Banner
Daily Sahafat Quetta
August 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جرم کا تعین شواہد اور تحقیقات سے ہوتا ہے حکومتی بیانات یا مفروضوں سے نہیں، مولانا عبدالرحمن رفیقبلوچستان کے نامور باکسر عبدالغنی مینگل کی اچانک وفات افسوسناک ہے، سردار منظور احمد کاکڑبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدیجرم کا تعین شواہد اور تحقیقات سے ہوتا ہے حکومتی بیانات یا مفروضوں سے نہیں، مولانا عبدالرحمن رفیقبلوچستان کے نامور باکسر عبدالغنی مینگل کی اچانک وفات افسوسناک ہے، سردار منظور احمد کاکڑبطور کمشنر کوئٹہ ڈویژن عوامی مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کی ،شاہزیب کاکڑانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں بڑھتی بدامنی ، اراکین اسمبلی کا اظہار تشویشحکومت امن دشمنوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دےگی،ضیاءاللہ لانگوپشتون قومی جرگہ خطے میں پائیدار امن کےلئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرےگا،محمود خان اچکزئیصحافیوں کے مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، سیدال خان ناصرمدارس میں بچوں پر تشدد – اصلاح کی ضرورت، کردار کشی نہیںعوام اور تاجروں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، مولانا محمد طاہر توحیدی

سیاسی اختلاف کو گالم گلوچ اور کردارکشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق

سیاسی اختلاف کو گالم گلوچ اور کردارکشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ ( )
جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمد حسنی، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، مولانا محمد شعیب جدون، رحیم الدین ایڈووکیٹ اور مولانا محمد عارف شمشیر نے کہا ہے کہ اصولی اختلاف جمہوری عمل کی روح اور سیاسی جدوجہد کا فطری حصہ ہے اختلاف کو تہمت، تحقیر، گالم گلوچ، کردارکشی اور بدزبانی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار اور سیاسی اخلاقیات کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے دلیل، تحمل اور اخلاقی حدود کی پاسداری ناگزیر ہے سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی کا رنگ دینے سے معاشرے میں برداشت اور مکالمے کی فضا متاثر ہوتی ہے جس کے منفی اثرات پوری سیاسی و سماجی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے کارکنان اپنی دینی و سیاسی تربیت، اعلیٰ اخلاق اور شائستہ طرزِ گفتار کے ذریعے معاشرے کے لیے قابلِ تقلید مثال قائم کریں۔ سیاسی مخالفین کے نظریات سے اختلاف اپنی جگہ تاہم ان کی عزتِ نفس مقام اور انسانی وقار کا احترام ہر صورت ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ یہی بالغ نظری، اعلیٰ سیاسی تربیت اور نظریاتی کارکن کی حقیقی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سیاسی قیادت، کارکنان اور سوشل میڈیا صارفین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو نفرت اور تصادم کے بجائے دلیل، مکالمے، برداشت اور باوقار سیاسی رویے کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ معاشرے میں تہذیب، رواداری اور مثبت سیاسی مکالمے کو پروان چڑھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *