Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسلام آباد: ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ پشین چیمبر آف کامرس کے پیٹرن اِن چیف محمد آصف خان ترین کو اعزازی شیلڈ پیش کر رہے ہیں۔ایف ایف سی کی جانب سے سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف جلد احتجاجی مظاہرے کی کال دی جائے گی، کاشف حیدریہری پور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن ہوگا، سفارش نہیں چلے گی، رقیہ نواز5. سرکاری منصب عوامی خدمت کا ذریعہ ہونا چاہیے، حاجی عبید اللہ کمبوہدکھی انسانیت کی خدمت ہمارا خاندانی طرۂ امتیاز ہے، سید جاوید حسن شاہ کرمانیقصبہ گجرات میں 29 اکتوبر کو عالمی محفلِ حسنِ قراءت، حمد و نعت اور دستار بندی کی تقریب ہوگیمظفرآباد: راجہ محمد نوید خان کی والدہ انتقال کر گئیں، سینکڑوں افراد کی نماز جنازہ میں شرکتکمشنر مردان ڈویژن سید محمد علی شاہ کا سپورٹس ایرینا کالو خان کا دورہتاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا،میڈم حلیمہاسلام آباد: ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ پشین چیمبر آف کامرس کے پیٹرن اِن چیف محمد آصف خان ترین کو اعزازی شیلڈ پیش کر رہے ہیں۔ایف ایف سی کی جانب سے سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف جلد احتجاجی مظاہرے کی کال دی جائے گی، کاشف حیدریہری پور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن ہوگا، سفارش نہیں چلے گی، رقیہ نواز5. سرکاری منصب عوامی خدمت کا ذریعہ ہونا چاہیے، حاجی عبید اللہ کمبوہدکھی انسانیت کی خدمت ہمارا خاندانی طرۂ امتیاز ہے، سید جاوید حسن شاہ کرمانیقصبہ گجرات میں 29 اکتوبر کو عالمی محفلِ حسنِ قراءت، حمد و نعت اور دستار بندی کی تقریب ہوگیمظفرآباد: راجہ محمد نوید خان کی والدہ انتقال کر گئیں، سینکڑوں افراد کی نماز جنازہ میں شرکتکمشنر مردان ڈویژن سید محمد علی شاہ کا سپورٹس ایرینا کالو خان کا دورہتاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا،میڈم حلیمہ

