Banner
Daily Sahafat Quetta
September 9, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”برطانوی استعمار کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے اسباب، دی گریٹ گیم1965 اور 1971 کے فضائی معرکوں کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کَیس لاہورمیر عبداللہ جان بزنجو کے انتقال پر زبیر زامرانی کا اظہارِ تعزیتکوئٹہ ،پی اے سی کا سول ہسپتال کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر اظہار برہمیآپریشن سوم ناتھ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال ہے،سیدال ناصرصوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری اولین ترجیح ہے ،بخت کاکڑصوبے میں مالداری کے فروغ کےلئے عملی اقدامات جاری ہیں ،فیصل جمالیعوامی مسائل حل کئے بغیر پارلیمان تک پہنچنا ممکن نہیں ،محمد خان لہڑیصوبے میں امن کی بحالی کیلئے ملک دشمن عناصر کےخلاف اپنا کردار اد ا کرینگے ،سلیم کھوسہ“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”برطانوی استعمار کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے اسباب، دی گریٹ گیم1965 اور 1971 کے فضائی معرکوں کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، کَیس لاہورمیر عبداللہ جان بزنجو کے انتقال پر زبیر زامرانی کا اظہارِ تعزیتکوئٹہ ،پی اے سی کا سول ہسپتال کے کروڑوں روپے کے آڈٹ پیراز پر اظہار برہمیآپریشن سوم ناتھ پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کی روشن مثال ہے،سیدال ناصرصوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری اولین ترجیح ہے ،بخت کاکڑصوبے میں مالداری کے فروغ کےلئے عملی اقدامات جاری ہیں ،فیصل جمالیعوامی مسائل حل کئے بغیر پارلیمان تک پہنچنا ممکن نہیں ،محمد خان لہڑیصوبے میں امن کی بحالی کیلئے ملک دشمن عناصر کےخلاف اپنا کردار اد ا کرینگے ،سلیم کھوسہ

“کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کاقیام، مقاصد، علمی کردار اور پاکستانی معاشرے میں اس کی اہمیت و کردار”

تحریر:
ڈاکٹر فضلیت بانو

معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی معاشی خوش حالی، تعلیمی اداروں یا صنعتی ترقی سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ جرم، تشدد، قانون شکنی اور سماجی انحراف جیسے مسائل کو کس علمی اور عملی بصیرت کے ساتھ سمجھتا اور حل کرتا ہے۔ جدید دنیا میں جرم کو محض قانونی خلاف ورزی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایک پیچیدہ سماجی، نفسیاتی، معاشی اور انسانی مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی وسیع تناظر نے کرائمینالوجی کو ایک اہم علمی اور عملی شعبے کی حیثیت دی ہے۔پاکستان میں بھی کرائمینالوجی کی تعلیم، تحقیق اور عملی اطلاق کی ضرورت گزشتہ برسوں میں نمایاں ہوئی ہے۔ جامعات میں کرائمینالوجی کے شعبے قائم ہوئے، تحقیق کا دائرہ وسیع ہوا اور جرائم کے اسباب و سدباب کے حوالے سے علمی مباحث میں اضافہ ہوا۔ اسی ارتقائی ماحول میں Criminologist Association of Pakistan (CAP) کا قیام ایک قابلِ توجہ پیش رفت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
CAP کے آغاز کا اعلان 2024 کے دوران سامنے آیا اور اس کے ساتھ وابستہ ماہرین نے اسے پاکستان کو زیادہ پُرامن بنانے اور کرائمینالوجی کے پیشہ ورانہ کردار کو مضبوط کرنے کی سمت ایک قدم قرار دیا۔
اول یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کرائمینالوجی کیا ہے؟
کرائمینالوجی جرم اور مجرمانہ رویے کا سائنسی اور منظم مطالعہ ضروری ہے۔ اس میں صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جرم کیا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ جرم کیوں ہوتا ہے، کون سے عوامل کسی فرد کو جرم کی طرف لے جاتے ہیں، معاشرہ جرم پر کس طرح ردِعمل دیتا ہے اور جرائم کی روک تھام کے لیے کون سی مؤثر حکمتِ عملیاں اختیار کی جا سکتی ہیں۔اس علم کا دائرہ سماجی، نفسیاتی، معاشی، قانونی اور بعض صورتوں میں حیاتیاتی عوامل تک پھیلتا ہے۔ جدید کرائمینالوجی میں جرم کو فرد کے ساتھ ساتھ اس کے ماحول، خاندان، معاشرتی حالات، معاشی صورتِ حال، تعلیم، سماجی تعلقات اور ادارہ جاتی نظام کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان کے مختلف تعلیمی نصابات میں بھی کرائمینالوجی کے تحت جرم اور انحراف، جرائم کے نظریات، اطلاقی کرائمینالوجی، مجرمانہ رویے کے سماجی و نفسیاتی عوامل، جرائم کی اقسام، فرانزک کرائمینالوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تفتیش اور نظامِ انصاف جیسے موضوعات شامل کیے جاتے ہیں۔
کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کا پس منظر اپنے وسیع مقاصد سے مربوط ہے ۔پاکستان میں کرائمینالوجی کے فروغ کے لیے اس سے پہلے بھی علمی و پیشہ ورانہ کوششیں موجود رہی ہیں۔ مثال کے طور پر Pakistan Society of Criminology نے تحقیق، علمی مکالمے اور ماہرین و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بین الاقوامی جرائم و انصاف کے علمی حلقوں میں بھی اس ادارے اور اس کے تحقیقی کام کا ذکر ملتا ہے۔ اسی وسیع پس منظر میں Criminologist Association of Pakistan (CAP) کا ظہور کرائمینالوجی کے شعبے سے وابستہ ماہرین، محققین اور پیشہ ور افراد کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ 2024 میں CAP کے آغاز کے حوالے سے جاری ایک عوامی بیان میں اسے پاکستان میں کرائمینالوجی کے میدان کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا گیا اور اس کے پیشہ ور افراد کے ذریعے امید، امن اور باہمی بقائے باہمی کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ یہ پہلو اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ CAP کا تصور صرف جرائم کے مطالعے تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرتی ماحول کی تشکیل سے بھی وابستہ ہے جہاں جرم کے اسباب کو سمجھ کر اس کی روک تھام کی جاتی ہے ۔
CAP کے بنیادی مقاصد
کسی بھی پیشہ ورانہ انجمن کی اہمیت اس کے مقاصد اور عملی سرگرمیوں سے متعین ہوتی ہے۔ کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے تناظر میں اس کے بنیادی کردار کو چند اہم دائروں میں سمجھا جا سکتا ہے۔
1۔ کرائمینالوجی کے علم کا فروغ بہت ضروری ہے ۔پاکستان میں کرائمینالوجی ابھی بھی کئی دوسرے سماجی علوم کے مقابلے میں نسبتاً ترقی پذیر شعبہ ہے۔ CAP جیسے پلیٹ فارم اس علم کو جامعات، تحقیقی اداروں اور عملی اداروں کے درمیان زیادہ مؤثر انداز میں متعارف کرا سکتے ہیں۔
2۔ کرائمینالوجسٹس کی پیشہ ورانہ شناخت کئی لحاظ سے قابل ستائش ہے ۔کرائمینالوجی کی تعلیم حاصل کرنے والے افراد کے لیے صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں۔ انہیں اپنی علمی قابلیت کو عملی میدان میں استعمال کرنے کے مواقع بھی درکار ہوتے ہیں۔ ایسی انجمن پیشہ ورانہ شناخت، رابطہ سازی اور تجربات کے تبادلے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
3۔ تحقیق کی حوصلہ افزائی اہم بھی ہے اور لازمی بھی۔جرائم کے مؤثر سدباب کے لیے محض قیاس یا عمومی رائے کافی نہیں۔ اس کے لیے اعدادوشمار، فیلڈ ریسرچ، کیس اسٹڈیز اور مقامی حالات کے مطابق تحقیقی نتائج ضروری ہیں۔پاکستان میں جرائم کے موضوع پر تحقیق کو مقامی حقائق سے جوڑنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ دوسرے ممالک میں تیار کیے گئے نظریات کو پاکستانی معاشرتی حالات میں بعینہٖ نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
CAP کے لیے جامعات کے ساتھ تعاون ایک نہایت اہم میدان ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں کرائمینالوجی ایک باقاعدہ علمی شعبے کے طور پر ترقی کر رہی ہے اور اس کے نصاب میں نظریاتی مباحث کے ساتھ Applied Criminology، Forensic Criminology، criminal investigation اور criminal justice system جیسے عملی موضوعات بھی شامل ہیں۔ ایسی صورت میں کسی پیشہ ورانہ انجمن کا کردار یہ ہو سکتا ہے کہ وہ طلبہ، اساتذہ، محققین اور عملی ماہرین کے درمیان رابطہ قائم کرے۔ سیمینار، ورکشاپس، تحقیقی مذاکرے، مطالعاتی نشستیں اور علمی کانفرنسیں اس مقصد کے لیے مؤثر ذرائع بن سکتی ہیں۔اس سے طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کتابوں میں پڑھا جانے والا نظریہ عملی زندگی میں کس طرح کام کرتا ہے۔جرم کی روک تھام میں کرائمینالوجی کا کردار
جرائم سے نمٹنے کے دو بنیادی انداز ہیں: ایک جرم کے ارتکاب کے بعد کارروائی کرنا اور دوسرا جرم کے پیدا ہونے کے اسباب کو پہلے سے سمجھ کر اس کی روک تھام کرنا۔کرائمینالوجی کا امتیاز دوسرے طریقۂ کار میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ کرائمینالوجسٹ یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ کسی معاشرے میں جرائم کی شرح کیوں بڑھ رہی ہے، کون سے سماجی عوامل مجرمانہ رویے کو تقویت دیتے ہیں اور کن اقدامات کے ذریعے اس رجحان کو کم کیا جا سکتا ہے۔یہاں خاندان، تعلیم، روزگار، معاشرتی ماحول، نوجوانوں کی سرگرمیاں، شہری پھیلاؤ، سماجی محرومی اور ادارہ جاتی کارکردگی جیسے عوامل اہم ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی کرائمینالوجی کے مباحث میں بھی جرائم کے سماجی، معاشی، نفسیاتی اور دیگر عوامل کا مطالعہ اہم سمجھا جاتا ہے۔
نوجوان نسل کے لیے کرائمینالوجی کا شعور بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔
نوجوان کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں، اس لیے نوجوانوں میں جرائم کے رجحانات کا مطالعہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ نوجوانوں کے جرائم کو صرف سزا کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے ان کے سماجی اور نفسیاتی پس منظر کو سمجھنا زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔اسی لیے Juvenile Delinquency، Youth Crime اور Youth Violence کرائمینالوجی کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ پاکستان کے کرائمینالوجی نصابات میں بھی نوجوانوں کے جرم اور تشدد کو باقاعدہ موضوع کے طور پر جگہ دی گئی ہے۔
CAP اس میدان میں نوجوان محققین کو تحقیق کی طرف اغب کرنے، جامعات میں آگاہی پروگرام منعقد کرنے اور نوجوانوں کے لیے مثبت سماجی سرگرمیوں کی اہمیت اجاگر کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپس میں تعلق وقت اور حالات کے پیش نظر بہت اہمیت کا حامل ہے ۔
کرائمینالوجی اور پولیسنگ کا تعلق نہایت گہرا ہے۔ پولیس کسی جرم کے ارتکاب کے بعد تفتیش اور قانون کے نفاذ میں کردار ادا کرتی ہے، جب کہ کرائمینالوجی جرم کے اسباب، نمونوں اور روک تھام کے وسیع تر پہلوؤں کا مطالعہ کرتی ہے۔دونوں شعبوں کے درمیان مضبوط رابطہ جرم کی روک تھام کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی پیدا کر سکتا ہے۔ کرائمینالوجی کے علمی مباحث میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، مجرمانہ تفتیش اور نظامِ انصاف باقاعدہ مطالعے کا حصہ ہیں۔
CAP کا ایک اہم ممکنہ کردار یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ماہرینِ کرائمینالوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان علمی اور پیشہ ورانہ رابطے کو فروغ دے۔جدید جرائم اور بدلتی ہوئی دنیا آج جرم کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ جرائم کی نئی صورتوں کے لیے بھی میدان پیدا کیا ہے۔ سائبر کرائم، آن لائن فراڈ، شناخت سے متعلق جرائم اور ڈیجیٹل دنیا سے وابستہ دیگر مسائل نے کرائمینالوجی کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے۔اس لیے موجودہ دور کے کرائمینالوجسٹ کے لیے روایتی جرائم کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معاشرے اور جدید جرائم کے باہمی تعلق کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔یہاں CAP جیسی پیشہ ورانہ انجمن کے لیے ایک وسیع علمی میدان موجود ہے کہ وہ نئے جرائم پر تحقیقی مکالمہ پیدا کرے اور ماہرین کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے۔متاثرینِ جرم کے مسائل کو بھی زیر غور لانا چاہئیے۔جرائم کے مطالعے میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ توجہ صرف مجرم پر نہیں بلکہ متاثرہ فرد پر بھی دی جا رہی ہے۔ Victimology یعنی جرائم کے متاثرین کا مطالعہ کرائمینالوجی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
متاثرین کو قانونی، نفسیاتی اور سماجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ جرم کے بعد بحالی، انصاف تک رسائی اور معاشرتی تحفظ کے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستانی تناظر میں بھی خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کے حوالے سے کرائمینالوجیکل تحقیق کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں کرائمینالوجی کے معروف علمی حلقوں میں بچوں اور خواتین کے حقوق، پولیس اصلاحات اور پاکستانی معاشرے میں پولیسنگ جیسے موضوعات پر بھی کام کیا جاتا رہا ہے۔
تحقیق اور پالیسی سازی بہت اہمیت کی حامل ہے ۔جرائم کے بارے میں درست پالیسی اسی وقت بنائی جا سکتی ہے جب اس کے لیے قابلِ اعتماد تحقیق موجود ہو۔ محض یہ کہنا کہ جرم بڑھ رہا ہے یا کم ہو رہا ہے، کافی نہیں؛ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کس قسم کا جرم، کہاں، کن حالات میں اور کن عوامل کے تحت رونما ہو رہا ہے۔اسی لیے کرائمینالوجسٹ کے لیے ڈیٹا کا مطالعہ، تحقیقی طریقۂ کار، فیلڈ ورک اور تجزیاتی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں
CAP تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دے کر ایسی سفارشات کی تیاری میں مدد دے سکتی ہے جو قانون سازی، پولیس اصلاحات، نوجوانوں کی بہبود، جیل اصلاحات اور جرم کی روک تھام سے متعلق پالیسیوں میں معاون ہوں۔
بین الشعبہ جاتی تعاون کے حوالے سے
کرائمینالوجی کسی ایک علم تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق عمرانیات، نفسیات، قانون، سیاسیات، معاشیات، سماجی بہبود، فرانزک سائنس اور پبلک پالیسی سمیت کئی شعبوں سے ہے۔ایک کامیاب کرائمینالوجسٹ کو یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ جرم صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی مظہر ہے۔ اسی لیے CAP کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین کو ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم پر لانا نہایت مفید ہو سکتا ہے۔
اس بین الشعبہ جاتی تعاون سے جرائم کے مسئلے کو ایک جامع زاویے سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔پاکستان میں CAP کی اشد ضرورت ہے ۔پاکستان جیسے کثیر آبادی والے اور تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے معاشرے میں جرائم کے مسائل بھی کئی سطحوں پر موجود ہیں۔ شہری آبادی میں اضافہ، سماجی تبدیلی، معاشی دباؤ، ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ اور نوجوان آبادی کی بڑی تعداد ایسے عوامل ہیں جو جرم کے مطالعے کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ایسے حالات میں کرائمینالوجسٹس کی ایک منظم پیشہ ورانہ انجمن اس شعبے سے وابستہ افراد کو اجتماعی شناخت فراہم کر سکتی ہے۔ CAP کا آغاز اسی ضرورت کے تناظر میں ایک اہم قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے قیام کے حوالے سے دستیاب بیان میں بھی اسے کرائمینالوجی کے شعبے میں پیش رفت اور ایک زیادہ پُرامن پاکستان کے تصور سے جوڑا گیا ہے۔
CAP کے سامنے مستقبل میں کئی اہم امکانات موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہیں:
کرائمینالوجسٹس کی قومی سطح پر پیشہ ورانہ نمائندگی،تحقیقی منصوبوں کی سرپرستی، جامعات اور عملی اداروں کے درمیان روابط، نوجوان کرائمینالوجسٹس کے لیے تربیتی مواقع، قومی سطح کے تحقیقی سیمینار اور کانفرنسیں،
جرم کی روک تھام کے لیے پالیسی سفارشات،
Victimology اور rehabilitation کے شعبوں پر توجہ، جدید اور سائبر جرائم کے حوالے سے علمی تحقیق، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ علمی اشتراک،بین الاقوامی کرائمینالوجیکل اداروں سے روابط۔یہ اقدامات پاکستان میں کرائمینالوجی کو صرف ایک تعلیمی مضمون کے بجائے ایک مؤثر پیشہ ورانہ اور پالیسی شعبے میں تبدیل کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں ۔کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کا تصور پاکستان میں کرائمینالوجی کے بڑھتے ہوئے علمی اور عملی کردار کی علامت ہے۔ جرم ایک ایسا مسئلہ ہے جو صرف عدالت، پولیس یا جیل تک محدود نہیں رہتا؛ اس کے اثرات خاندان، تعلیم، معیشت، نفسیات اور پورے معاشرتی نظام تک پھیلتے ہیں۔ اس لیے جرم کے مسئلے کا پائیدار حل بھی کثیرالجہتی علمی بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔
CAP جیسے پلیٹ فارم کی اصل اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کرائمینالوجی کے ماہرین، جامعات، محققین، قانون نافذ کرنے والے ادارے، قانونی ماہرین اور سماجی شعبے کے افراد ایک مشترکہ علمی مقصد کے لیے مل کر کام کریں۔ پاکستان میں کرائمینالوجی کے فروغ کی سابقہ کوششیں، مثلاً Pakistan Society of Criminology اور اس سے وابستہ تحقیقی سرگرمیاں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ شعبہ اب محض ایک نظریاتی مضمون نہیں رہا بلکہ پولیس اصلاحات، بچوں اور خواتین کے حقوق، تحقیق اور پالیسی سازی جیسے عملی میدانوں سے بھی جڑ چکا ہے۔
اس تناظر میں Criminologist Association of Pakistan کو پاکستان میں جرم کے سائنسی مطالعے، پیشہ ورانہ شناخت، تحقیقی تعاون اور معاشرتی امن کے لیے ایک ابھرتے ہوئے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس انجمن کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ وہ کرائمینالوجی کے علم کو معاشرے کے عملی مسائل سے کس قدر مربوط کرتی ہے اور تحقیق کو ایسی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے میں کس حد تک مدد دیتی ہے جو جرم کی روک تھام، متاثرین کے تحفظ اور ایک زیادہ محفوظ، پُرامن اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں معاون ثابت ہو۔
اس ایسوسی ایشن کا قیام کرائم فری پاکستان کی جانب ایک مضبوط قومی عزم ہے۔
کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان: وژن، قیادت اور قومی کردار
کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی، معاشی ترقی یا صنعتی خوش حالی پر قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کی حقیقی مضبوطی امن، انصاف، قانون کی حکمرانی، انسانی جان و مال کے تحفظ اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت میں مضمر ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں شہری خود کو محفوظ محسوس کریں، قانون سب کے لیے یکساں ہو، انصاف تک رسائی آسان ہو اور جرائم کے سدباب کے لیے مؤثر اور سائنسی نظام موجود ہو، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کی منزل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان بھی ایک ایسے ہی محفوظ، پُرامن اور انصاف پسند معاشرے کا خواہاں ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جہاں ریاستی اداروں، پولیس، عدلیہ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریاں اہم ہیں، وہیں کرائمینالوجی کے ماہرین اور محققین کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ جرم کو صرف ایک قانونی خلاف ورزی سمجھنے کے بجائے اس کے سماجی، نفسیاتی، معاشی، معاشرتی اور انتظامی اسباب کا سائنسی مطالعہ کرنا وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔اسی قومی ضرورت کے احساس کے تحت کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آتی ہے جو پاکستان کو جرائم سے پاک، محفوظ اور پُرامن بنانے کے عزم کو علمی اور عملی بنیادوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
جرم کے خلاف صرف کارروائی نہیں، اسباب کا خاتمہ بھی ہونا چاہیے ۔
کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وژن کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کی توجہ صرف جرم کے وقوع پذیر ہونے کے بعد مجرم تک پہنچنے تک محدود نہیں بلکہ جرم کے محرکات اور بنیادی اسباب کو سمجھنے پر بھی مرکوز ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر جرم کے پیچھے کوئی نہ کوئی سماجی، نفسیاتی، معاشی یا انسانی پس منظر موجود ہوتا ہے۔ غربت، بے روزگاری، جہالت، خاندانی انتشار، منفی معاشرتی ماحول، منشیات، عدم مساوات، تربیت کا فقدان اور بعض اوقات نفسیاتی عوامل بھی مجرمانہ رویوں کو جنم دے سکتے ہیں۔ جدید کرائمینالوجی اسی لیے جرم کو ایک کثیرالجہتی مسئلے کے طور پر دیکھتی ہے۔
ایسوسی ایشن کا بنیادی تصور بھی اسی وسیع سوچ سے ہم آہنگ ہے کہ جرم کا مؤثر علاج صرف سزا نہیں بلکہ تحقیق، پیش بندی، اصلاح، بحالی اور سماجی شعور کے باہمی امتزاج میں پوشیدہ ہے۔
’’کرائم فری پاکستان‘‘ کا خواب
’’کرائم فری پاکستان‘‘ محض ایک خوب صورت نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی تصور اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں قانون کا احترام پیدا کیا جائے، شہریوں میں حقوق و فرائض کا شعور اجاگر کیا جائے اور جرائم کے اسباب پر گہری تحقیق کی جائے۔
کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان اسی وسیع مقصد کے تحت ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کرتی ہے جہاں
قانون کی حکمرانی مستحکم ہو،ہر شہری کو انصاف میسر ہو،انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے،
جرائم کی روک تھام کے لیے سائنسی طریقے اختیار کیے جائیں ، نوجوانوں کو جرائم سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی تشکیل دی جائے،متاثرینِ جرم کی بحالی اور تحفظ پر توجہ دی جائے،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید علمی بنیادوں سے جوڑا جائے،تحقیق کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائےاور معاشرے میں امن، برداشت اور ذمہ دار شہری شعور کو فروغ دیا جائے۔یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں جس میں خوف کے بجائے اعتماد، انتشار کے بجائے نظم اور ناانصافی کے بجائے انصاف کو فروغ حاصل ہو۔ تجربہ کار قیادت: ادارے کی قوت ہوتی ہے۔کسی بھی قومی ادارے کی کامیابی کے لیے اس کا وژن جتنا اہم ہوتا ہے، اتنی ہی اہم اس کی قیادت بھی ہوتی ہے۔ کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کی قیادت میں پولیسنگ، قانون، انتظامیہ، تحقیق اور کرائمینالوجی کے مختلف شعبوں کا تجربہ رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔ یہ امتزاج ایسوسی ایشن کے کام کو محض نظری سطح پر نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے عملی تجربے سے بھی جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سید اعجاز حسین: تجربے اور پولیسنگ کی بصیرت سے بھرپور وژن رکھتے ہیں ۔
سید اعجاز حسین، سابق انسپکٹر جنرل پولیس، بطور صدر ایسوسی ایشن کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ پولیسنگ اور انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھنے والی قیادت کسی بھی کرائمینالوجیکل ادارے کے لیے ایک اہم اثاثہ ہوتی ہے۔جرائم کی روک تھام، قانون کے نفاذ، تفتیشی نظام، انتظامی چیلنجز اور امن و امان کے مسائل کا عملی تجربہ اس امر میں مدد دیتا ہے کہ کرائمینالوجی کے نظری مباحث کو زمینی حقائق کے ساتھ مربوط کیا جا سکے۔سید اعجاز حسین کی قیادت میں ایسوسی ایشن کے سامنے یہ امکان موجود ہے کہ علمی تحقیق اور پولیسنگ کے عملی تجربات کے درمیان ایک مؤثر پل قائم ہو، تاکہ جرم کے سدباب کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل حکمتِ عملیاں سامنے آ سکیں۔
محمد جاوید اقبال بھٹی: تنظیمی فعالیت کا محور و مرکز ہیں ۔محمد جاوید اقبال بھٹی، بطور جنرل سیکریٹری ایسوسی ایشن کی تنظیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی بھی پیشہ ورانہ تنظیم میں جنرل سیکریٹری کا منصب بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تنظیمی ڈھانچے کو متحرک رکھنا، پروگراموں کا انعقاد، ارکان کے درمیان رابطہ اور مختلف اداروں کے ساتھ روابط اسی دائرے میں آتے ہیں۔
سیمینارز، ورکشاپس، آگاہی پروگرامز اور قومی و بین الاقوامی سطح پر رابطوں کا فروغ کرائمینالوجی کو عوامی اور علمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے اہم ذرائع ہیں۔یہ سرگرمیاں اس بات کا امکان پیدا کرتی ہیں کہ کرائمینالوجی صرف جامعات کے کلاس رومز تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کے عملی مسائل سے براہِ راست جڑے۔نسیم قریشی: وژن اور پالیسی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔نسیم قریشی بطور چیئرمین ایسوسی ایشن کے وژن اور پالیسی معاملات میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ کسی ادارے کی پالیسی سمت کا تعین اس کے مستقبل کے کردار کو متعین کرتا ہے۔کرائمینالوجی کے میدان میں پالیسی سازی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جرم کے خاتمے کے لیے وقتی اقدامات کے بجائے طویل المدت حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔ جرائم کے رجحانات کا تجزیہ، مختلف اداروں کے درمیان تعاون اور مستقبل کے چیلنجز کی پیش بندی ایک مؤثر پالیسی کا حصہ بن سکتی ہے۔ڈاکٹر عثمان رشید چوہدری: ایسوسی ایشن کا ایک فعال کردار ہیں ۔علمی و تحقیقی کردار ڈاکٹر عثمان رشید چوہدری بطور نائب صدر ایسوسی ایشن کی علمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
کرائمینالوجی جیسے شعبے میں علمی تحقیق بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جرم کی نوعیت، اسباب، رجحانات اور تدارک کے طریقوں کو سمجھنے کے لیے مسلسل تحقیق ناگزیر ہے۔ یہی تحقیق مستقبل کی پالیسیوں اور عملی اقدامات کے لیے علمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ڈاکٹر عثمان رشید چوہدری جیسے علمی پس منظر رکھنے والے ماہرین کی شمولیت سے ایسوسی ایشن کے لیے جامعات، طلبہ، محققین اور علمی اداروں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کے امکانات بڑھتے ہیں۔غالب علی بندیشہ: تحقیقاتی تجربے کی رہنمائی موثر طور پر کرتے ہیں ۔غالب علی بندیشہ، سابق ڈی جی ایف آئی اے، بطور سینئر ایڈوائزر ایسوسی ایشن کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ایک اہم ادارے میں اعلیٰ انتظامی و تحقیقاتی ذمہ داریوں کا تجربہ کرائمینالوجی کے عملی میدان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
تفتیش، جرائم کے مختلف پہلوؤں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقۂ کار اور قومی سطح پر جرائم سے نمٹنے کے تجربات ایسے شعبے ہیں جن سے کرائمینالوجی کی علمی تحقیق کو عملی بصیرت مل سکتی ہے۔ان کی موجودگی ایسوسی ایشن کے علمی وژن کو عملی تحقیقاتی تجربے سے مربوط کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کا سب سے اہم ممکنہ امتیاز علم اور عمل کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہے۔جامعات میں جرائم کے نظریات اور تحقیقی طریقۂ کار پڑھائے جاتے ہیں، جبکہ پولیس اور دیگر ادارے جرائم کے عملی مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ اگر ان دونوں دنیاؤں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم ہو جائے تو تحقیق زیادہ بامعنی اور عملی اقدامات زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔ایسوسی ایشن اس سلسلے میں اساتذہ، طلبہ، محققین، پولیس افسران، وکلا، قانون دانوں، سماجی کارکنوں اور دیگر متعلقہ افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اشتراک نہ صرف علمی مکالمے کو وسعت دے سکتا ہے بلکہ جرائم کی روک تھام کے لیے نئے تصورات اور عملی تجاویز بھی سامنے لا سکتا ہے۔پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب نمایاں ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو جرائم سے محفوظ رکھنا قومی سلامتی اور معاشرتی ترقی دونوں کے لیے اہم ہے۔نوجوانوں میں جرائم کے رجحان کو صرف سزا کے تناظر میں دیکھنا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اس کے لیے تعلیم، تربیت، مثبت سرگرمیوں، روزگار، خاندانی استحکام اور معاشرتی رہنمائی جیسے عوامل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن نوجوانوں میں کرائمینالوجی کے علمی شعور کو فروغ دے کر ایک طرف مستقبل کے ماہرین تیار کر سکتی ہے اور دوسری طرف نوجوان نسل کو جرائم کے اسباب اور نتائج سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔جرائم کے خلاف جنگ میں انسانی حقوق کا تحفظ بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ ایک مہذب معاشرہ جرم سے نفرت کرتا ہے مگر انسان کی بنیادی عزت و حرمت کو نظرانداز نہیں کرتا۔
کرائمینالوجی اسی لیے جرم، مجرم، متاثرہ فرد اور ریاستی ردِعمل کے درمیان توازن کا مطالعہ کرتی ہے۔ انصاف صرف سزا کا نام نہیں بلکہ منصفانہ تفتیش، قانونی تحفظ، متاثرین کے حقوق، مجرم کی اصلاح اور معاشرتی بحالی جیسے پہلو بھی اس کا حصہ ہیں۔اس حوالے سے ایسوسی ایشن کا کردار نہایت اہم ہو سکتا ہے کہ وہ جرم کے خلاف مؤثر اقدامات کے ساتھ ساتھ قانون اور انسانی حقوق کے باہمی تعلق پر بھی علمی گفتگو کو فروغ دے۔
سیمینارز اور آگاہی پروگرامز کی اہمیت پر زور دینا چاہیے ۔
کرائمینالوجی کو معاشرے تک پہنچانے کے لیے سیمینارز، کانفرنسیں، ورکشاپس اور آگاہی پروگرام انتہائی مؤثر ذرائع ہیں۔
ایسی سرگرمیوں کے ذریعے عام شہریوں کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ جرم صرف پولیس کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔والدین، اساتذہ، طلبہ، وکلا، پولیس افسران، صحافی اور سماجی کارکن اگر جرم کے اسباب اور روک تھام کے بارے میں بنیادی شعور رکھتے ہوں تو معاشرہ جرائم کے خلاف زیادہ مضبوط دفاع قائم کر سکتا ہے۔موجودہ دور میں کوئی بھی علمی شعبہ دنیا سے الگ تھلگ رہ کر ترقی نہیں کر سکتا۔ کرائمینالوجی بھی ایک بین الاقوامی علمی میدان ہے جہاں مختلف ممالک جرم کے نئے رجحانات، سائبر کرائم، دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ، نوجوانوں کے جرائم، جیل اصلاحات اور متاثرین کے حقوق جیسے موضوعات پر تحقیق کر رہے ہیں۔
کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے قومی و بین الاقوامی روابط کا فروغ پاکستانی ماہرین کو عالمی تجربات سے استفادہ کرنے اور پاکستان کے مخصوص جرائم کے مسائل کو عالمی علمی منظرنامے میں پیش کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ایک اجتماعی قومی ذمہ داری’’کرائم فری پاکستان‘‘ کی منزل صرف ایک ایسوسی ایشن یا ایک ادارے کی کوشش سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک اجتماعی قومی ذمہ داری ہے۔ریاست قانون نافذ کرے، پولیس تحفظ فراہم کرے، عدالت انصاف دے، جامعات تحقیق کریں، میڈیا ذمہ دارانہ آگاہی پیدا کرے، والدین نئی نسل کی تربیت کریں اور شہری قانون کا احترام کریں—تب جا کر جرائم کے خلاف ایک مؤثر اجتماعی نظام تشکیل پا سکتا ہے۔کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان اسی اجتماعی کوشش میں ایک علمی اور پیشہ ورانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے. کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کا پیغام دراصل چند الفاظ میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے:
> ’’جرائم سے پاک پاکستان—تحقیق، انصاف، اصلاح اور امن کے ذریعے۔‘‘
یہ پیغام اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ جرائم کے خاتمے کے لیے صرف طاقت نہیں بلکہ علم بھی چاہیے، صرف قانون نہیں بلکہ انصاف بھی چاہیے، صرف سزا نہیں بلکہ اصلاح بھی چاہیے اور صرف کارروائی نہیں بلکہ پیش بندی بھی ضروری ہے۔
کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان ایک ایسے وقت میں اپنی شناخت قائم کر رہی ہے جب دنیا بھر میں جرائم کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور پاکستان کو بھی روایتی جرائم کے ساتھ جدید اور پیچیدہ جرائم کا سامنا ہے۔ ایسےماحول میں کرائمینالوجی کے ماہرین کو ایک منظم، فعال اور باوقار پلیٹ فارم فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ایسوسی ایشن کی قیادت میں سید اعجاز حسین، محمد جاوید اقبال بھٹی، نسیم قریشی، ڈاکٹر عثمان رشید چوہدری اور غالب علی بندیشہ جیسے تجربہ کار اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کی موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ ادارہ پولیسنگ، انتظامیہ، تحقیق، قانون اور کرائمینالوجی کے تجربات کو ایک مشترکہ قومی مقصد سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس انجمن کی اصل کامیابی اسی وقت مکمل معنویت اختیار کرے گی جب تحقیق کو عملی پالیسی میں، علمی شعور کو معاشرتی آگاہی میں اور قومی عزم کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ پاکستان کو ایک محفوظ اور پُرامن ملک بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جرم کو صرف ایک واقعے کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے پس منظر، محرکات اور معاشرتی اثرات کو سمجھا جائے۔
کرائمینالوجسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کا ’’کرائم فری پاکستان‘‘ کا خواب دراصل ایک ایسے پاکستان کا خواب ہے جہاں شہری خوف نہیں، تحفظ محسوس کریں؛ جہاں قانون طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں ہو؛ جہاں انصاف محض کتابوں کا تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت ہو؛ جہاں جرم کے بعد کارروائی کے ساتھ جرم سے پہلے اس کی روک تھام پر بھی توجہ دی جائے؛ اور جہاں تحقیق، علم، قانون، اصلاح اور انسانی اقدار مل کر ایک محفوظ معاشرے کی بنیاد رکھیں۔یہی وہ قومی سمت ہے جو پاکستان کو محفوظ، منصفانہ، پُرامن اور جرائم سے پاک مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *