Banner

بھارتی آئین سے دفعہ 370 کا خاتمہ اور مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کی کوشش

Share

Share This Post

or copy the link

بھارتی آئین سے دفعہ 370 کا خاتمہ اور مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کی کوشش
تحریر ،شہزاد بھٹہ
یہ مضمون اگست 2019 میں تحریر کیا گیا جب بھارت نے ائین سے دفعہ 370 کا خاتمہ کیا تھا
بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو آئینِ ہند کے آرٹیکل 370 اور 35A کا خاتمہ کر کے جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ریاست کو دو وفاقی حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کر کے براہِ راست وفاقی کنٹرول میں لے لیا گیا۔
جو کام بھارتی حکومت 70 سالہ دور میں نہ کر سکا وہ مجاھد اسلام عمران خان کے چار سالہ دور حکومت میں مودی سرکار نے سرانجام دے دیا
مقبوضہ کشمیر 1948 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ھے جب دونوں ممالک کے درمیان پہلی جنگ ھوئی جنگ میں اپنی خراب صورتحال کے باعث ہندوستان مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا اور اس سے درخواست کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگی بندی کرائی جائے اور مسلہ کشمیر کو حل کروانے میں اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے اقوام متحدہ نے قرارداد منظور کی کہ مقبوضہ کشمیر کا فیصلہ استصواب رائے کے مطابق کیا جائے
مسلہ کشمیر پر اب دونوں ممالک کے درمیان تین خوفناک جنگیں ھو چکی ھیں
بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کی ذیلی شق 35 اے کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر کو یونین میں ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی اور جموں و کشمیر کو جدا گانہ حیثیت دیتی ھے یہ دفعہ ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتی ھے لیکن اس حیثیت کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے تبدیل کردیا گیا ہے۔
بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی ھے
بی جے پی کی مودی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین سے دفعہ 370 میں تبدیلی کے نتیجے میں جموں و کشمیر کو ایک ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا۔
اب ریاست جموں و کشمیر کی جگہ مرکز کے زیرِ انتظام دو علاقے بن جائیں گے جن میں سے ایک کا نام جموں و کشمیر اور دوسرے کا لداخ ہو گا اور ان دونوں علاقوں کا انتظام و انصرام لیفٹیننٹ گورنر چلائیں گے۔
جموں کشمیر میں قانون ساز اسمبلی ہو گی تاہم لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔
امت شاہ کے مطابق جموں و کشمیر کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے کا فیصلہ علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال اور مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
آرٹیکل 370 کی صرف ایک شق کو برقرار رکھا گیا ہے جس کے مطابق صدرِ مملکت تبدیلی اور حکم جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔
اس کے علاوہ اب جموں و کشمیر کے داخلہ امور وزیراعلیٰ کی بجائے براہِ راست وفاقی وزیرِ داخلہ کے تحت آ جائیں گے جو لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے انھیں چلائے گا۔
صدر کی منظوری کے بعد آرٹیکل 370 ختم کرنے کے حوالے سے بل بھارت کے ایوان بالا راجیا سبھا میں پیش کیا گیا جس پر بحث ہوئی۔ اور لوک سبھا نے اس کی منظوری دے دی
خیال رہے کہ خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔
بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کی وجہ سے صرف تین معاملات ہی مرکزی حکومت کے پاس تھے، جن میں سیکیورٹی، خارجہ اور مواصلات سے متعلق امور شامل ہیں جب کہ ذیلی شق دفعہ 35-اے کے تحت جموں کشمیر کو ریاست کی حیثیت حاصل تھی اور تمام امور کا فیصلہ مقامی اسمبلی کے ہاتھ میں تھا۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ھے پاکستان میں کے کا لفظ کشمیر کی نمائندگی کرتا ھے مگر بھارت کی طرف سے اپنے آئین سے دفعہ 370 ختم کرکے متنازعہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے پر نہ ھی امیر المومنین عمران خان کی حکومت اور نہ ھی اقوام متحدہ اور نہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کچھ بول رھی ھے
آخر اسلامی ممالک اس مسلہ پر کیوں بولیں ؟؟؟؟؟؟؟
ان ممالک کی بھارت کے ساتھ کروڑوں اربوں کی تجارت جو چل رھی ھے
اب بس نعرہ ھی رہ گیا ھے کہ کشمیر بنے گا پاکستان

بھارتی آئین سے دفعہ 370 کا خاتمہ اور مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کی کوشش

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us