Banner
Daily Sahafat Quetta
August 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلو اکانومی پاکستان کے معاشی استحکام کی نئی امیدطالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زوربلو اکانومی پاکستان کے معاشی استحکام کی نئی امیدطالبعلم بریال خان مندوخیل کا اغواء تشویشناک، فوری بازیابی یقینی بنائی جائے، محمد ہاشم اتمانخیلمسلم باغ میں مستحق گھرانوں کیلئے بڑا ریلیف، راشن، بستر اور کمبل تقسیمخواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑنا ہوگی، سکینہ عبداللہ خانڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کو تمغۂ امتیاز ملنا جامعہ لورالائی اور بلوچستان کیلئے تاریخی اعزازبکرا منڈی میں شہریوں اور بیوپاریوں کو سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، میر مرتضیٰ خان جمالیصفائی، پانی، نکاسی آب اور سڑکوں کی بہتری اولین ترجیحات ہیں، میر نعیم خان عمرانیکوئٹہ میں ناقص مصالحہ جات بنانے والا یونٹ سیل، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیسیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقنوڈیرو: نیشنل میڈیکل طبیہ کالج میں حکماء کا اجلاس، طب یونانی کے فروغ پر زور

آج کے کمسن بچے اور موبائل گیمز کی لت: والدین کی بے بسی اور سدِ باب

آج کے کمسن بچے اور موبائل گیمز کی لت: والدین کی بے بسی اور سدِ باب

تحریر
شکیل گوندل

آج کا دور ڈیجیٹل دور ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر ہمارے کمسن بچوں پر پڑا ہے۔ 5 سے 12 سال کے بچے اب کھیل کے میدانوں کی بجائے موبائل کی اسکرین پر PUBG، Free Fire، Subway Surfers اور دیگر گیمز میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ رجحان اب ایک لت کی شکل اختیار کر چکا ہے اور والدین اس کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
مسئلے کی شدت اسکی بڑھتی ھوئی لت کی وجہ سے تشویشناک ھوتی جا رھی ھے۔
موبائل گیمز کی عادت بچوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ مسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں کی کمزوری، سر درد اور نیند کی کمی عام ہو گئی ہے۔ گیمز میں تشدد اور جیت کا جنون بچوں کو چڑچڑا اور ضدی بنا رہا ہے۔ گھر کا کام، پڑھائی اور رشتہ داروں سے میل جول سب متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے “Gaming Disorder” کو ایک بیماری کے طور پر تسلیم کیا ہے جس کی علامات میں گیم پر کنٹرول نہ رہنا اور روزمرہ زندگی پر منفی اثر شامل ہیں۔ پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق 2 گھنٹے سے زائد اسکرین ٹائم بچوں کے لیئے نقصان دہ ہے۔
والدین کی بے بسی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ موبائل کو “بچوں کو مصروف رکھنے کا آسان ذریعہ” سمجھ کر خود ہی ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔ اب جب بچہ ضد کرتا ہے تو والدین کے پاس متبادل نہ ہونے کی وجہ سے وہ دوبارہ موبائل تھما دیتے ہیں۔ اس بڑھتے ھوئے سنگین مسلے کے سدِ باب کے لئے حل بھی موجود ھیں۔لہذا اس مسئلے کا حل سختی نہیں بلکہ حکمت عملی سے ممکن ہے۔
والدین کو چاھئیے کہ وقت کا تعین کر کے بچوں کے لیئے اسکرین ٹائم مقرر کریں۔ ماہرین 6 سال سے کم عمر بچوں کے لیئے 1 گھنٹہ اور بڑے بچوں کے لیئے زیادہ سے زیادہ 2 گھنٹے روزانہ کی تجویز دیتے ہیں۔ اس کے لیئے موبائل میں “Parental Control” اور “Screen Time Limit” آپشن استعمال کیے جا سکتے ہیں۔اس سلسلے میں بچوں کو کھیل کے میدانوں، کتابوں، پینٹنگ، سائیکلنگ اور فیملی گیمز کی طرف راغب کریں۔ جب بچے کو مصروف رکھنے کے لیئے صحت مند متبادل ملیں گے تو وہ خود موبائل چھوڑ دے گا۔رول ماڈل بنیں والدین خود کھانے کے دوران اور سونے سے پہلے موبائل کا استعمال کم کریں۔ بچے نقل سے سیکھتے ہیں۔
گیمز کی نگرانی بھی بہت ضروری ھے کہ بچوں کو کون سی گیم کھیلنے دینی چاھیئے اس کا انتخاب والدین کریں۔ تشدد والی گیمز کے بجائے تعلیمی اور تخلیقی ایپس متعارف کروائیں۔مشترکہ وقت ہفتے میں 2-3 بار فیملی کے ساتھ بغیر موبائل کے وقت گزاریں۔ کھانے ایک ساتھ کھائیں اور بات چیت کریں تاکہ بچے کو توجہ گھر سے ملے۔
موبائل گیمز بری چیز نہیں، لیکن بے جا استعمال تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں کے دوست بنیں، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ٹیکنالوجی کو تعلیم و تربیت کے لیئے استعمال کریں۔ اگر ابھی سے سدِ باب نہ کیا گیا تو ہماری آنے والی نسل جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور ہو جائے گی۔اللہ کریم ھمارے بچوں کو اس علت سے نجات عطا فرما ۔ آمین ۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *