Banner

سوشل ایکو سسٹم و ہماری بقاء اور چوہے کی ہجرت سے عالمی سیاست کے زوال تک

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

سوشل ایکو سسٹم و ہماری بقاء اور چوہے کی ہجرت سے عالمی سیاست کے زوال تک

محترم قارئین ۔ ملک کی حیثیت بالکل ایک انسانی بدن کی طرح ہوتی ہے، جس کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ قدرت کا یہ اصول صرف حیاتیات تک محدود نہیں، بلکہ انسانی معاشرت، سیاست اور عالمی نظامِ توازن پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ اس سچائی کو سمجھنے کے لیے لوک داستان کی اس حیران کن مثال پر غور کریں جہاں ایک گھر میں میاں بیوی، ایک گائے، ایک بکری اور ایک کبوتر امن سے رہتے تھے کہ اچانک وہاں ایک چوہے نے بسیرا کر لیا۔ گھر کے مالک نے چوہے کو پکڑنے کے لیے اسپرنگ والا چوہا دان لانے کا فیصلہ کیا، تو خوفزدہ چوہا فریاد لے کر پہلے گائے، پھر بکری اور آخر میں کبوتر کے پاس گیا کہ “گھر والے چوہا دان لا رہے ہیں، میری جان خطرے میں ہے!” مگر سب نے متبادل اور خود غرضانہ جواب دیا کہ “اس میں ہمارا کیا کام؟ چوہا دان تو تمہارے لیے ہے!” مایوس چوہا وہ گھر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ رات کے اندھیرے میں چوہے دان کے بجنے کی آواز آئی، تو مالکن نے اندھیرے میں چوہا سمجھ کر ہاتھ ڈالا، مگر وہ دراصل ایک زہریلے سانپ کی دُم تھی جو چوہے دان میں پھنس چکا تھا۔ سانپ نے خاتون کو ڈس لیا۔ طبیب نے آ کر تشخیص کی کہ سانپ کے زہر کا توڑ کبوتر کا شوربہ ہے، چنانچہ کبوتر ذبح کر دیا گیا۔ خاتون کی حالت نہ سنبھلی تو عیادت کے لیے آنے والے رشتہ داروں کی ضیافت کے لیے بکری کو ذبح کرنا پڑا، اور جب ایک ہفتے بعد خاتون انتقال کر گئیں تو تعزیت کے لیے آنے والے ہجوم کے کھانے کا بندوبست کرنے کے لیے اکلوتی گائے بھی ذبح کر دی گئی۔ یوں ایک چوہے کی وارننگ کو نظر انداز کرنے کی قیمت پورے گھرانے نے اپنی جان دے کر چکائی، اور وہ گھر اجڑ گیا۔اسی باہمی جڑے ہوئے توازن کو سائنسی زبان میں “ایکو سسٹم” یا ماحولیاتی نظام کہتے ہیں، جو دراصل قدرت کا ایک مکمل گھر ہے جہاں جاندار اور بے جان چیزیں ایک مضبوط رشتے کے ذریعے مل کر زندگی کا پہیہ چلاتی ہیں۔ ایکو سسٹم کے تین بنیادی اجزا ہوتے ہیں: اول جاندار (درخت، انسان، چوہا، سانپ، بیکٹیریا)، دوم بے جان عناصر (دھوپ، پانی، ہوا، مٹی)، اور سوم ان کے درمیان قائم پوشیدہ رشتہ (فوڈ چین اور پانی کا چکر)۔ اگر ہم گلستان کے پہاڑی ایکو سسٹم کا مطالعہ کریں، تو معلوم ہوگا کہ دھوپ اور بارش سے گھاس اگتی ہے، جسے چوہا کھاتا ہے؛ چوہے کو سانپ نگلتا ہے اور سانپ کو عقاب اپنی خوراک بناتا ہے۔ جب عقاب مرتا ہے تو وہ گل سڑ کر مٹی بن جاتا ہے، جس سے دوبارہ درختوں کو کھاد ملتی ہے۔ اس دائرے میں سے اگر صرف چوہے کو بھی مائنس کر دیا جائے، تو سانپ بھوک سے مر جائیں گے اور گھاس کی کثرت پورے نظام کو تباہ کر دے گی۔ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اس قدرتی نظام (جنگل، دریا، صحرا) میں جب بھی انسان اپنے بنائے ہوئے مصنوعی نظام (کھیت، شہر) کی ہوس کے باعث چھیڑ چھاڑ کرتا ہے، تو فطرت سخت سزا دیتی ہے، جہاں ایک کی غلطی کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔اس کی تاریخی اور جغرافیائی مثال برصغیر میں انگریزوں کی “گریٹ گیم” کی صورت میں ملتی ہے، جب انہوں نے سرحدوں پر اپنے دفاع اور تسلط کے لیے وسیع پیمانے پر جنگلات کاٹ کر ریلوے لائنیں بچھائیں اور مشہور شیلاباغ ٹنل کی تعمیر سے زیرِ زمین پانی کے صدیوں پرانے قدرتی راستے بند کر دیے۔ اس چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں کا مقامی ماحولیاتی نظام زمین بوس ہو گیا، چوہے، سانپ اور پرندے ہجرت کر گئے، کسانوں کی زمینیں بنجر ہوئیں اور یوں پورا علاقہ معاشی و ماحولیاتی بحران کا شکار ہو گیا۔ یہی ماحولیاتی اصول آج کے جدید دور میں “سیاسی ایکو سسٹم” پر بھی من و عن صادق آتا ہے، جس کا احوال کتاب “[واشنگٹن سے بیجنگ تک]” کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ آج جب امریکہ افغانستان اور دیگر خطوں میں ڈرون حملے کرتا ہے یا چین سی پیک (CPEC) جیسے عظیم الشان معاشی منصوبوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتا ہے، تو وہ دراصل دنیا کا سیاسی توازن بدل رہے ہوتے ہیں۔ جس طرح جنگل کا ایکو سسٹم خراب ہونے سے شیر اور بڑے شکاری وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جب کسی خطے کا سیاسی، معاشی اور جغرافیائی توازن بگڑتا ہے تو پوری کی پوری قومیں اور تہذیبیں زندہ درگور ہو جاتی ہیں یا وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، اور اگر ہم نے رب کے بنائے ہوئے توازن اور اصولوں کو پسِ پشت ڈالا، تو چوہے دان میں پھنسنے والا سانپ کسی کو بھی معاف نہیں کرے گا۔

سوشل ایکو سسٹم و ہماری بقاء اور چوہے کی ہجرت سے عالمی سیاست کے زوال تک

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us