Banner
Daily Sahafat Quetta
September 10, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
قلات نیشنل ہائی وے پر مسلح افراد نے کراچی جانے والی کوچ روک کر ڈرائیور سمیت اپنے ساتھ لے گئےبلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک فراہم کرنے کا اعلان، 3 ماہ بعد بھی عملدرآمد نہ ہوسکاسعودی عرب پر حوثیوں کا پھر بڑا حملہ، 3 شہروں کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے گئےوائس چانسلر لورالائی یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنے پر پروقار تقریبلورالائی یونیورسٹی میں فوڈر سیڈ مکئی کی تقسیم، کسانوں اور لائیو اسٹاک شعبے کی معاونت کے لیے اہم اقدامخودکشی: جب انسان کو زندگی نہیں، اپنی تکلیف ختم کرنی ہوتی ہےبلوچستان میں کوئی نوکری فروخت نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ نے افسران سے حلف لے لیابلوچستان ایوی ایشن کمپنی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ،سرفراز بگٹیریاست کی رٹ چیلنج کرنیوالے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا ،وزیراعلیٰ بلوچستانصوبہ بھر بالخصوص ڈسٹرکٹ پشین میں جنگل کاقانون نافذہے، قاری شاہ محمدقلات نیشنل ہائی وے پر مسلح افراد نے کراچی جانے والی کوچ روک کر ڈرائیور سمیت اپنے ساتھ لے گئےبلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک فراہم کرنے کا اعلان، 3 ماہ بعد بھی عملدرآمد نہ ہوسکاسعودی عرب پر حوثیوں کا پھر بڑا حملہ، 3 شہروں کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغ دیے گئےوائس چانسلر لورالائی یونیورسٹی انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنے پر پروقار تقریبلورالائی یونیورسٹی میں فوڈر سیڈ مکئی کی تقسیم، کسانوں اور لائیو اسٹاک شعبے کی معاونت کے لیے اہم اقدامخودکشی: جب انسان کو زندگی نہیں، اپنی تکلیف ختم کرنی ہوتی ہےبلوچستان میں کوئی نوکری فروخت نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ نے افسران سے حلف لے لیابلوچستان ایوی ایشن کمپنی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ،سرفراز بگٹیریاست کی رٹ چیلنج کرنیوالے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا ،وزیراعلیٰ بلوچستانصوبہ بھر بالخصوص ڈسٹرکٹ پشین میں جنگل کاقانون نافذہے، قاری شاہ محمد

خودکشی: جب انسان کو زندگی نہیں، اپنی تکلیف ختم کرنی ہوتی ہے

عنوان :خودکشی: جب انسان کو زندگی نہیں، اپنی تکلیف ختم کرنی ہوتی ہے
تحریر۔ ماھر نفسیات نبیلہ شاھد
کبھی کبھی انسان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی بہت تنہا ہوتا ہے۔ وہ ہنستا ہے، باتیں کرتا ہے، اپنے روزمرہ کے کام کرتا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسی جنگ جاری ہوتی ہے جس کا کسی کو اندازہ نہیں ہوتا۔ چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے، مگر دل میں تھکن۔ زبان خاموش ہوتی ہے، مگر ذہن میں شور۔
پھر کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اس تکلیف سے نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
خودکشی کو ہمارے معاشرے میں اکثر کمزوری، بزدلی یا گناہ کے چند سخت الفاظ میں بیان کرکے بات ختم کر دی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ خودکشی کے پیچھے شدید ڈپریشن، نفسیاتی بیماری، جسمانی تکلیف، مسلسل درد، تنہائی، خاندانی یا ازدواجی مسائل، مالی پریشانی، صدمہ، نشہ اور گہری ناامیدی جیسے کئی عوامل ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے ہمیں صرف فیصلہ سنانے کے بجائے وجہ سمجھنے، انسان کو سننے اور بروقت مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلام میں انسانی جان کی حرمت
اسلام نے انسانی جان کو انتہائی مقدس قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔”
(سورۃ النساء، 4:29)
یہ آیت انسانی جان کی حرمت کے بارے میں ایک واضح اصول بیان کرتی ہے۔ اسلام انسان کو اپنی جان کی حفاظت کا حکم دیتا ہے اور اسے ناامیدی کے اندھیرے میں تنہا چھوڑنے کے بجائے اللہ کی رحمت اور امید کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔”
(سورۃ الزمر، 39:53)
یہ پیغام صرف گناہ کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے لیے بھی امید کا دروازہ کھولتا ہے جو خود کو مشکلات میں گھرا ہوا محسوس کر رہا ہو۔ اسلامی تعلیمات ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ انسان کی موجودہ حالت اس کے مستقبل کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتی۔
تاہم یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے: خودکشی کے بارے میں اسلامی حکم بیان کرنا اور خودکشی کے خیالات رکھنے والے شخص کو سہارا دینا دو الگ ذمہ داریاں ہیں۔ کسی شخص کو صرف گناہ کا احساس دلا کر شرمندہ کرنا کافی نہیں۔ اگر وہ شدید ذہنی بحران میں ہے تو اسے ہمدردی، تحفظ اور علاج کی ضرورت ہے۔
ذہنی بیماری کو کمزوری نہ سمجھیں
شدید ڈپریشن صرف اداسی کا نام نہیں۔ اس میں انسان مسلسل ناامیدی، بے بسی، بے وقعتی، تھکن، نیند اور بھوک میں تبدیلی اور مستقبل کے بارے میں انتہائی منفی خیالات کا شکار ہو سکتا ہے۔
بائی پولر ڈس آرڈر، شدید اضطراب، صدمے کے بعد پیدا ہونے والی نفسیاتی مشکلات اور بعض دیگر ذہنی بیماریوں میں بھی خودکشی کا خطرہ بعض افراد میں بڑھ سکتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہر شخص خودکشی کرے گا۔ تشخیص، علاج، خاندان کی حمایت اور مسلسل دیکھ بھال سے بہت سے لوگ دوبارہ بہتر اور بامقصد زندگی گزار سکتے ہیں۔
یہاں ہمیں ایک بنیادی فرق سمجھنا چاہیے: اگر جسم بیمار ہو تو ہم ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، تو ذہن اور جذبات شدید متاثر ہوں تو ماہرِ نفسیات یا
کلینیکل سائیکالوجسٹ سے مدد لینا ضروری ہو سکتا ہے
اگر کسی شخص میں مسلسل اداسی، شدید بے چینی، ناامیدی، نیند میں نمایاں تبدیلی، لوگوں سے کٹ جانا، روزمرہ کے کاموں سے بے رغبتی یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات نظر آئیں تو اسے کلینیکل سائیکالوجسٹ سے رابطہ کرنا چاہیے۔
کلینیکل سائیکالوجسٹ فرد کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کا باقاعدہ جائزہ لے سکتا ہے، مسائل کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے اور مناسب نفسیاتی علاج، مثلاً سائیکوتھراپی، کی رہنمائی کر سکتا ہے۔
اگر علامات شدید ہوں، خودکشی کا خطرہ موجود ہو یا کسی طبی/نفسیاتی بیماری کا شبہ ہو تو (Psychiatrist) سے طبی معائنہ اور ضرورت کے مطابق علاج بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے بھی علاج کی کوشش کرنا درست اور قابلِ قدر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے علاج اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“اے اللہ کے بندو! علاج کرو، کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کا علاج بھی اتارا ہے۔”
(سنن ابی داؤد، 3855؛ جامع الترمذی، 2038)
اس تعلیم کی روشنی میں ذہنی بیماری کے لیے ماہر سے رجوع کرنا بھی علاج ہی کا ایک حصہ ہے۔
جسمانی بیماری اور مسلسل درد
خودکشی کے خیالات صرف نفسیاتی بیماریوں سے وابستہ نہیں ہوتے۔ کسی شدید یا دائمی جسمانی بیماری، مسلسل درد، معذوری، طویل علاج یا جسمانی کمزوری کا اثر بھی انسان کی ذہنی صحت پر پڑ سکتا ہے۔
ایک بیمار شخص کبھی کبھی یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ اپنے خاندان پر بوجھ ہے یا اس کی زندگی صرف تکلیف بن کر رہ گئی ہے۔ اگر اس کے ساتھ ڈپریشن اور ناامیدی بھی شامل ہو جائے تو خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے ایسے شخص کو صرف یہ کہہ دینا کہ “صبر کرو” کافی نہیں۔ اسے طبی علاج، نفسیاتی مدد، جذباتی سہارا اور خاندان کی توجہ سب کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
تنہائی کا کوئی شور نہیں ہوتا
کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جن کی کوئی آواز نہیں ہوتی۔
ایک شخص گھر میں موجود ہوتا ہے مگر اسے لگتا ہے کہ کوئی اسے سمجھتا نہیں۔ وہ دوستوں کے درمیان بیٹھا ہوتا ہے مگر اندر سے خود کو بالکل اکیلا محسوس کرتا ہے۔
طلاق، ازدواجی تنازع، محبت میں ناکامی، کسی عزیز کی موت، بے روزگاری، مالی مشکلات، تعلیمی دباؤ، خاندانی جھگڑے یا سماجی دباؤ بعض لوگوں کے لیے شدید جذباتی بحران پیدا کر سکتے ہیں۔
لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ایک ہی واقعہ ہر انسان کو ایک جیسا متاثر نہیں کرتا۔ جسے ہم معمولی سمجھتے ہیں، وہ کسی دوسرے کے لیے ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے۔
اس لیے کسی کے درد کا مذاق اڑانے یا یہ کہنے کے بجائے کہ “یہ تو کوئی بڑی بات نہیں” ہمیں اس کی بات سننی چاہیے۔
ناامیدی کے مقابلے میں امید
قرآن انسان کو بار بار اللہ کی رحمت سے امید رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن امید کا مطلب یہ نہیں کہ بیمار شخص کو علاج سے روک دیا جائے یا صرف روحانی نصیحت پر اکتفا کیا جائے۔
دعا کے ساتھ علاج بھی، عبادت کے ساتھ کوشش بھی، اور روحانی سہارا کے ساتھ نفسیاتی مدد بھی ضروری ہو سکتی ہے۔
ایک شخص ڈپریشن میں مبتلا ہے تو اسے یہ کہنا کہ “ایمان کمزور ہے” اس کے درد کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اسے محبت سے عبادت کی طرف بھی متوجہ کیا جائے اور ساتھ ہی کلینیکل سائیکالوجسٹ یا متعلقہ طبی ماہر سے مدد لینے کی ترغیب دی جائے۔
روحانی سہارا اور پیشہ ورانہ علاج ایک دوسرے کے مخالف نہیں؛ کئی افراد کے لیے دونوں ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں۔
اگر کوئی شخص خودکشی کی بات کرے تو کیا کریں؟
اگر کوئی شخص اپنی زندگی ختم کرنے یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات کا اظہار کرے تو اسے سنجیدگی سے لیں۔
اسے ڈانٹیں نہیں، شرمندہ نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ “تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو؟”
اس کے بجائے پرسکون انداز میں اس کی بات سنیں اور اسے اکیلا نہ چھوڑیں۔ کسی قابلِ اعتماد گھر کے فرد کو صورتحال سے آگاہ کریں اور فوری طور پر کلینیکل سائیکالوجسٹ، سائیکاٹرسٹ یا مناسب طبی/ہنگامی سروس سے رابطہ کریں۔
اگر خطرہ فوری ہو تو پیشہ ورانہ ہنگامی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ہمیں صرف نصیحت نہیں، ساتھ دینا ہوگا
ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کے بارے میں اب بھی بہت سی غلط فہمیاں موجود ہیں۔ لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر انہیں ڈپریشن یا کسی نفسیاتی مسئلے کے بارے میں بتایا تو معاشرہ انہیں “پاگل” کہے گا۔
یہ رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
ذہنی بیماری بھی بیماری ہے۔ اس کا علاج ممکن ہے۔ اور ماہرِ نفسیات یا کلینیکل سائیکالوجسٹ سے رجوع کرنا شرمندگی کی بات نہیں۔
جس طرح ہم بخار، دل کی بیماری یا ذیابیطس کے علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، اسی طرح شدید ذہنی اور جذباتی تکلیف میں ماہر سے مدد لینا بھی ذمہ داری ہے۔
ایک انسان کو صرف ایک موقعِ سماعت چاہیے
کبھی کبھی ہم کسی پریشان شخص کو دیکھتے ہیں مگر پوچھتے نہیں کہ “کیا ہوا؟”
ہمیں لگتا ہے وہ خود ٹھیک ہو جائے گا۔
کبھی وہ شخص مدد مانگنا چاہتا ہے مگر اسے خوف ہوتا ہے کہ لوگ اسے کمزور سمجھیں گے۔
یہیں سے ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔
کسی سے پوچھیں:
“تم واقعی کیسے ہو؟”
اور اگر وہ بولنا شروع کر دے تو اس کی بات مکمل ہونے دیں۔
فوری طور پر مشورہ دینے کے بجائے پہلے سنیں۔
اسے تنہا نہ چھوڑیں۔
زندگی اللہ کی نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری
اسلام ہمیں زندگی کی قدر سکھاتا ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونے کا درس دیتا ہے اور انسان کو مشکلات میں صبر و امید کی تلقین کرتا ہے۔ لیکن اسلام ہمیں اسباب اختیار کرنے سے بھی نہیں روکتا۔
بیماری ہو تو علاج، بھوک ہو تو خوراک، پیاس ہو تو پانی اور ذہنی تکلیف ہو تو مناسب نفسیاتی و طبی مدد—یہ سب انسانی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔
اس لیے خودکشی کے مسئلے کا جواب صرف مذمت نہیں، بلکہ رحمت، سمجھ، علاج، تحفظ اور امید ہے۔
ایک مشکل دن پوری زندگی نہیں ہوتا۔
ایک ناکامی پوری شخصیت کا فیصلہ نہیں کرتی۔
ایک ٹوٹا ہوا رشتہ مستقبل کا اختتام نہیں ہوتا۔
ایک بیماری انسان کی پوری شناخت نہیں ہوتی۔
اور ایک شدید ذہنی بحران ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔
اگر آپ خود یا آپ کا کوئی عزیز خودکشی کے خیالات سے گزر رہا ہے تو اسے اکیلا نہ چھوڑیں۔ کسی قابلِ اعتماد شخص کو فوراً بتائیں .کیونکہ مدد مانگنا کمزوری نہیں۔
مدد مانگنا زندگی کو ایک اور موقع دینا ہے۔
اور شاید کبھی کبھی ایک انسان کو بچانے کے لیے ہمیں کوئی بڑا معجزہ نہیں کرنا ہوتا۔
صرف اس کے پاس بیٹھ کر اتنا کہنا ہوتا ہے:
“میں تمہاری بات سننے کے لیے یہاں ہوں۔ تم اکیلے نہیں ہو۔”

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *