Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارجھل مگسی میں ریسٹ ہاؤس اور تھانے پر مسلح افراد کا حملہسیاست کی اصل عظمت اقتدار نہیں عوام کا اعتماد اور خدمت ہے، گورنر جعفر خان مندوخیلعوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، شعیب نوشیروانیجمہوریت عوامی شمولیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے، سردارزادہ فیصل خان جمالیعوامی شکایات کے حل میں تاخیر قبول نہیں، کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچسبی کے علاقے سے نامعلوم شخص کی گولیوں سے چھلنی نعش برآمدکندھ کوٹ میں خونی قبائلی تنازعات کے خلاف امن مارچبہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارجھل مگسی میں ریسٹ ہاؤس اور تھانے پر مسلح افراد کا حملہسیاست کی اصل عظمت اقتدار نہیں عوام کا اعتماد اور خدمت ہے، گورنر جعفر خان مندوخیلعوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، شعیب نوشیروانیجمہوریت عوامی شمولیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے، سردارزادہ فیصل خان جمالیعوامی شکایات کے حل میں تاخیر قبول نہیں، کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچسبی کے علاقے سے نامعلوم شخص کی گولیوں سے چھلنی نعش برآمدکندھ کوٹ میں خونی قبائلی تنازعات کے خلاف امن مارچ

انصاف اندھا اور طاقت بینا

محمدنسیم رنزوریار

انصاف اندھا اور طاقت بینا

قارئین کرام، تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس تلخ حقیقت کا شاہد ہے کہ جب بھی طاقت اور انصاف کا آمنا سامنا ہوا، عدل کے تقاضے اکثر زبردست کی حکمتِ عملی کے سامنے پست دکھائی دیے۔یہ محض ایک روایتی استعارہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی اس سب سے بڑی کشمکش کی نشان دہی کرتا ہے جو قدیم زمانے سے لے کر عصرِ حاضر تک چلی آ رہی ہے۔ اگرچہ قانون کے دیوتا کو اندھا اس لیے دکھایا جاتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی تعصب، رنگ، نسل، اور رتبے کی تمیز کے فیصلوں میں بلاشبہ برابری قائم رکھے، مگر المیہ یہ ہے کہ یہی “اندھا پن” عملی دنیا میں مظلوم کی بے بسی اور طاقت ور کی چالاکیوں کو دیکھنے سے قاصر رہتا ہے۔ دوسری جانب، طاقت کے پاس “بینائی” یعنی وہ تمام وسائل، بصیرت، اور نفوذ موجود ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ قانون کے رخ کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق موڑ لیتی ہے۔تاریخ کے صفحات کو الٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقت نے ہمیشہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انصاف کی تعریف کو دوبارہ مرتب کیا۔ یونانی مفکر تھریسی میکس نے سقراط سے بحث کرتے ہوئے یہی کڑوا سچ بیان کیا تھا کہ “انصاف اور کچھ نہیں بلکہ طاقت ور کا مفاد ہے۔” یہ جملہ صرف ایک نظریاتی فکر نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی عملی حقیقت بن کر ابھرا۔ جب رومن سلطنت اپنے عروج پر تھی، تو عام شہری اور غلام کے لیے انصاف کے معیار بالکل مختلف تھے۔ قانون کا ترازو طاقت ور کے ہاتھ میں تھا اور سزا کی شمشیر ہمیشہ کمزور کے سر پر معلق رہتی۔ اسی طرح قرونِ وسطیٰ کی یورپی سلطنتوں میں بادشاہ کو زمین پر خدا کا نائب مان کر اس کے تمام افعال کو قانون سے بالاتر قرار دیا گیا۔ طاقت اتنی بینا اور ہوشیار تھی کہ اس نے مذہبی اور قانونی اداروں کو اپنی پشت پناہی کے لیے استعمال کیا، جبکہ انصاف ان استحصالی ڈھانچوں کے نیچے اندھا ہو کر سسکتا رہا۔اسلامی تاریخ کا درخشان دور اس حوالے سے ایک منفرد اور جرات مندانہ موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں طاقت کو انصاف کے تابع کرنے کی کامیاب اور بے مثال کوشش کی گئی۔ خلیفہ اول و دوم کے دور میں یہ اصول قائم ہوا کہ حاکمِ وقت اور ایک عام شہری قانون کی نظر میں بالکل برابر ہیں۔ جب خلیفہ وقت سے ایک عام شخص بھری مجلس میں اس کے لباس کے کپڑے کی حساب دہی کا سوال کرتا ہے، تو وہاں طاقت کی بینائی ختم ہو جاتی ہے اور انصاف کی حقیقی روح بیدار ہوتی ہے۔ تاہم، بعد کے ادوار میں جب ملوکیت نے خلافت کی جگہ لی، تو طاقت نے ایک بار پھر اپنی آنکھیں کھول لیں اور قانون کے ہاتھ باندھ کر اسے اپنے مفادات کا نگہبان بنا دیا۔دورِ حاضر میں بین الاقوامی اور قومی منظر نامے پر اس المیے کی شدت مزید واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کا منشور کاغذ پر نہایت خوبصورت اور غیر جانبدارانہ معلوم ہوتا ہے، لیکن جب بات عالمی سیاست کی آتی ہے تو انصاف مکمل طور پر اندھا ثابت ہوتا ہے۔ ویٹو پاور کا حامل طاقت ور ملک چاہے بین الاقوامی قوانین کی جتنی بھی خلاف ورزی کرے، اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا جا سکتا، جبکہ دوسری طرف غریب اور کمزور اقوام پر معمولی خلاف ورزی پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں طاقت کی بصارت اپنے تمام تر مفادات، وسائل اور بین الاقوامی تعصبات کو بھانپ کر انصاف کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔اجتماعی اور معاشرتی سطح پر اگر ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیں تو عدالتوں کے اندر لٹکتا ہوا انصاف کا ترازو اکثر طاقت کی گہری بصارت کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ ایک غریب فرد جس کے پاس بہترین وکلا کی بھاری فیسیں ادا کرنے کے وسائل نہیں، وہ برسوں تک انصاف کی تلاش میں عدالتوں کے چکر کاٹتا رہتا ہے اور بالآخر اسی نظام کے ہاتھوں دم توڑ دیتا ہے۔ اس کے برعکس، طاقت ور الطبقات کے پاس اتنی تیز بینی ہوتی ہے کہ وہ قانون کے شگاف، طریقہ کار کی پیچیدگیوں، اور عدالتی نظام کی کمزوریوں کو بخوبی پہچان کر فوری ریلیف حاصل کر لیتے ہیں۔ یوں انصاف کا جو اندھا پن غیر جانبداری کے لیے فرض کیا گیا تھا، وہی اندھا پن سچائی اور جھوٹ کے فرق کو نادیدہ بنا کر مظلوم کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔اس تاریخی اور اجتماعی بگاڑ کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہم انصاف اور طاقت کے اس بظاہر ازلی تضاد کی ازسرِ نو تعریف کریں۔ انصاف کو اس کا نام نہاد “اندھا پن” ختم کر کے حقیقت پسندی کی نظر دینی ہو گی، تاکہ وہ طاقت ور کی چالاکیوں کو بے نقاب کر سکے۔ دوسری طرف، طاقت کو شخصی اور طبقاتی مفادات سے آزاد کر کے آئین اور اخلاقیات کے تابع بنانا ہو گا۔ جب تک طاقت کو انصاف کی باگ ڈور سونپنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور جب تک قانون کا ہاتھ بلا تفریق ہر جابر کی گردن تک نہیں پہنچے گا، تب تک معاشرے میں امن اور استحکام کا قیام محض ایک خواب رہے گا۔ سچی اور پائیدار انسانی تہذیب کی بنیاد صرف اسی دن رکھی جا سکتی ہے جب طاقت اندھی ہو کر صرف حکمِ الٰہی و آئین کی پابند بن جائے اور انصاف کو وہ بینائی میسر آئے جس سے وہ مظلوم کے بہتے ہوئے آنسو اور جابر کا چھپا ہوا چہرہ صاف دیکھ سکے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *