونخوا علماء کے اسلام کی آبیاری میں اس کا کردار نہایت درخشندہ اور ممتاز رہا ہے، مولانا محمود الحسن قاسمیجمعیت علماء اسلام دینی و اخلاقی اصلاح کیلئے جدوجہد کر رہی ہے، مقررینعوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی اولین ترجیح ہے، بی ایف اےبلوچستان میں پٹرول مہنگا، ایرانی پٹرول بھی پاکستانی نرخوں پر فروخت ہونے لگا

قائداعظم: جدوجہد سے تعمیرِ وطن تک

تحریر:
ڈاکٹر فضلیت بانو

قومی تاریخ میں بعض شخصیات محض اپنے عہد کی نمائندہ نہیں ہوتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کو صرف تحریکِ پاکستان کی کامیابی کے حوالے سے دیکھنا ان کی شخصیت کے وسیع تر دائرۂ کار کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ ایک ممتاز قانون دان، صاحبِ بصیرت سیاست دان، غیر معمولی مذاکرات کار، آئینی جدوجہد کے علم بردار اور اصولی قیادت کی روشن مثال تھے۔11 ستمبر ان کی وفات کی یاد ضرور دلاتا ہے، مگر اس دن کا تقاضا صرف سوگ نہیں بلکہ احتسابِ قومی بھی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ قائداعظم نے جس ریاست کے قیام کے لیے اپنی زندگی وقف کی، اس ریاست کے شہری کی حیثیت سے ہم اپنے فرائض کس حد تک نبھا رہے ہیں۔قائداعظم کی سیاست کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آئینی اور جمہوری راستے کو بنیادی اہمیت دی۔ وہ جذباتی اشتعال کے بجائے دلیل، مذاکرات اور سیاسی حکمتِ عملی پر اعتماد رکھتے تھے۔ان کی قانونی تربیت نے ان کے سیاسی مزاج کو گہرا اثر دیا۔ وہ کسی مسئلے کو محض جذباتی سطح پر نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کے آئینی، سیاسی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت میں مسلمانوں کا سیاسی مطالبہ رفتہ رفتہ ایک منظم اور مؤثر تحریک میں تبدیل ہوا۔
قائداعظم کی یہ خوبی آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کی فطری علامت ہے، لیکن اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے مکالمہ، برداشت اور آئینی طریقۂ کار ضروری ہے۔قائداعظم کے سیاسی سفر میں 1929ء کے چودہ نکات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ نکات دراصل برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی، آئینی اور وفاقی حقوق کے تحفظ کی ایک واضح صورت گری تھے۔ان مطالبات میں صوبائی خود مختاری، اقلیتوں کے مناسب سیاسی حقوق اور نمائندگی جیسے معاملات نمایاں تھے۔ اس مرحلے پر قائداعظم نے یہ واضح کردیا تھا کہ برصغیر کے مختلف طبقات کے سیاسی مفادات کو نظر انداز کرکے ایک پائیدار آئینی نظام تشکیل نہیں دیا جاسکتا۔چودہ نکات کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومی مسائل کے حل کے لیے واضح مطالبات، متعین اہداف اور آئینی ضمانتیں ضروری ہوتی ہیں۔23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور نے تحریکِ پاکستان کو ایک فیصلہ کن سمت عطا کی۔ اس کے بعد مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد میں ایک نئی توانائی پیدا ہوئی۔ قائداعظم نے مسلم لیگ کو منظم کیا، عوامی رابطے کو وسعت دی اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ سیاسی نصب العین کے گرد مجتمع کیا۔1940ء سے 1947ء تک کا عرصہ برصغیر کی تاریخ کا نہایت اہم دور ہے۔ سیاسی مذاکرات، آئینی تجاویز، انتخابات، مختلف منصوبوں اور سیاسی کشمکش کے درمیان قائداعظم نے مسلسل اپنی سیاسی حکمتِ عملی کو آگے بڑھایا۔ بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔
یہ کامیابی کسی ایک دن کی پیداوار نہیں تھی۔ اس کے پس منظر میں برسوں کی جدوجہد، تنظیم سازی، سیاسی شعور اور بے شمار قربانیاں موجود تھیں۔
قیامِ پاکستان کے ساتھ قائداعظم کا سب سے بڑا امتحان شروع ہوا۔ ایک نئی ریاست کو انتظامی ڈھانچہ دینا، لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، معاشی وسائل کو منظم کرنا، دفاعی معاملات سنبھالنا اور ریاستی اداروں کی بنیاد رکھنا آسان کام نہیں تھا۔