کچرے کے ڈرم سے خوشبو کی توقع

کچرے کے ڈرم سے خوشبو کی توقع

اظہار خیال ۔۔ ایس ایم مرموی

ہم ایک عجیب قوم ہیں جس نظام نے ہماری تین نسلوں کو وعدوں نعروں اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا ہم آج بھی اسی نظام کے دروازے پر امید کی دیگ چڑھائے بیٹھے ہیں 79 برس کا تجربہ ہمارے سامنے ہے، نتائج ہمارے سامنے ہیں کردار ہمارے سامنے ہیں، مگر پھر بھی ہماری امید ختم نہیں ہوتی ہر چند سال بعد چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، جھنڈے بدلتے ہیں، مگر کھیل وہی رہتا ہے عوام وہی رہتے ہیں، مسائل وہی رہتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے کردار نئی پیکنگ کے ساتھ وہی پرانا مال قوم کو بیچتے رہتے ہیں شاید ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کچرے کے ڈرم سے خوشبو کی توقع کرنا امید نہیں جن لوگوں نے گزشتہ 79 برس میں قوم کو وعدوں نعروں، دھوکوں اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا ہم آج بھی انہی سے بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں آخر ہم اتنے کم فہم اتنے بھولے اور اتنے جلدی سب کچھ بھول جانے والے کیوں ہیں؟ جس نظام نے سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں عام آدمی کو انصاف، عزت، روزگار تعلیم، صحت اور تحفظ نہیں دیا اس سے اچانک کسی معجزے کی امید رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کچرے کے ڈرم سے خوشبو کی توقع رکھنا اگر واقعی ہمیں اس ملک اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی فکر ہے تو پھر اس فرسودہ اور عوام دشمن نظام کی اصلاح کے لیے پرامن آئینی اور جمہوری جدوجہد ناگزیر ہے خاموشی اختیار کرکے بیٹھے رہنے سے کچھ تبدیل نہیں ہوگا جب تک عوام اپنے حق قانون کی بالادستی اور حقیقی جمہوری اداروں کے لیے آواز بلند نہیں کریں گے طاقت کے مراکز میں بیٹھے مفاد پرست لوگ اپنی جڑیں مزید مضبوط کرتے رہیں گے اور غلامی کی یہ زنجیر ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہے گی۔
ہم آج آزادی کے نغمے گاتے ہیں پرچم لہراتے ہیں اور جشن مناتے ہیں لیکن ذرا اپنے اردگرد دیکھیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف جغرافیہ بدل جانے کا نام آزادی ہے؟ اگر انسان اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹاتا رہے۔قانون طاقتور کے سامنے کمزور اور کمزور کے سامنے طاقتور بن جائے تو ایسی آزادی پر سوال اٹھانا جرم نہیں شعور کی علامت ہےسب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ انصاف کا نظام بھی اس پورے کھیل سے خود کو مکمل طور پر الگ ثابت نہیں کر سکا وہ بھی طاقتوروں کے اشاروں پر ناچ رہا ہے عام آدمی برسوں عدالتوں کے چکر کاٹتا ہے تاریخ پر تاریخ ملتی ہے جبکہ بااثر لوگ قانون کی گرفت سے بچنے کے راستے نکالتے رہتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قانون کی کتاب سب کے لیے ایک ہو مگر اس کا اطلاق ہر شخص کے لیے الگ ہو ملک کے مختلف حصوں میں عوام اپنے اپنے مسائل، محرومیوں، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی ناانصافی اور بنیادی سہولیات کی کمی سے دوچار ہیں کہیں وسائل ہیں مگر اختیار نہیں کہیں اختیار ہے مگر نیت نہیں اور کہیں دونوں موجود ہیں مگر عوام کے حصے میں صرف وعدے آتے ہیں۔
یہ صورتحال ایک ایسے وحشی مزاج شخص کی یاد دلاتی ہے جسے صرف ایک بوٹی کی ضرورت ہو مگر وہ پورا بیل ذبح کرنے پر بضد ہو ملک کو درجنوں بنیادی مسائل کا سامنا ہے مگر حکمران اور طاقتور طبقات اکثر ایسے فیصلے کرتے ہیں جیسے ان کے سامنے عوام نہیں بلکہ تجربہ گاہ میں پڑی کوئی بے جان چیز ہو لیکن ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے اس نظام کو درست کرنے کے لیے کوئی فرشتہ آسمان سے نہیں اترے گا نہ ابابیلوں کے لشکر آنے والے ہیں اگر تبدیلی آنی ہے تو ہمیں خود اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی شعور کے ساتھ، دلیل کے ساتھ ووٹ کے ذریعے، آئینی جدوجہد کے ذریعے قانون کی بالادستی کے لیے آواز بلند کرکے اور ہر اس قوت کو مسترد کرکے جو عوام کو رعایا سمجھتی ہے کیونکہ قومیں صرف حکمرانوں سے نہیں بدلتیں قومیں اس دن بدلتی ہیں جب عوام اپنے اندر تبدیلی کا حوصلہ پیدا کر لیتے ہیں آج فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے یا تو ہم اسی بدبودار نظام کو اپنی تقدیر سمجھ کر نسل در نسل برداشت کرتے رہیں
یا اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا پاکستان بنانے کی جدوجہد کریں جہاں شہری کو طاقتور کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ آئین قانون اور انصاف کے سائے میں زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔غلامی صرف زنجیروں کا نام نہیں کبھی کبھی غلامی یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان ظلم دیکھتا رہے پہچانتا رہے۔مگر اس کے خلاف آواز اٹھانے سے ڈرتا رہے اب سوال یہ نہیں کہ نظام کب بدلے گا سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلنے کا فیصلہ کریں گے؟
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کوئی مسیحا آنے والا نہیں کوئی فرشتہ آسمان سے اترنے والا نہیں اور نہ ابابیلوں کے لشکر اس نظام کو بدلنے آئیں گے اگر ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو اسی سیاسی، معاشی اور سماجی غلامی کے حوالے نہیں کرنا تو ہمیں خاموش تماشائی بننے سے انکار کرنا ہوگا اس باطل نظا۔ کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی تبدیلی کسی ایک شخص جماعت یا نعرے سے نہیں آئے گی تبدیلی باشعور عوام کی آئینی، جمہوری اور پُرامن جدوجہد سے آئے گی ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایسا پاکستان چھوڑنا ہے جہاں قانون طاقتور کی لونڈی نہیں بلکہ سب کے لیے برابر ہو جہاں ووٹ امانت ہو، عدالت انصاف کی علامت ہو اور حکمران عوام کے خادم ہوں مالک نہیں ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی کہ ہم نے ظلم کو پہچانا بھی۔اس پر بات بھی کی مگر اپنی نسل کو اس سے نجات دلانے کے لیے کچھ نہ کیا غلامی کی زنجیریں خود نہیں ٹوٹتیں انہیں توڑنے کے لیے قوم کو پہلے اپنے خوف سے بغاوت کرنا پڑتی ہے اور پھر متحد ہو کر لڑنا پڑےا ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *