Banner

لفظوں کا درویش منو بھائی کی یاد میں روشن ہوتی ایک معنوی شام

Share

Share This Post

or copy the link

لفظوں کا درویش
منو بھائی کی یاد میں روشن ہوتی ایک معنوی شام

تحریر منشا قاضی

لاہور کی ادبی فضا میں ایک بار پھر وہی مانوس سی خوشبو رچ بس گئی، جو کبھی ایک درویش صفت قلمکار کے لفظوں سے مہکتی تھی۔ گلبرگ کے باوقار مقام، فردوس مارکیٹ میں واقع ہوٹل نائن ٹری میں منعقد ہونے والی یہ یادگار تقریب دراصل محض ایک اجتماع نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی روحانی و فکری محفل تھی جہاں لفظ، یاد اور احساس ایک دوسرے میں تحلیل ہو کر منو بھائی کے وجود کو ازسرِنو محسوس کر رہے تھے۔ اس تقریب کا انعقاد “منو بھائی فورم، لاہور” نے کیا، جو اپنے محبوب ادیب کی یاد کو چراغ کی مانند روشن رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔
منو بھائی، محض ایک صحافی ،کالم نگار یا شاعر نہیں تھے، یا ان کا تعلق صرف سُندس فاؤنڈیشن سے ہی نہ تھا بلکہ وہ ایک عہد، ایک سوچ اور ایک درد مند دل کا استعارہ تھے۔ اس شام، ان کی یاد میں سجنے والی محفل میں شرکت کرنے والے ہر فرد کی آنکھوں میں عقیدت اور دل میں ایک انجانی سی کسک تھی، جیسے کوئی اپنا بچھڑا ہوا سایہ قریب آ کر پھر سے اوجھل ہو رہا ہو۔
تقریب کی نظامت کے فرائض نہایت خوبصورتی سے قراة العین حیدر نے انجام دیئے اور ممتاز شاعر دانشور شعیب بن عزیز نے منو بھائی فورم کے چیئرمین کے طور پر اپنی شستہ اور شگفتہ گفتگو سے سامعین کو منو بھائی کی یادوں اور ان کی باتوں کے سنگم پر لا کر حیرت انگیز معلومات فراہم کیں۔ جن کے الفاظ میں ایک ایسی نرمی اور تاثیر تھی جو محفل کو ایک لڑی میں پروئے رکھتی رہی۔ ان کی آواز گویا ایک پل تھی، جو ماضی کی یادوں کو حال کے احساس سے جوڑ رہی تھی۔
معروف ادیبہ نیلم احمد بشیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منو بھائی کا قلم محض لفظوں کا کھیل نہیں تھا، بلکہ وہ ایک ایسا آئینہ تھا جس میں معاشرے کی سچائیاں بے نقاب ہوتی تھیں۔ ان کے نزدیک منو بھائی نے دکھ کو لفظ دیا اور لفظ کو وقار۔
چیئرمین مسلم ہینڈز سماجی سائنسدان اور مذہبی رہنما سید لختِ حسنین نے منو بھائی کی شخصیت کے روحانی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ انسانیت کے سچے داعی تھے، جن کے ہاں مذہب اور محبت ایک ہی دریا کی دو لہریں تھیں۔ ان کی گفتگو میں ایک گہرائی تھی، جیسے وہ منو بھائی کے باطن کو چھو کر آئے ہوں۔
ڈاکٹر احمد بلال، جو منو بھائی کے بھانجے ہیں، نے اپنے خاندانی تعلق کے حوالے سے ان کی سادہ مگر باوقار زندگی کی جھلکیاں پیش کیں۔ ان کے بقول، منو بھائی ایک ایسے چراغ تھے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتے رہے۔
دیگر مقررین، جن میں صوفیہ بیدار، صائمہ ارم اور آصف افان شامل تھے، نے منو بھائی کے فن اور شخصیت کے مختلف رنگوں کو اجاگر کیا۔ کسی نے انہیں لفظوں کا صوفی کہا، تو کسی نے انہیں سچ کا مسافر قرار دیا۔
اس بامعنی تقریب کے روحِ رواں خالد محمود قریشی تھے، جو منو بھائی فورم کے کوآرڈینیٹر اور مسلم ہینڈز لاہور کے ریجنل ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ان کی کاوشوں سے یہ محفل ایک یادگار اور متاثر کن اجتماع میں ڈھل گئی، جہاں ادب، محبت اور یاد کا حسین امتزاج نظر آیا۔
تقریب میں شریک معزز مہمانوں میں چیئرمین سی ٹی این مسعود علی خان، معروف ٹی وی آرٹسٹ حسیب پاشا (حامون جادوگر)، معروف سینیئر لکھاری اور سفرنامہ نگار محترمہ سلمیٰ اعوان، پبلشر خالد شریف، ماہر تعلیم نور الزماں رفیق، سینئر صحافی اورکالم نگار مصنف غافر شہزاد، شاہدہ دلاور، توقیر احمد شریفی، فرح ہاشمی، شازیہ مفتی ، ظفر علی خان ثانی حکیم عنایت اللہ نسیم سوھدروی مرحوم کے سعادت مند فرزند حکیم راحت نسیم سوھدروی جو شاہ جی کے پہلو میں پہلو بدل بدل کر حکیمانہ گفتگو فرما رہے تھے ان کی بھی زیارت ہو گئی اور معروف بصری فنکار ہارون الرشید سمیت متعدد علمی و ادبی شخصیات شامل تھیں۔ ان سب کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ منو بھائی کی محبت آج بھی دلوں کو ایک مرکز پر جمع کر سکتی ہے۔
یہ شام محض تقاریر تک محدود نہ رہی، بلکہ یہ ایک ایسا لمحہ تھی جہاں ہر شخص اپنے اندر جھانک رہا تھا، جیسے منو بھائی کے لفظ اس کے دل میں اتر کر کوئی خاموش مکالمہ چھیڑ رہے ہوں۔
تقریب کے اختتام پر پرتکلف ہائی ٹی کا اہتمام کیا گیا، جس نے اس فکری محفل کو ایک خوشگوار انجام دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شام اپنے اختتام کے باوجود ختم نہ ہوئی، بلکہ ہر شریک کے دل میں ایک چراغ کی صورت روشن ہو گئی—ایک ایسا چراغ، جس کی لو میں منو بھائی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

یہ کون ہنس کے صحنِ چمن سے گزر گیا

اب تک ہیں پھول چاکِ گریباں کیئے ہوئے

لفظوں کا درویش منو بھائی کی یاد میں روشن ہوتی ایک معنوی شام

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us