قائداعظم نے اپنی علالت کے باوجود ریاستی معاملات میں گہری دلچسپی لی۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، منظم اور قانون پر مبنی ریاست کے طور پر اپنی شناخت قائم کرے۔یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ آزادی حاصل کرنا منزل کا اختتام نہیں بلکہ قومی تعمیر کا نقطۂ آغاز ہوتا ہے۔ آج بھی پاکستان کو کئی ایسے شعبوں میں مسلسل تعمیر و اصلاح کی ضرورت ہے جہاں ادارہ جاتی استحکام، شفافیت اور طویل المدت منصوبہ بندی درکار ہے۔قائداعظم کے تصور میں ریاستی اداروں کی مضبوطی بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔ کوئی بھی ملک صرف سیاسی قیادت کے بل پر ترقی نہیں کرسکتا۔ مضبوط ریاست کے لیے پارلیمان، عدلیہ، انتظامیہ، تعلیمی اداروں، مقامی حکومتوں اور دیگر قومی اداروں کا اپنے اپنے دائرۂ کار میں مؤثر کردار ضروری ہے۔
اداروں کی پائیداری دراصل ریاست کی پائیداری ہے۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، مگر ادارے مستقل رہتے ہیں۔ قائداعظم کی میراث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہم شخصی وابستگی سے آگے بڑھ کر اصولی اور ادارہ جاتی نظام کو ترجیح دیں۔پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور روایات کا حسین امتزاج ہے۔ یہ تنوع ہماری کمزوری نہیں بلکہ ایک بڑی قومی قوت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے باہمی احترام اور مشترکہ پاکستانی شناخت کے ساتھ مربوط رکھا جائے۔
قومی وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ ایک جیسا سوچیں۔ اصل یکجہتی یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے وجود، حقوق اور نقطۂ نظر کا احترام برقرار رہے۔
قائداعظم کی جدوجہد ہمیں یہی شعور دیتی ہے کہ مشترکہ قومی مقصد افراد اور طبقات کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کرسکتا ہے قائداعظم نے خواتین کی سیاسی اور قومی زندگی میں شرکت کی حوصلہ افزائی کی۔ تحریکِ پاکستان میں خواتین نے بھرپور کردار ادا کیا اور سیاسی شعور بیدار کرنے میں نمایاں حصہ لیا۔آج پاکستان کی ترقی کے لیے خواتین کی تعلیم، ہنرمندی، تحقیق، کاروبار، طب، سائنس، ادب، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں مؤثر شرکت ناگزیر ہے۔ کسی بھی معاشرے کی نصف آبادی کی صلاحیتوں کو محدود کرکے قومی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔
قائداعظم کی جدوجہد ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ قومی تعمیر اجتماعی شرکت کا تقاضا کرتی ہے۔قوموں کا مستقبل ان کے نوجوانوں کی فکری تربیت سے وابستہ ہوتا ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو ماضی کی تاریخ سے واقفیت کے ساتھ مستقبل کی ضروریات کا ادراک بھی ہونا چاہیے۔نوجوانوں کے لیے جدید تعلیم، تحقیق، فنی تربیت، روزگار، تخلیقی مواقع اور مثبت اظہار کے پلیٹ فارم پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہیں محض ملازمت کے متلاشی افراد بنانے کے بجائے مسئلہ حل کرنے والے، تخلیقی اور ذمہ دار شہری بنانا ہوگا۔
قائداعظم کا تصورِ نوجوان محنت، خود اعتمادی اور مقصدیت سے جڑا ہوا تھا۔ موجودہ دور میں اسی جذبے کو علم، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ساتھ مربوط کیا جاسکتا ہے۔آج کا زمانہ معلومات کی برق رفتاری کا زمانہ ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آسان کردیا ہے، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات، افواہوں، نفرت انگیز مواد اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو کے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ایسے ماحول میں قائداعظم کی دلیل پسند اور ذمہ دارانہ سیاسی روش ہمارے لیے ایک اہم مثال بن سکتی ہے۔ اختلاف کرنا حق ہے، مگر جھوٹ پھیلانا، کردار کشی کرنا اور بغیر تحقیق کے کسی خبر کو آگے بڑھانا قومی ذمہ داری کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ڈیجیٹل شہری ہونے کا مطلب صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنا نہیں بلکہ معلومات کی صحت جانچنا، دوسروں کی عزت کا خیال رکھنا اور اظہارِ رائے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا بھی ہے۔11 ستمبر کو اگر ہم صرف قائداعظم کی وفات کا ذکر کرکے گزر جائیں تو اس دن کا فکری تقاضا پورا نہیں ہوتا۔ یہ دن ہمیں اپنی اجتماعی کارکردگی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔کیا ہمارے ادارے قانون کے مطابق کام کررہے ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے تحقیق اور تخلیق کو فروغ دے رہے ہیں؟
کیا ہمارے معاشرے میں برداشت اور مکالمے کی گنجائش بڑھ رہی ہے؟
کیا ہم میرٹ، دیانت اور ذمہ داری کو عملی زندگی میں اہمیت دے رہے ہیں؟یہ سوالات دراصل قائداعظم کی یاد کو رسمی خراج سے عملی عہد میں تبدیل کرسکتے ہیں۔قیامِ پاکستان کے ابتدائی دن ہی سے قائداعظم شدید جسمانی کمزوری کے باوجود ریاستی امور میں مصروف رہے۔ 11 ستمبر 1948ء کو ان کا انتقال ہوا۔ پاکستان اس وقت ایک سال بھی مکمل نہیں کرپایا تھا۔
ایک نئی مملکت کے لیے یہ ایک غیر معمولی صدمہ تھا۔ قوم اپنے رہنما سے محروم ہوگئی، مگر قائداعظم اپنے پیچھے ایک واضح سیاسی ورثہ چھوڑ گئے۔ ان کا سب سے بڑا اثاثہ کوئی مادی چیز نہیں بلکہ اصولوں، سیاسی بصیرت اور قومی خود اعتمادی کی وہ میراث تھی جسے آنے والی نسلوں نے سنبھالنا تھا۔
قائداعظم سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم سال میں ایک دن ان کی تصاویر پر پھول چڑھائیں اور اگلے دن ان کے اصول بھلا دیں۔ حقیقی خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی میں ان کے اصولوں کی جھلک دکھائی دے۔طالب علم محنت کو اپنا شعار بنائے۔استاد تدریس کو ذمہ داری سمجھے۔
محقق دیانت کے ساتھ علمی کام کرے۔ سرکاری اہلکار عوامی خدمت کو امانت جانے۔تاجر کاروبار میں صداقت کو ترجیح دے۔سیاست دان قومی مفاد کو ذاتی مصلحت سے بلند رکھے۔اور عام شہری قانون کی پاسداری کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔یہ چھوٹے چھوٹے اعمال مل کر بڑے قومی کردار کو جنم دیتے ہیں۔آج کے نوجوان کو قائداعظم کی زندگی سے سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ بڑے مقاصد مستقل مزاجی کے بغیر حاصل نہیں ہوتے۔ مشکلات راستے کا حصہ ہوتی ہیں، مگر واضح منزل انسان کو سفر جاری رکھنے کی قوت دیتی ہے۔نوجوان اگر علم کو اپنا سرمایہ، کردار کو اپنی پہچان، تحقیق کو اپنی روش اور پاکستان کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھیں تو ملک کی سمت تبدیل ہوسکتی ہے۔
پاکستان کو صرف باصلاحیت افراد ہی نہیں بلکہ باکردار افراد کی بھی ضرورت ہے۔ علم اور کردار کا امتزاج ہی ایسی قیادت پیدا کرسکتا ہے جو آنے والے عشروں کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرسکے۔
11 ستمبر ہمیں ایک عظیم رہنما کی جدائی کا احساس ضرور دلاتا ہے، لیکن اس دن کا سب سے بڑا پیغام مایوسی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ قائداعظم نے ایک آزاد ریاست کے حصول کے لیے جدوجہد کی؛ اب اس ریاست کو مضبوط، منصفانہ، تعلیم یافتہ، معاشی طور پر خود مختار اور اخلاقی طور پر مستحکم بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔قائداعظم کا پاکستان کسی ایک نسل کا خواب نہیں تھا۔ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک امانت تھا۔ اس امانت کی حفاظت صرف تقریروں سے نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے قانون پسندی، علمی ترقی، معاشی دیانت، قومی اتحاد، ادارہ جاتی استحکام اور اجتماعی کردار درکار ہے۔11 ستمبر کا دن ہمیں یہ عہد کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم قائداعظم کو صرف تاریخ کا ایک عظیم باب نہیں سمجھیں گے بلکہ ان کی فکر کو قومی زندگی کی عملی رہنمائی بنائیں گے۔
قائداعظم کا سب سے بڑا مجسمہ دراصل ایک ایسا پاکستان ہوگا جہاں قانون معتبر ہو، علم محترم ہو، انصاف قابلِ رسائی ہو، شہری باوقار ہوں اور قومی مفاد ہر ذاتی ترجیح سے بلند ہو۔
یہی 11 ستمبر کا اصل پیغام ہے، یہی قائداعظم کی میراث ہے اور یہی پاکستان کے مستقبل کی امید۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *