Banner

عوام کو پانی کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں

Share

Share This Post

or copy the link

عوام کو پانی کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں،بلال احمد زرکون
سب ڈویڑنل افیسر انجینئر بلال احمد زرکون محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کوئٹہ ڈویژن
رپورٹ و انٹرویو: نور احمد راہی
پانی انسانی زندگی کی بقا، صحت اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔ کسی بھی خطے کی خوشحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کے عوام کو صاف، محفوظ اور بلا تعطل پانی کی فراہمی کس حد تک یقینی ہے۔ صوبہ بلوچستان، بالخصوص کوئٹہ شہر، طویل عرصے سے پانی کی شدید قلت، زیرِ زمین پانی کی گرتی سطح، موسمیاتی تبدیلیوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ان پیچیدہ مسائل کے باوجود محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کوئٹہ ڈویژن نے نہایت منظم حکمت عملی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مو¿ثر نگرانی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قابلِ تحسین اقدامات کیے ہیں۔
سب ڈویڑنل افیسر انجینئر بلال احمد زرکون، جو اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانتداری اور عوامی خدمت کے جذبے کے باعث محکمہ میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں، نے اپنے تفصیلی انٹرویو میں بتایا کہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید اور پائیدار حل اختیار کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی طویل اور غیر یقینی لوڈشیڈنگ پانی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے، جس کے پیش نظر ٹیوب ویلز کو مرحلہ وار سولر سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف توانائی کے بحران کا مو¿ثر حل ہے بلکہ حکومتی وسائل کی بچت اور ماحول دوست نظام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اور عوام کو ہر وقت بانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے
انہوں نے وضاحت کی کہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں بشمول کشمیر آباد، نواں کلی، دومڑان کچلاک، کلی محمد اعظم، روندوزئی، اغبرگ، سمنگلی، ہنہ اوڑک، بروری روڈ، چشمہ اچوزئی، میاں غنڈی، سریاب اور کیچی بیگ میں سولرائزیشن کے منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف پانی کی فراہمی کا دورانیہ بڑھا ہے بلکہ شہریوں کو مستقل بنیادوں پر پانی دستیاب ہونے لگا ہے، جو ماضی میں ایک بڑا مسئلہ تھا۔
سب ڈویڑنل افیسر انجینئر بلال احمد زرکون نے مزید بتایا کہ پی ایس ڈی پی (PSDP) کے تحت 46 سے زائد واٹر سپلائی منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں، جن میں ہزارہ ٹاو¿ن، شاہوزئی، خروٹ آباد، ہزارگنجی، سریاب، شیخ ماندہ اور میاں غنڈی جیسے اہم علاقے شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں نئی پائپ لائنز کی تنصیب، پرانی لائنوں کی مرمت، ذخیرہ آب کے ٹینکوں کی تعمیر اور جدید فلٹریشن سسٹمز کی تنصیب شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام منصوبے مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے لیے سخت مانیٹرنگ کا نظام نافذ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو جلد از جلد فائدہ پہنچایا جا سکے۔
محکمہ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں اس وقت 100 سے زائد واٹر سپلائی اسکیمات فعال ہیں، جبکہ کچلاک میں 12 سے زائد اسکیمات مختلف علاقوں کو پانی فراہم کر رہی ہیں۔ کوئٹہ ڈویژن میں 77 ریگولر اسکیمات مسلسل کام کر رہی ہیں، جن کی بدولت لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ ان اسکیمات کی مو¿ثر دیکھ بھال، بروقت مرمت اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی محکمہ کی ترجیحات
میں شامل ہے۔انہوں نے سیوریج کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت پر بھی تفصیل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جدید سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ مکمل ہو چکا ہے، جو یومیہ 18 لاکھ گیلن پانی کو قابلِ استعمال بنائے گا۔ اس کے علاوہ چکی شاہوانی میں بھی ایک جدید پلانٹ زیرِ تکمیل ہے، جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ پانی کے متبادل ذرائع بھی دستیاب ہوں گے۔
پانی کے اضافی ذرائع کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کے اطراف میں 26 نئے ٹیوب ویلز نصب کیے جا چکے ہیں، جو مجموعی طور پر یومیہ 50 لاکھ گیلن پانی فراہم کر رہے ہیں۔ اسی طرح دشت کے علاقے میں نصب ٹیوب ویلز سریاب کے علاقوں کو روزانہ 8 سے 10 لاکھ گیلن پانی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مانگی ڈیم کی تکمیل سے کوئٹہ کے عوام کو یومیہ 80 لاکھ گیلن پانی فراہم کر کے شہر کے دیرینہ مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
سب ڈویڑنل افیسر انجینئر بلال احمد زرکون نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ محکمہ کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ صارفین کی جانب سے پانی کے بلوں کی عدم ادائیگی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے واجبات بروقت ادا کریں تاکہ پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر، مستحکم اور پائیدار بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ
صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبدالرحمن کھیتران کی قیادت میں محکمہ نے ترقی کی نئی راہیں متعین کی ہیں۔ ان کی بہترین پالیسیوں، وژن اور عوام دوست اقدامات کے باعث نہ صرف کوئٹہ بلکہ پورے بلوچستان میں پانی کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کی ترجیحات میں دور دراز علاقوں تک صاف پانی کی فراہمی، نئی اسکیمات کا اجراء، شامل ہے۔ انہوں نے ہر دور حکومت میں عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان میں پانی کے متعدد ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل ہو رہے ہیں۔
اسی طرح سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محمد ہاشم خان غلزئی کی بہترین انتظامی صلاحیت، بروقت فیصلے اور شفافیت پر مبنی نظام نے محکمہ کی کارکردگی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔
سب ڈویڑنل افیسر انجینئر بلال احمد زرکون نے چیف انجینئر محمد اعظم خان کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ا±ن کی مو¿ثر قیادت میں بلوچستان بھر میں متعدد آبی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ کئی اہم سکیمیں کامیابی سے مکمل بھی کی جا چکی ہیں۔
سپرنٹنڈنگ انجینئرز محمد عیسی خان مری کی فیلڈ میں مسلسل موجودگی، تکنیکی رہنمائی اور منصوبہ جات کی مو¿ثر نگرانی نے ترقیاتی کاموں کے معیار کو بہتر بنایا ہے۔
سب انجینئر بلال احمد زرکون جیسے افسران محکمہ کا قیمتی اثاثہ ہیں، جو نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات میں پیش پیش ہیں۔ ان کی انتھک محنت، دیانتداری اور عوامی خدمت کا جذبہ نوجوان انجینئرز کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ
پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ پانی کا استعمال احتیاط سے کریں، غیر ضروری ضیاع سے بچیں، گھریلو سطح پر لیکیج کو فوری درست کریں اور پانی کے بل باقاعدگی سے ادا کریں۔ یاد رکھیں، پانی کی بچت ہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

عوام کو پانی کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us