Banner
Daily Sahafat Quetta
September 10, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ’ڈو‘ متعارف، قیمت جان کر ہوش اڑ جائیں گےبلال عباس دولہا بن گئے؟ نئی تصاویر نے مداحوں کو حیران کردیاملک غریب اور حکمران امیرہائی جیکنگ سازش کی سیاہ داستان۔قسط2وقار علی خان پاکستان کا وقارقلات نیشنل ہائی وے پر مسلح افراد نے کراچی جانے والی کوچ روک کر ڈرائیور سمیت اپنے ساتھ لے گئےبلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک فراہم کرنے کا اعلان، 3 ماہ بعد بھی عملدرآمد نہ ہوسکاسعودی عرب پر حوثیوں کا پھر بڑا حملہ، 3 شہروں کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے گئےوائس چانسلر لورالائی یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنے پر پروقار تقریبلورالائی یونیورسٹی میں فوڈر سیڈ مکئی کی تقسیم، کسانوں اور لائیو اسٹاک شعبے کی معاونت کے لیے اہم اقدامایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ’ڈو‘ متعارف، قیمت جان کر ہوش اڑ جائیں گےبلال عباس دولہا بن گئے؟ نئی تصاویر نے مداحوں کو حیران کردیاملک غریب اور حکمران امیرہائی جیکنگ سازش کی سیاہ داستان۔قسط2وقار علی خان پاکستان کا وقارقلات نیشنل ہائی وے پر مسلح افراد نے کراچی جانے والی کوچ روک کر ڈرائیور سمیت اپنے ساتھ لے گئےبلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک فراہم کرنے کا اعلان، 3 ماہ بعد بھی عملدرآمد نہ ہوسکاسعودی عرب پر حوثیوں کا پھر بڑا حملہ، 3 شہروں کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے گئےوائس چانسلر لورالائی یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنے پر پروقار تقریبلورالائی یونیورسٹی میں فوڈر سیڈ مکئی کی تقسیم، کسانوں اور لائیو اسٹاک شعبے کی معاونت کے لیے اہم اقدام

ملک غریب اور حکمران امیر

محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام، کسی بھی فلاحی ریاست کا بنیادی فلسفہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے عوام کی خوشحالی اور ملکی معیشت کا استحکام وہاں کی حکمرانی کے معیار کا عکس ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک میں عوام غریبی، اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں اور دوسری جانب حکمران طبقات کی دولت، جائیدادوں اور شاہانہ اخراجات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہو، تو یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کے معاشی، سیاسی اور اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتی ہے۔ “ملک غریب اور حکمران امیر” صرف ایک جملہ یا نعرہ نہیں، بلکہ ترقی پذیر دنیا کے متعدد ممالک کا وہ کربناک سچ ہے جس نے ان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب ہم کسی ملک کے معاشی اعشاریوں کا جائزہ لیتے ہیں تو دو متضاد تصویریں سامنے آتی ہیں؛ ایک طرف ملکی خزانہ خالی ہوتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہوتے ہیں، اور ملک کو چلانے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے سخت شرائط پر قرضے لیے جاتے ہیں جن کا بوجھ بالآخر عام عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کی صورت میں ڈالا جاتا ہے، جبکہ پینے کا صاف پانی، صحت، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات عوام کی پہنچ سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں، دوسری طرف اسی غریب ملک کے حکمران، بیوروکریٹ اور سیاستدان دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں جائیدادیں خریدتے ہیں، ان کے آف شور کمپنیوں میں اربوں ڈالر جمع ہوتے ہیں اور ان کا رہن سہن شاہانہ ہوتا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک درحقیقت غریب نہیں ہے بلکہ ملکی وسائل کی تقسیم کا نظام غیر منصفانہ اور جابرانہ ہے۔ اس المیے کی سب سے بڑی وجہ طاقت اور معیشت کا چند مخصوص ہاتھوں میں مرکوز ہونا ہے، کیونکہ جن ممالک میں حکمران امیر اور عوام غریب ہوتے ہیں، وہاں ریاست کے ادارے، پالیسیاں اور معاشی قوانین عام عوام کی بہتری کے بجائے اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اس نظام میں عام آدمی سے بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے خون پسینے کی کمائی نچوڑی جاتی ہے جبکہ امیر ترین طبقات کو ٹیکس چھوٹ اور مراعات دی جاتی ہیں، نیز ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کے فقدان کے باعث اربوں روپے کے فنڈز ذاتی جیبوں میں منتقل ہو کر غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک بھیج دیے جاتے ہیں جس سے مقامی معیشت مزید مفلوج ہو جاتی ہے۔ حکمرانوں کی بے تحاشا دولت اور عوام کی کسمپرسی کے درمیان یہ بڑھتا ہوا فاصلہ معاشرے میں شدید ناہمواری کو جنم دیتا ہے، جس سے عوام کا ریاست اور اس کے اداروں سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور جب شہریوں کو لگتا ہے کہ قانون اور انصاف صرف غریب کے لیے ہے اور امیر ہر سزا سے بالاتر ہے، تو قانون کی بالادستی کا تصور دم توڑ دیتا ہے۔ اسی ناانصافی کے نتیجے میں ملک کے پڑھے لکھے اور باصلاحیت نوجوان معاشی ناامیدی کے باعث بیرون ملک رخ کرتے ہیں، جس سے ملک مستقبل کی قیادت اور پیشہ ورانہ مہارت سے محروم ہو جاتا ہے اور معاشی عدم استحکام بالآخر سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس المیے کا خاتمہ صرف جذباتی تقریروں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ٹھوس اور طویل المیعاد اصلاحات ناگزیر ہیں؛ حکمران طبقے اور بیوروکریسی کے لیے بلاامتیاز اور سخت احتسابی نظام قائم کیا جائے، تمام عوامی عہدیداروں کے اثاثوں کا سالانہ بنیادوں پر پبلک آڈٹ ہونا چاہیے، اور براہ راست ٹیکسیشن کا منصفانہ نظام نافذ کر کے اشرافیہ کو ملنے والی تمام غیر ضروری مراعات اور سبسڈیز فوری ختم کی جائیں۔ ساتھ ہی نیب، ایف آئی اے اور عدلیہ جیسے اداروں کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کر کے مکمل خودمختار بنایا جائے تاکہ ملکی بجٹ کا بڑا حصہ شاہانہ اخراجات کے بجائے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر صرف ہو سکے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہی اقوام پائیدار ترقی کرتی ہیں جہاں کے حکمران سادگی اور جوابدہی کو اپنا شعار بناتے ہیں اور ملکی وسائل کو عوامی امانت سمجھتے ہیں، لہٰذا اگر کسی ملک کو غربت کی دلدل سے نکالنا ہے تو “امیر حکمران اور غریب ملک” کا یہ دردناک پیراڈائم تبدیل کرنا ہوگا، کیونکہ جب تک حکمران اپنے مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیح دیتے رہیں گے، ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور صرف شفافیت، انصاف اور سخت اصلاحات ہی وہ واحد راستہ ہیں جن سے ایک غریب ملک کو خوشحال اور متوازن ریاست میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *