Banner
Daily Sahafat Quetta
September 10, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ’ڈو‘ متعارف، قیمت جان کر ہوش اڑ جائیں گےبلال عباس دولہا بن گئے؟ نئی تصاویر نے مداحوں کو حیران کردیاملک غریب اور حکمران امیرہائی جیکنگ سازش کی سیاہ داستان۔قسط2وقار علی خان پاکستان کا وقارقلات نیشنل ہائی وے پر مسلح افراد نے کراچی جانے والی کوچ روک کر ڈرائیور سمیت اپنے ساتھ لے گئےبلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک فراہم کرنے کا اعلان، 3 ماہ بعد بھی عملدرآمد نہ ہوسکاسعودی عرب پر حوثیوں کا پھر بڑا حملہ، 3 شہروں کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے گئےوائس چانسلر لورالائی یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنے پر پروقار تقریبلورالائی یونیورسٹی میں فوڈر سیڈ مکئی کی تقسیم، کسانوں اور لائیو اسٹاک شعبے کی معاونت کے لیے اہم اقدامایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ’ڈو‘ متعارف، قیمت جان کر ہوش اڑ جائیں گےبلال عباس دولہا بن گئے؟ نئی تصاویر نے مداحوں کو حیران کردیاملک غریب اور حکمران امیرہائی جیکنگ سازش کی سیاہ داستان۔قسط2وقار علی خان پاکستان کا وقارقلات نیشنل ہائی وے پر مسلح افراد نے کراچی جانے والی کوچ روک کر ڈرائیور سمیت اپنے ساتھ لے گئےبلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک فراہم کرنے کا اعلان، 3 ماہ بعد بھی عملدرآمد نہ ہوسکاسعودی عرب پر حوثیوں کا پھر بڑا حملہ، 3 شہروں کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے گئےوائس چانسلر لورالائی یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنے پر پروقار تقریبلورالائی یونیورسٹی میں فوڈر سیڈ مکئی کی تقسیم، کسانوں اور لائیو اسٹاک شعبے کی معاونت کے لیے اہم اقدام

ہائی جیکنگ سازش کی سیاہ داستان۔قسط2

احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، کچھ دیر بعد میں نے ایک مشین کے چلنے کی آواز سنی، جو رفتہ رفتہ تیز ہوتی چلی گئی۔ میرے ذہن میں مختلف خیالات آنے لگے۔ ابتدا میں میں نے سمجھا کہ یہ تفتیش کا کوئی نیا طریقہ ہوگا، لیکن جب جھٹکے اور لرزش بڑھنے لگے تو مجھے اندازہ ہوا کہ شاید میں کسی طیارے میں ہوں۔ عجیب و غریب خیالات نے مجھے گھیر لیا۔ میں نے سوچا کہ کہیں افغانستان کے کمیونسٹ انقلاب کی طرح مجھے بھی طیارے سے نیچے تو نہیں پھینک دیا جائے گا۔ میں نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا اور پوری کوشش کی کہ ہتھکڑی کی زنجیر کو مضبوطی سے تھام لوں تاکہ اگر مجھے نیچے پھینکا جائے تو میرے ہاتھ کٹنے سے بچ سکیں۔ مگر میرے ساتھ بیٹھا شخص مجھے حرکت بھی نہ کرنے دیتا تھا۔ کچھ دیر بعد مجھے گرم ہوا کا احساس ہوا اور میں نے سوچا کہ شاید دروازہ کھلنے والا ہے، مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ کافی دیر بعد طیارہ شدید جھٹکوں کے ساتھ اترا۔ مجھے نیچے اتارا گیا اور ایک جگہ لے جایا گیا۔ جب میری آنکھوں کی پٹی اور ہتھکڑیاں کھولی گئیں تو یہ دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ میں دوبارہ اپنی پرانی کوٹھڑی میں ہوں۔ بعد میں بتایا گیا کہ طیارے میں آگ لگ گئی تھی اور وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔اگلے دن، 3 اپریل 1988ء کو صبح دس بجے، مجھے دوبارہ کوٹھڑی سے نکال کر ایک طیارے میں بٹھایا گیا۔ اس بار میں نے خود کو یہ یقین دلایا کہ یہ لوگ ملک کے قوانین کے خلاف نہیں جائیں گے اور مجھے کسی ایسے جرم کی سزا نہیں دی جائے گی جو میں نے کیا ہی نہیں۔ یہی سوچ مجھے حوصلہ دے رہی تھی۔ جب طیارہ اترا تو مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا گیا۔ موسم سرد تھا۔ کچھ دیر کے سفر کے بعد گاڑی ایک ویران مقام پر رکی جہاں آبادی کے آثار نہیں تھے اور صرف مرغوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کوئٹہ کینٹ کا مشہور کولی کیمپ تھا۔ ایک گھنٹے بعد مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا جو تقریباً آٹھ بائی دس فٹ کا تھا۔ میری آنکھوں کی پٹی کھولی گئی، ایک ہاتھ کی ہتھکڑی کھولی گئی جبکہ دوسرا ہاتھ اب بھی زنجیر سے بندھا ہوا تھا۔یہیں سے میری تفتیش کا آغاز ہوا، جو مسلسل 45 دن اور رات جاری رہی۔ اسی حراستی مدت کے دوران رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہوا۔ پورے مہینے میں میں نے خشک روٹی پر گزارا کیا، کیونکہ سالن افطاری سے ایک گھنٹہ پہلے دیا جاتا تھا جو اس وقت تک بالکل ٹھنڈا اور ناقابلِ استعمال ہو چکا ہوتا تھا۔ بنیادی انسانی ضروریات سے بھی محروم رکھا گیا۔ مجھے دن میں صرف دو بار بیت الخلا جانے کی اجازت تھی ایک بار سورج نکلتے وقت اور دوسری بار غروب کے وقت۔ حتیٰ کہ یہ بھی ایک اذیت ناک عمل تھا۔ زنجیر کو بیت الخلا کے دروازے کے ساتھ باندھ دیا جاتا، جس کی وجہ سے بیٹھنا تک دشوار ہو جاتا تھا۔ میرے کپڑے پسینے سے جسم کے ساتھ چپکے رہتے ،تفتیش طویل ہوتی اور اکثر رات تین یا چاربجےتک جاری رہتی اور صبح سات بجے دوبارہ بلا لیا جاتا۔ مجھ سے ایسے سوالات کیے جاتے جن کا مجھے کوئی علم نہ تھا، کبھی کراچی میں قتل و غارت، کبھی اسمگلنگ، کبھی اسلحے کے بارے میں، یہ سب مسلسل ذہنی اذیت کا باعث تھا۔ مزید اذیت کے لیے جیل کا ایک اہلکار میری کوٹھڑی کی جالی پر پتھر پھینکتا رہتا۔ایک رات میں نے دیکھا کہ دو قیدی لائے گئے، ایک کو میری کوٹھڑی کے دائیں اور دوسرے کو بائیں طرف رکھا گیا۔جاری
اقتباسِ تصنیف(واشنگٹن سے بیجنگ تک)

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *