Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلو اکانومی پاکستان کے معاشی استحکام کی نئی امیدطالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زوربلو اکانومی پاکستان کے معاشی استحکام کی نئی امیدطالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زور

جشن آزادی یا طوفان بدتمیزی

جشن آزادی یا طوفان بدتمیزی
تحریر،شہزاد بھٹہ
پاکستانی قوم 14 اگست 2026 کو اپنا 79 واں یوم ازادی منا رھی ھے
مگر کیسے ؟ یہ ھے سوال جس کا جواب کسی کے پاس نہیں
14 اگست کے دن خصوصاً رات کو لاھور کی سڑکوں پہ ایک طوفان بدتمیزی برپا ھوتا ھے شور اتنا کہ کانوں پڑی اواز سنائی نہ دے ۔
نوجوان نسل جو کسی بھی قوم کا آئینہ ھوتی ھے ان کے رویہ سے لگتا ھے کہ وہ اج کسی قید سے ازاد ھوئے ھیں یا پھر کسی جنگل سے اچانک ایک اباد شہر میں آگئے ھیں
گاڑیاں یوں دوڑا رھے ھیں کہ جیسے موت کے سرکس میں مداری اپنے کرتب دکھا رھا ھے اور اوپر سے عجیب وغریب باجے اور ان کا طوفانی شور ماحول میں شور کی آلودگی میں سو فیصد اضافہ کر رکھا ھے
ماھرین آواز کی آلودگی voice pollution کو انسانی صحت کے لیے کنیسر قرار دیتے ھیں مگر یہاں پاکستان میں کون سنتا ھے
آواز کی آلودگی (شور کی آلودگی) سے مراد ماحول میں موجود وہ ناخوشگوار اور بلند آوازیں ہیں جو انسانی صحت، حیاتِ حیوانات اور سکونِ عامہ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
شور کے بڑے بڑے اسباب میں سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں بسوں چنگچی رکشوں کے ہارن اور شور کارخانوں میں چلنے والی بھاری مشینیں اور جنریٹر کی آوازیں عمارتوں کی تعمیر، توڑ پھوڑ اور کھدائی کا شور۔ شادی ہالز، لاؤڈ اسپیکر اور بلند آواز میں موسیقی شامل ہیں
شور کی آلودگی جدید دور کا ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ مستقل اونچی آواز سننے سے کانوں کے پردے متاثر ہوتے ہیں اور بہراپن آ سکتا ہے۔ آواز کی آلودگی سے انسان میں چڑچڑاپن، غصہ، بے خوابی اور ذہنی تھکن میں اضافہ ہوتا ہے شور و غوغا سے ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض اور سر درد کی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔
14 اگست کو شہر بھر میں قانون نافذ کرنے والے سڑکوں پر موجود تو ھیں مگر کچھ نہیں کر رھے بلکہ الٹا تماشا دیکھتے رہتے ہیں پولیس والے بڑی چستی سے سڑکوں پر ناکے لگا کر کھڑے ھوئے ھیں
یہ پولیس ناکے بھی عجیب ڈرامہ ھے جگہ جگہ ناکے مگر اج تک ان کا کوئی فاہدہ نظر نہیں ایا یوں لگتا ھے کہ یہ پولیس ناکے صرف چلتی ھوئی ٹریفک کو ڈسرب کرنے کے لیے لگائے جاتے ھیں
دنیا بھر کی قومیں اپنی اپنی ازادی کے دن مناتی ھیں مگر ایسے نہیں جیسے پاکستانی قوم مناتی ھے اس میں بے چاری قوم کا بھی کوئی قصور نہیں کسی نے اج تک ان کی تربیت کرنے کی کوشش ھی نہیں کی۔
پالستانی قوم ایک ہجوم کی مانند ھے جو کسی منزل مقصود کے بغیر ھی چل رھا ھے کسی بھی قوم کی تربیت گاہ اس کے تعلیمی ادارے ھوتے ھیں مگر وطن عزیز میں وہ تعیلم فروخت کرنے والی فیکڑیاں بن چکی ھیں
تعلیم وتربیت حکومت کی بنیادی ذمہ داری ھے وہ ھماری حکومتوں نے کاروباری حضرات کے ھاتھوں یرغمال بنا رکھی ھے جو تعلیمی اداروں کو ایک فیکڑی کے طرح چلا رھے ھیں تعلیم تو دی جا رھی ھے مگر تربیت غائب ھے جہاں تک سرکاری تعلیمی اداروں کا تعلق ھے وہ ایک تفریح گاہ بن چکی ھیں جہاں زیادہ تر اساتذہ اکرام چائے پینے اور ارام کرنے کی غرض سے اتے ھیں چند گھنٹے گزر کر اپنی اصل ڈیوٹی پر چلے جاتے ھیں جہاں پر وہ رات گئے تک پوری ایمانداری اور فرض شناسی سے اپنے فرائض سر انجام دیتے ھیں کیونکہ اکیڈمیوں کے مالک کوئی رعایت نہیں دیتے بلکہ چائے پینے کا وقت بھی مشکل سے ملتا ھے
ھم پاکستان 1948 سے ازادی کا جشن مناتے رھے ھیں مگر ایسے نہیں جیسے 1980 کے بعد سے منایا جارھا ھے جنرل ضیاءالحق کے گیارہ سالہ ڈکٹیڑر شپ کے دور میں وطن عزیز میں ھر قسم کی سرگرمیوں خاص طور پر سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں تھیں قوم 365 دن کچھ نہیں کرسکتے تھے عوام میں مایوسی کے سوائے کچھ نہ تھا
یہ صورت حال دیکھتے ھوئے امر صدر ضیاء نے ایک دن 14 اگست کو اس معصوم قوم کو جشن ازادی کے نام پر ازاد کیا گیا تب سے اج تک یہ طوفان بدتمیزی جاری وساری ھے
کسی حکومت نے بھی یہ کوشش نہیں کی کہ جشن ازادی کو ایک مہذب انداز سے منانے کا بندوبست کرے۔
یوم آزادی 14 اگست کو تعلیمی اداروں میں چھٹی ختم کرکے نوجوانوں کے درمیاں مختلف مثبت سرگرمیوں کو شروع کیا جائے
کھیلوں کے مقابلے کروائے جائیں تقریری و قومی نغموں کے مقابلے ھوں
سکول کالجز میں تحریک ازادی کے حوالے تقریبات کا انعقاد کیا جائے تحریک ازادی کے گمنام ہیروز کے بارے اج کی نسل کو بتایا جائے
چند سال پہلے سٹی ڈسڑکٹ گورنمنٹ لاھور نے جشن ازادی سٹی پریڈ کا اہتمام کیا جس میں مختلف سکولز کالجز کے طلبہ نوجوانوں اور شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی جو ایک خوبصورت کاوش تھی اور اس کو عوام نے بھی بے حد سراھا تھا ۔اس ازادی پریڈ کو دوبارہ سے شروع کیا جائے بلکہ ملک بھر کے ھر شہر و ٹاون ازادی پریڈ ھونی چاھیے
یہ مضمون 2018 میں لکھا گیا

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *